’’گمشدہ ستارے‘‘

 ’’ تحریک  کشمیر کے آغاز سے ہی یہاں کے صحافیوں نے اپنے پیشے کی عظیم روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بے شمار قربانیاں دی۔ صحافی غلام محمد کشفی کو شیخ محمد عبداللہ نے سرِعام پیٹا اور حد متارکہ کے اْس پار دھکیل دیا۔ پریم ناتھ بزاز اور جگن ناتھ ستھو کو جلاوطن کیا گیا ، ’’الصفا‘‘کے مدیر محمد شعبان وکیل کو گولیاں مار کر موت کی نیند سلادیا گیا‘ ’’وادی کی آواز‘‘ کے مدیر غلام نبی شیداکو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کیا گیا۔ش ۔م ۔احمد پر بے تحاشہ گولیاں چلائی گئیں،  یوسف جمیل کو گرفتار کرنے کے علاوہ ایک پارسل بم بھیجا گیا۔ جس سے فوٹو جرنلسٹ ’مشتاق علی‘ شہید ہوگیاوغیرہ وغیرہ۔ ‘‘(صفحہ 175 )
کتاب سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کشمیریوں کے حقوق کیلئے جو تحریک برپا کی گئی وہ ہمیشہ Indigenous رہی ہے۔ لوگوں نے اپنے وسائل استعمال کئے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ جب شیخ محمد عبداللہ نے ایکارڈ کیا تو اس کے خلاف سرینگر میں احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کرنے والوں کو لگا کہ ہمیں احتجاج کو بڑے پیمانے پر کرنے کی ضرورت ہے اس کیلئے ’’76 نوجوانوں نے خون کا عطیہ پیش کیا اور اس سے جو رقم حاصل ہوئی اس سے پروگرام کیلئے وقف کیا گیا۔‘ 
صفحہ ۲۰۹مصنف مزید لکھتے ہیں کہ جب منشی نصیر الدین اور مولوی بشیر احمد وکیل نے ایک ریڈنگ روم کھولنے کا فیصلہ کیا تو اس کیلئے یہ بھکاری بھی بن گئے۔ لکھتے ہیں:
’’ریڈنگ روم کو چلانے کیلئے اچھی خاصی رقم درکار تھی اور یہ دونوں کسی طرح اس کو چلاتے رہے، عید قریب تھی منشی صاحب نے مولوی بشیر کو مشورہ دیا کہ ہم عید گاہ میں بھیک مانگیں گے۔ عید کے دن جب سب لوگ نئے لباس پہنے ہوئے تھے تو ایک شخص کو بوسیدہ لباس میں دیکھا گیا اس کے ہاتھ میں کشکول بھی تھا۔ (صفحہ 256 )
کتاب میں کئی ایسے ستاروں کا ذکر بھی ملتا ہے جنہوں نے سرکاری نوکری کو خیر باد کہا۔ شیخ محمد سلطان رنگریز اور غلام نبی ہاگرو نے نوکری چھوڑ کر کشمیر کے لوگوں کے حقوق کیلئے جدو جہد کی۔ شیخ محمد سلطان رنگریز بہت ہی زیادہ جرأت مند تھے۔ انہوں نے ایک میٹنگ میں مرزا افضل بیگ کو کہا کہ اب تم نے بہت پیسہ کمایا تمہارا پیٹ کب بھرے گا۔ (صفحہ 109)
کتاب میں کئی ایسے عظیم لوگوں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے تحریک میں شمولیت کی وجہ سے انتہا درجہ کی کسمپرسی کی زندگی گزاری اوروہ نہیں بکے۔ شیخ محمد حسین کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں: 
’’گھرگرہستی چلانے کیلئے انکو مزدوری بھی کرنا پڑی لیکن اس مشکل دور میں بھی وہ تحریک سے منسلک رہے۔‘‘ (صفحہ 106 )
