گمشدہ افراد کے اقرباءکا خاموش احتجاج

 سرینگر// انسانی حقوق کے عالمی دن پر تھرتھراتی سردی میں سنیچر کو سرینگر کی پرتاپ پارک میںرقعت آمیز مناظر کے بیچ گمشدہ افراد کے اقرباءنے خاموش احتجاج کیا۔ لاپتہ افراد کے لواحقین کی تنظیم اے پی ڈی پی کے ایک دھڑے ،جس کی سربراہی پروینہ آہنگر کررہی ہے ،نے پرتاپ پارک میں خاموش دھرنے کا اہتمام کیا تھا جہاں موجود افرادنے سرکار پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سرکار اُن کی جانب کوئی بھی دھیان نہیں دے رہی ہے اور سرکار ہزاروں لاپتہ افراد کی بازیابی کے معاملے پر غیر سنجیدہ ہے ۔پرتاب پارک میں اپنے عزیزوں کی بازیابی کا مطالبہ کرنے کے لئے آئیں خواتین کی آنکھیں نم تھیں جبکہ انہوں نے برسوں سے لاپتہ اپنے عزیزوں کی تصاویر ہاتھوں میں اٹھا رکھیں تھیں۔ اس موقعہ اے پی ڈی پی کی سربراہ پروینہ آہنگر نے بتایا کہ گذشتہ 26برسوں کے دوران9ہزار سے زیادہ افراد کو لاپتہ کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایاکہ اکثر ایسے لوگوں کو فوج ، فورسز ، ٹاسک فورس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے گرفتار کرنے کے بعد لاپتہ کردیا۔ پروینہ آہنگر نے ایک بار پھر کہا کہ انہوں نے مطالبہ کیا تھا 9ہزار سے زیادہ لاپتہ افراد کا پتہ لگانے کے لئے عالمی سطح کے حقوق انسانی کارکنان پر مشتمل خصوصی کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے لیکن اس کی جانب بھی کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے اور ایسے میں انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔انہوں نے سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ریاستی وزیر اعلیٰ اپنے آپ کو ماں سمجھتی ہیں لیکن انہیں ان ماﺅں کی کوئی فکر نہیں جو دہائیوں سے بچھڑے اپنے لخت جگروں کی تلاش میں آنسو ں بہا رہی ہیں ۔اس موقعہ پر وادی کے مختلف علاقوں سے آئے مرد وخواتین نے اپنی اپنی ر وائیداد بیان کیں ۔بارہمولہ کے واگورہ وجیلہ گاﺅں کے رہنے والے محمد اسد اللہ ملک نے کہا کہ میرا بیٹا 1994کو گھر سے غائب ہوا ابھی تک واپس نہیں لوٹا اور ایسے میں وہ اپنے بیٹے کی تلاش میں 22برسوں سے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے لیکن اُس کو کہیں سے بھی انصاف نہیں ملا ۔ منگہامہ پلوامہ کے غلام نبی متو نے کہا کہ اُس کا بیٹا 1993میں بی ایس ایف نے گھر سے لاپتہ کیا لیکن اُس کا بھی آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے ۔اتنا ہی نہیں بلکہ سخت سردی کے بیچ تھر تھرارہی عمر رسیدہ خواتین نے بھی اپنے بیٹوں کے فوٹو ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے اور وہ گریہ کناں تھیں۔