’’گمشدہ ستارے‘‘

تاریخ  کی ورق گردانی کریئے تو شخصیتوں کے مختلف رنگ دیکھنے کو ملیںگے۔ کچھ شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں لوگ کسی اعلیٰ مقصد کے تعاقب میں پردے کے سامنے پاتے ہیں، کئی ایسی شخصیات ہوتی ہیں جو پس پردہ کام کرنا جانتی ہیں۔جب منزل پرخطر اور عظیم قربانیوں کی متقاضی بھی ہو ، تو لوگ اکثر اس راستے کا راہی بننا پسند نہیں کرتے ۔ ہاں کچھ پر عزم شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے نام قربانیاں بھی درج ہوتی ہیں اور ناموری بھی۔ اور ایک طبقہ بھی اس راہ میں نظر آتاہے، جو پر عزم بھی ہوتا ہے، جس کی قربانیاں بے کراں ہوتی ہیں لیکن ناموری ان کے مقدر میں ہم کم ہی پاتے ہیں۔یہ طبقہ مانو بہادر یار جنگ کی اس تقریر کا عملی نمونہ ہوتے ہیں جو انہوں نے 26 دسمبر کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں کی تھی ۔ یہ وہ طبقہ ہے جو شجر ملت میں پھول بن کر چمکنا نہیں جانتے، جو پھل بن کر کام و دہن کو شیریں کرنا نہیں جانتے بلکہ یہ وہ طبقہ ہے جو کھاد بن کر زمین میں جذب ہوتے ہیں اور جڑوں کو مضبوط کرتے ہیں، جو مٹی اور پانی میں مل کر رنگین پھول پیدا کرتے ہیں، جو خود فنا ہوتے ہیں اور پھلوں میں لذت اور شیرینی پیدا کرتے ہیں، یہ کاخ و ایوان کے نقش و نگار بن کر نگاہ نظارہ باز کو خیرہ کرنا نہیں جانتے بلکہ ان بنیاد کے پتھروں کے مانند ہوتے ہیں جو ہمیشہ کے لئے زمین میں دفن ہوکر اور مٹی کے نیچے دب کر اپنے اوپر عمارت کی مضبوطی کی ضمانت قبول کرتے ہیں۔ 
عظیم نقاد اور قلم کار مختار مسعود اپنی شہرہ آفاق کتاب "آواز ِدوست" میں ان ہی لوگوں کے متعلق رقمطراز ہیں "یہ لوگ بھی عجیب ہیں ،ان کو اس بات سے ہرگز کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ یاد رکھے جائیں گے یا بھلا دئے جائیں گے – غرض ہے تو صرف یہ کہ اس بے ڈھب دنیا کو کیونکر ڈھب پر لایا جاسکے، ان میں سے ہر شخص نے دنیا کو جس حال میں پایا اس سے بہتر حال میں چھوڑا اور یہی بات انہیں عام آدمی سے ممتاز کرتی ہے، یہ لوگ فرہاد کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی ساری عمر پہاڑ کھودتے اور نہر نکالتے گزر جاتی ہے، اس نفسانفسی کی دنیا میں جہاں ہر شخص صرف اپنے لیے زندہ ہے، یہ فرہادی گروہ دوسروں کے لیے زندگی لٹا دیتا ہے ۔ یہ لوگ دنیا بھر کی مصیبتیں نقد حیات کے عوض خرید لیتے ہیں اور پھر بھی اس سودے میں انہیں خسارہ نہیں ہوتا، یہ گروہ نہ ہوتا تو دنیا غیر آباد ہوتی اور یہ گروہ ناپید نہ ہوا تو انسان ماورا میں بھی ایک نئی دنیا آباد کرے گا ۔"
یہ وہ ہیروز ہوتے ہیں جن کو انگریزی میں unsung heroes  کا خطاب ملتا ہے۔ یہی طبقہ اصل میں کسی قوم کے محسن ہوتے ہیں اور اپنے  محسنوں کو یاد کرنا اور ہمیشہ زندہ رکھنا قوم کی آئندہ نسلوں کا کام ہوتا ہے۔ ان گمنام شخصیتوں کو کھوجنا پڑتا ہے۔ وگرنہ یہ لوگ آپ کی نظر سے کبھی نہیں گزریں گے۔ جموں و کشمیر میں بھی ایک اعلی قومی مقصد کے حصول میں کشمیری قوم ۱۹۳۱ء سے بے مثل قربانیاں پیش کرتا آرہی ہے۔ اس قوم نے بھی ہر طبقے کے لوگ دیکھے ہیں.،یہاں بھیunsung heroes  کی ایک نرسری ہے، ایک گلستان ہے، مختلف رنگوں کے پھول اس گلستاں میں بکھرے پڑے ہیں لیکن ان پھولوں کو ایک خوبصورت گل دستے میں جمع کرنا مشکل مگر مبارک کام ہوتا ہے ۔ یہی مبارک کام برادر ظہیر الدین صاحب نے انجام دیا ہے۔ نہایت ہی قابل فخر اور لائقِ داد کام ، بلکہ مجھے کہنے دیجئے کہ یہ گلدستہ ایک کتابی صورت میں جمع کر کے اپنی قوم اور تاریخ نویسی پر ظہیر صاحب نے ایک احسان کیاہے۔