محمد صدیق بنگرو کے بارے میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے ایک بار گھر کیلئے چائے کا پیکٹ خریدا اور اْس کے فوراً بعد وہ گرفتار ہوئے جب دو ماہ بعد چھوٹ گئے تو چائے کے پیکٹ کو ویسے ہی پایا۔ بیوی سے وجہ پوچھی تو جواب ملا ’’دو ماہ تک دودھ خرید نے کیلئے پیسے ہی نہ تھے‘‘۔( صفحہ 220 )
بخشی غلام محمد نے ان کو نوکری کی پیش کش کی تو انہوں نے انکار کیا. کسمپرسی کی وجہ سے وہ بیٹے کو تعلیم بھی نہ دلاسکے۔ کتاب میں ایسے کئی واقعات کا ذکر ملتا ہے کہ کس طرح لوگوں نے خود قربان ہونا پسند کیا تاکہ دوسروں کی جان بچ سکے:۔
 ’’۲۱جنوری ۱۹۹۰ء کو جب کچھ خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی تو شہر سرینگر میں جگہ جگہ جلوس نکالے گئے بسنت باغ کے پاس ایک ایسے ہی جلوس پر CRP نے گولی چلادی جس میں 52 افراد موقع پر ہی شہید ہوئے۔ اس جلوس میں شامل ایک چشم دیدہ گواہ محمد الطاف کے مطابق ایک 25 سالہ جوان ایک سپاہی کی طرف جو اپنی بندوق سے نہتے لوگوں پر گولیاں برسارہا تھالپکا۔ عبدالروف وانی نامی اس نوجوان نے بندوق کا رخ اپنے سینے کی طرف کیا۔ سپاہی نے پوری میگزین اس کے سینے پر خالی کی۔ روف نے ایسا اس وجہ سے کیا تاکہ یہ گولیاں اس کو لگے اور باقی لوگ بچ سکیں۔ روف کی لاش جب ملی تو اسکے سینے میں 32 سوراخ تھے۔ (صفحہ 128) 
کتاب اس پروپیگنڈہ کی بھی نفی کرتی ہے کہ شیخ عبداللہ نے جو کچھ کیا لوگوں نے اس میںان کا ساتھ دیا۔ مصنف نے ایسے کئی واقعات لکھے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ عبداللہ کی مخالفت بھی کی گئی۔ البتہ شیخ عبداللہ نے اپنے خلاف کسی بھی آواز کو سختی سے دبا دیا۔ مصنف لکھتے ہیں کہ جب شیخ  عبداللہ ایکارڈ کرکے کشمیر واپس لوٹے تو لال چوک میں ان کے لئے اسٹیج لگایا گیا۔ محمد اشرف نامی ایک شخص نے اسٹیج پر جاکر مائک چھین لی اور ایکارڈکے خلاف بہت کچھ کہا۔ (صفحہ 209) شیخ عبداللہ ۱۹۴۷ء سے ہی اپنے مخالفین کے خلاف سیاسی انتقام لے رہے تھے۔ مصنف لکھتے ہیں۔ ’’۱۹۴۷ء میں جب شیخ عبداللہ نے انتظامیہ اپنے ہاتھ میں لے لی تو مسلم کانفرنس کے کئی کارکن جلاوطن کئے گئے۔‘‘ مصنف غلام احمد کشفیؔ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ انہیں جب کہا گیا کہ شیخ عبداللہ کیلئے قائد اعظم کا لقب اپنے اخبار میں لکھا کریں۔ اس پر انہوں نے انکار کردیا تو ’’ اگلی صبح شیر کشمیر بذات خود روز نامہ ’’خدمت‘‘ کے دفتر آئے۔ ان کے ہاتھ میں ہاکی تھی جس سے کشفی ؔکی سر بازار پٹائی کی گئی ‘‘ حالانکہ کشفیؔ اس وقت جانے مانے صحافی تھے۔ کتاب سے ایسے کئی واقعات کا پتہ چلتا ہے کہ "الہ کرے گا وانگن کرے گا" کا پروپگنڈہ سراسر غلط تھا، ہاں لوگوں کو خوف دلا کر یا جلاوطن کرکے شیخ صاحب مختار کل ہوگئے تھے۔ 
مصنف نے کئی ایسے واقعات کا تذکرہ کیا ہے جہاں انسانی حقوق کی تذلیل کی گئی ہو۔ اس سلسلے میں ایسا کرنے والوں کے خلاف کبھی سزا نہیں دی گئی۔ سرکردہ انسانی حقوق کے کار کن جلیل اندرابی کے قاتل کو جب سزا دی گئی تو ’’جموں و کشمیر کے حکام نے ڈرامہ رچایا لوگوں سے کہا گیا کہ ایک ٹیم دہلی روانہ ہوئی ہے جو مذکورہ فرارمیجر (قاتل) کو بھارت لانے کی کوشش کرے گی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ایسی کوئی ٹیم دہلی نہیں گئی تھی۔ (صفحہ 51 )
