گمشدہ ستارہ

خواجہ غلام قادر بیگ15؍ جون1922  ء خواجہ پورہ نوشہرہ سری نگر میں خواجہ علی محمد بیگ کے ہاں پیدا ہوئے۔ بچپن سے ہی موصوف تحریک آزادی سے والہانہ وابستگی ر کھتے تھے۔ وہ مسلم کانفرنس نوشہرہ یو نٹ کے سرگرم رکن تھے۔ اس یونٹ کی قیادت غلام رسول بزاز صاحب کیا کرتے تھے۔ یہ لوگ تحریک شہر سے دور دور تک چلاتے تھے۔ گھریلوحالات اور تحریک سے وابستگی کی وجہ سے مکمل تعلیم حاصل نہ کر پائے اورپانچویں جماعت تک ہی پڑھ پائے لیکن انہیں تحریک کی کافی سمجھ تھی ۔ ان کے ہمسایوں اور دوست و احباب کے مطابق پولیس ہمیشہ ان کی تلاش میں ر ہتی، اس بنا پر ان کے گھر پر اکثر  پولیس چھاپے پڑتے جس کی وجہ سے بیگ اکثر گھر سے باہر ہی رہتےتھے۔ موصوف ہمیشہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور انتہائی گمنامی میں زندگی گزاری۔تحریک سے اس قدر والہانہ وابستگی تھی کہ موصوف نے کبھی روز گار کی فکر ہی نہ کی بلکہ خود کو تحریک کے لئے وقف کر کے رکھا۔ موصوف کے پوتے حاجی عبد ا لمجید بیگ کے مطابق جب حکومت ہند سے قیادت کی بات چیت چل رہی تھی تو اسی دوران شیخ محمد عبداللہ نوشہر ہ آگئے۔ اپنی موٹر کار میں سوا ر تھے اور شیخ رشید بھی ان کے ہمراہ تھا۔ بیگ صاحب ان کی موٹر کے سامنے کھڑے ہوئے اور ان سے مخاطب ہوکر کہا:شیخ صا حب ! ’’آپ اندرا گاندھی سے ملنے جارہے ہیں لیکن آپ کوخدا کا واسطہ ہمارے کشمیر اور ہماری تحریک کا سودا نہیں کرنا‘‘۔شیخ محمد عبد اللہ ہنس پڑے اور شیخ رشید سے کہا کہ اس شخص کا خیال رکھیں۔ اگلی صبح بیگ صاحب کو رسیوں سے باندھ کر سنٹرل جیل لیا گیا جہاں انہیں تشدد کے شرمناک مراحل سے گزارا گیااور جیل میںچھ ماہ تک نظر بند کیا گیا۔ مرتے دم تک ان پر روا رکھے گئے جسمانی تشدد کے نشانات بدن پر نقش تھے۔ رہائی کے بعد وہ پھر سے تحریک سے وابستہ ہوگئے اور دمِ اخیر تک اپنے جسم پر تشدد کے نشانات کو وہ انعام سمجھتے تھے۔ بیگ صاحب 31دسمبر1975ء کو فوت ہوئے۔ بیگ صاحب کو نوشہرہ سری نگر میںسپر د خاک کیا گیا۔