گمشدہ ستارہ: شیخ غلام محمد

شیخ غلام محمد1913ء میں بارہ پتھر بتہ مالو سری نگر میں پیدا ہوئے اور جوان ہوتے ہی ریڈنگ روم پارٹی میں شامل ہوگئے۔ شیخ محمد عبدللہ اُن کو بہت پسند کرتے تھے اور ہر جگہ اپنے ساتھ لے جاتے۔ مسلم کانفرنس کے قیام کے فوراً بعد اُنہوں نے اس میں شمولیت کی۔ کشمیر چھوڑ دو تحریک میں انہوں نے بہت محنت کی لیکن 1947ء میں بھارتی فوج کی آمد اور شیخ محمد عبدللہ کا حکومت سنبھالنا اُن پر گراں گزرا ۔ چناںچہ  بظاہر وہ سیاست سے کنارہ کشی کر کے ریشم خانے میں ملازم ہوگئے لیکن خفیہ طور وہ اور اُن کے رفقاء چھوٹی سی مشین پر پوسٹر چھاپ دیتے اور شہر کی مساجد، آستانوں اور بجلی کے کھمبوں پر چسپان کرتے۔ وہ بہت ہی بے باک ، نڈراورذہین تھے۔ رفتہ رفتہ وہ جانے مانے ٹریڈ یونین لیڈران میں شمار ہونے لگے۔ آخر وہ دن آیا جب وہ لیبر فرنٹ کے سیکرٹری بنے۔19 جون 19 53ء کو پولٹکل کانفرنس کا قیام عمل میں آیا، وہ اور لیبر فرنٹ کے صدر بدرالدین ہنڈو بھی اس کے رُکن بن گئے۔ دونوں کو ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑے بلکہ گرفتار بھی ہوئے۔ بخشی غلام محمد نے شیخ صاحب کو رام کرنے کی بہت کوشش کی لیکن اُنہوں نے پولٹکل کانفرنس کا دفتر چلانے کو ترجیح دی۔1958 ء میں شیخ محمد عبدللہ کو رہا کیا گیالیکن جلد ہی تقریباً دیگر80؍سیاسی کارکنان کوگرفتار کیا گیاجن میں شیخ غلام محمد بھی شامل تھے۔ سیاسی کارکن اُن کی بہت عزت کرتے تھے اس لئے اُنہیں باتفاق رائے میس انچارج بنایا گیا۔ پیر حفیظ اللہ مخدومی بھی پولٹکل کانفرنس کے رُکن تھے اور اسیر زندان بھی تھے۔ وہ راوی ہے کہ اکتوبر1959ء کی ایک صبح کو شیخ صاحب اُن کے پاس آئے اور ان سے صابون مانگا۔ شیخ صاحب باہر نہانے گئے۔ تھوڑی دیر بعد محاز رائے شماری کے عبدالاحد کو دیکھا گیا کہ اُنہوں نے شیخ صاحب کو گود میں اُٹھا رکھا تھا۔ وہ میری بارک میں آئے۔ میں نے شیخ صاحب کی نبض دیکھی، جلدی سے ڈاکٹر کو بلاایا گیا۔ وہ جلدی جلدی آیااور شیخ صاحب کو مردہ قرار دیا۔ جیل میں ہلچل مچی، حکام نعش کو لے جانا چاہتے تھے لیکن قیدیوں نے ایک نہ سنی۔ مولانا مسعوددی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ شیخ صاحب کے گھر والوں کو اطلاع دی گئی اور  بعد میںان کو آبائی مقبرہ بتہ مالو میں سپرد خاک کیا گیا۔ جیل کے ڈاکٹر نے مخدومی سے کہا کہ شیخ صاحب کا بلڈ پریشر بڑھ گیا تھا اور ان کے دانت میں بھی درد تھا۔اُنہوں نے درد ِدنداں کے لئے دوائی بھی لی تھی۔جیل میں شیخ صاحب کی موت نے شہر میں ہلچل مچادی۔ احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے لیکن حکام نے اس موت کی تحقیقات کروانا ضروری نہ سمجھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شیخ صاحب کو فراموش کیا گیا۔ ٹریڈ یونین والوں کے پاس بھی ان کی تفصیلات موجودنہیں ۔ راقم سے کہا گیا راج باغ کے ریشم خانے میں ان کی فوٹو موجود ہے مگروہاں سے خالی ہاتھ ہی مایوس ہوکر لوٹنا پڑا۔ مجھ سے کہا گیا کہ فوٹو اور دیگر تاریخی مواد سیلاب کی نذر ہوگیا ہے۔ 
………………..
نوٹ : کالم نگار ’’گریٹر کشمیر‘‘ کے  سینئر ایڈ یٹر ہیں ۔
فون نمبر9419009648