یہ الگ بات ہے کہ قدرت نے جلیل کے قاتل میجر اوتار جو کہ کینڈا میں تھا ،کو کیسے سزائے سخت دی۔ اس بارے مصنف لکھتے ہیں: 
’’جلیل کا خون رنگ لایا اور قدرت کا قانون چل گیا جب ۶جون ۲۰۱۲ء کو میجر نے اپنے اہل خانہ کو قتل کرکے اپنے آپ کو بھی گولی مار کر ہلاک کردیا۔ (صفحہ 51 )کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر کے حکام ہمیشہ کٹھ پتلی رہے ہیں ۔جلیل اندرابی کے کیس کے بارے میں مصنف کیس کی سماعت  کررہے جج صاحب نے بھری عدالت میں اپنی بے بسی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’’عدالت انصاف کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔‘‘ (صفحہ 50)
 کتاب سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پیپلز لیگ نے کشمیر کی جدوجہد کیلئے بہت زیادہ قربانیاں دی لیکن قیادت کی آپسی رنجشوں کی وجہ سے آج پیپلز لیگ کا وجود دکھائی نہیں دیتا۔ 
کشمیر کے ان گمشدہ ستاروں کو جمع کرکے مصنف نے اپنی نوعیت کا منفرد کام کیا ہے۔کتاب پر مختلف پہلوئوں سے مزیدریسرچ ہوسکتی ہے۔محققین کو یہ بھی دیکھناچاہیے کہ آخر وجوہات کیا ہیں کہ اس قدر اور اتنے عرصے سے کشمیری قربانیاں دے رہے ہیں لیکن منزل ابھی بھی نظروں سے دور نظر آرہی ہے۔ کتاب میں جموں صوبہ، جس نے لوگوں کے حقوق کیلئے کافی کام کیا ہے، سے وابستہ شخصیات کے بارے میں زیادہ تذکرہ نہیں ملتا۔ مصنف کو کتاب کے آئندہ ایڈیشن میں اس طرف توجہ دینے کی گزارش ہے۔ یہ ضرور مشکل کام ہے لیکن اگر یہ کام کرتے ہوئے ان گمشدہ ستاروں کی زندگی کے چند اور باب آجاتے تو کتاب کا حسن اور بڑھ جاتا۔ یوسف جمیل صاحب نے کتاب کے پیش لفظ میں اس کمی کو محسوس کیا ہے اور یہ جواب بھی دیا ہے کہ ’’اجمال ہی حسن ہے‘‘۔ لیکن شخصیات کے معاملے میں یہ اصول فٹ نہیں ہوتا۔ خاکہ نگاری مشکل کام ہے ،قلم کار میں اس کے لیے قوت مشاہدہ، مردم شناسی، ہمدردی اور ذاتی لگاؤ کے ساتھ ساتھ احساس میں توازن ہونا لازمی ہے۔ساتھ ہی تعمیری اسلوب، شگفتہ بیانی کے بغیر خاکہ مردہ الفاظ کا ڈھیر بن جاتا ہے۔اگرچہ مصنف نے ان سب باتوں کا خیال رکھا ہے لیکن اُمید ہے آئندہ ایڈیشن میں مزید خیال رکھیں گے۔یہ کتاب اگرچہ اچھے کاغذ پر چھپی ہے لیکن کتاب پروفیشنل طور پر نہیں چھاپی گئی ہے، ایسی اہم کتاب ہر گھر تک پہنچ جانی چاہئے، اس لحاظ سے کتاب کی قیمت کم ہونی چاہیے۔ کاش کشمیر کے کچھ صاحب ثروت لوگ آگے آجاتے اورایسی کتابوں کو سپانسر کرتے۔اْمید ہے کہ یہ کتاب ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی۔ باشعور والدین سے اُمید ہے کہ اپنی نوجوان نسل کو اپنے محسنوں سے روشناس کرانے کیلئے یہ کتاب ان کو تحفے میں دیںگے۔
(ختم شد)