برادر ظہیرالدین نے اپنی ۲۸۸صفحات کی کتاب ’’گمشدہ ستارے ‘‘ میں اسی طبقے سے منسلک ۱۰۵؍درخشندہ مگر گمنام ستاروں کو ایک گلدستے میں جمع کیا ہے۔ یہ کتاب اس کوشش کا نام ہے جس سے یہ روشن ستارے گمنامی کے بادلوں کے پیچھے کھو جانے سے بچ جائیں۔ ان عظیم شخصیات کا تعلق اگرچہ زندگی کے الگ الگ شعبہ جات سے رہا ہے لیکن ان میں جو قدر مشترک ہے وہ ہے مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی بحالی کا جنون۔ یہ وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہوں نے مظلوم قوم کیلئے مصائب و مشکلات برداشت کیں۔ 
کتاب کے مصنف ظہیر الدین کشمیر کی جانی مانی ہستی ہیں۔ آپ نے ایل ، ایل ، بی کے علاوہ ماس کمیونکیشن اور جرنلزم میں کشمیریونیورسٹی سے ڈگری حاصل کی ہے۔معروف قلم کار کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ کتاب کا مقدمہ سرکردہ صحافی یوسف جمیل نے لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’کشمیر کے سیاسی اْفق پر کئی ایسے ستارے موجود ہیں جو لوگوں کی نظروں سے اْوجھل تو ہیں لیکن ان کی چمک کئی دہائیاں گزرنے  کے باوجود قائم و دائم ہے اور اس کے حسن کو دوبالا کرتی ہیں۔ ان سے پھوٹنے والی کرنیں اس سرزمین کو تابناک اور اس پر بسنے والوں کی قدرومنزلت میں بے پناہ اضافہ کردیتی ہیں۔ یہ مادر وطن کے وہ سپوت ہیں جنہیں زمانہ فراموش کرگیا ہے۔ یا پھر بہت کم لوگوں کو ان کے بارے میں معلومات حاصل ہیں بلکہ ان کے بعد آنے والی نسلیں اس پورے جھرمٹ اور اس کی دلکش روشنیوں کی چمک اور پاکیزہ تابندگی کے لازوال سر چشمے کے خزانوں سے استفادہ کرنے اور ان کا انتخاب متحرک قوت کے طور پر کرنے میں چوک کرگئی ہیں۔ ‘‘  (صفحہ 12)
مزید لکھتے ہیں:
’’ظہیر الدین نے کشمیر کے ان ہی گمشدہ ستاروں کے کوائف جمع کرکے انہیں کتابی صورت میں پیش کیا ہے۔ یہ کئی سال کی محنت شاقہ کی بدولت ممکن ہوا۔‘‘ (صفحہ 15)
کتاب میں جن ۱۰۵ افراد کا تذکرہ ہے ان کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کرنے کیلئے مصنف کو بہت عرق ریزی سے کام لینا پڑا ہو گا۔ یہ کتاب انتھک محنت کا نتیجہ ہے کیونکہ ان میں اکثریت اُن حضرات کی ہے جن کی معلومات دیگر کتابوں میں بھی نہیں ملتی۔ یہ مضامین ابتداء میں روزنامہ’’ الصفا‘‘ اور’’ بلند کشمیر‘‘ میں شائع ہوئے بعد میں کشمیر کے موقراخبار ’’کشمیر عظمیٰ ‘‘میں یہ مضامین شائع ہوئے۔ کتاب میں جن شخصیات کا تذکرہ ملتا ہے ان میں صحافی بھی ہیں ،ڈاکٹر بھی ، وکلا بھی ہیں اور تاجر بھی ۔الغرض زندگی کے مختلف شعبہ جات سے وابستہ سرزمین کشمیرکے سپوت ہیں۔ کتاب سے اس مذموم پروپیگنڈے کی نفی ہوتی ہے کہ مسئلہ کشمیر کیلئے صرف مسلمانوں کا ایک طبقہ قربانیاں دے رہاہے۔حالانکہ کتاب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ کشمیریوں کے حقوق کیلئے جہاں مسلمانوں نے قربانیاں دی ہیں، وہیں بہت سارے غیر مسلموں نے بھی ا س میں اپنا حصہ ادا کیا ہے۔پنڈت راگوناتھ ویشنوی، پنڈت جیا لال چودھری ایڈوکیٹ ، ویدھ بھیسین ، شام لال یچھا وغیرہ نے بھی اپنا حصہ ادا کیا۔ اسی طرح جہاں سنی مسلمانوں نے قربانیاں دی ہیں ،وہیں مصنف نے کتاب میں کئی شیعہ حضرات کے کوائف بھی بیان کئے ہیں مثلاً آغا شوکت علی، حکیم علی رضا ، حکیم قاسم علی ، منشی اسحاق وغیرہ۔ جہاں مردوں نے قربانیاں دی ہیں ،وہاں خواتین نے بھی اپنا حصہ ادا کیا۔ کتاب میں کئی ایسی خواتین کا بھی ذکر ملتا ہے جنہوں نے کشمیریوں کے حقوق کیلئے اپنی زندگیاں نچھاور کردی ہیں۔ بہرو بیگم جوکہ 30 سال کی عمر میں بارہمولہ میں شہید کی گئیں، ان کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں:
’ ایک جلوس ۲۸جنوری ۱۹۳۲ء کی ایک سرد صبح کو بارہمولہ کشمیر میں نکالا گیا، جلوس میں صرف خواتین نے شرکت کی شہداء کشمیر کے حق میں بہرو بیگم عرف فریثری بھی شامل تھی۔ پولیس نے اس جلوس کو روکااور خواتین کو گالیاں دی۔ فریثری بیگم یہ برداشت نہ کرسکی اس کے پاس کانگڑی تھی جس میں دہکتے انگارے تھے۔ اس نے کانگڑی سب انسپکٹر کے منہ پر دے ماری جس سے اس کے چہرے اور دوسرے اعضاء کی کھال جل گئی۔اس کے بعد ایک سپاہی پھریثری بیگم کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ اسطرح اس مجاہدہ نے جام شہادت نوش کیا۔ (صفحہ۔ 36)
کتاب اس پروپگنڈہ کی بھی نفی کرتی ہے جس سے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کشمیر کی تحریک کے ساتھ صرف کم پڑھا لکھا طبقہ وابستہ رہا ہے۔ کتاب میں ایسی شخصیات کا تذکرہ ملتا ہے جو کہ اعلی عہدوں پر فائز رہے ہیں لیکن کشمیریوں کے حقوق کیلئے انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان میں ڈاکٹر ابواعلیٰ (معالج) ڈاکٹر عبدالاحد گورو (سرکردہ معالج)، ڈاکٹر فاروق عشاعی ، ڈاکٹر غلام قادر وانی (اسکالر) ، ڈاکٹر ایوب ٹھاکر (Nuclear Scientist) خواجہ غلام محی الدین رہبر(صحافی) ویدھبسیم (صحافی)، پنڈت جیہ لال چودھری ایڈوکیٹ ، عبدالقادر جیلانی ایڈوکیٹ ، غلام نبی ہاگرو ایڈوکیٹ قابل ذکر ہیں. مصنف نے  پڑھی لکھی  جواں سالہ آسیہ جیلانی کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ آسیہ جیلانی 30 سال کی عمر میں شہید ہوئی۔ آسیہ نے  Presentation Conventسے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ آپ نے فرانس کی مشہور نیوز سروس (AFP) کیلئے بھی کام کیا۔’’ ٹائمز آف انڈیا‘‘ نے بھی ان کو فیلوشپ دی لیکن آسیہ نے حقوق انسانی کیلئے کولیشن آف سول سوسائٹی کیلئے کام کرنا پسند کیا۔ ۲۰۰۴ء میں انسانی حقوق کے سلسلے میں اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے ایک دھماکے میں شہید ہوئی۔ الغرض کتاب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کشمیر کیلئے سماج کے ہر طبقہ کے لوگوں نے قربانیاں پیش کی ہیں۔ کشمیریوں کیلئے صحافیوں نے ۱۹۳۱ء سے ہی کافی قربانیاں پیش کی ہیں، لکھتے ہیں:
 ’’تحریک کشمیر کے آغاز سے ہی یہاں کے صحافیوں نے اپنے پیشے کی عظیم روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بے شمار قربانیاں دی۔ صحافی غلام محمد کشفی کو شیخ محمد عبداللہ نے سرِعام پیٹا اور حد متارکہ کے اْس پار دھکیل دیا۔ پریم ناتھ بزاز اور جگن ناتھ ستھو کو جلاوطن کیا گیا ، ’’الصفا‘‘کے مدیر محمد شعبان وکیل کو گولیاں مار کر موت کی نیند سلادیا گیا‘ ’’وادی کی آواز‘‘ کے مدیر غلام نبی شیداکو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کیا گیا۔ش ۔م ۔احمد پر بے تحاشہ گولیاں چلائی گئیں،  یوسف جمیل کو گرفتار کرنے کے علاوہ ایک پارسل بم بھیجا گیا۔ جس سے فوٹو جرنلسٹ ’مشتاق علی‘ شہید ہوگیاوغیرہ وغیرہ۔ ‘‘(صفحہ 175 )
(بقیہ بدھ کے شمارے میںملاحظہ فرمائیں)