گلگت بلتستان: آئینی اصلاحات کا تا ریخی تسلسل

گلگت   بلتستان کا سیاسی سفر الحاق پاکستان سے شروع ہوا ۔ اس سے قبل یہاں کبھی راجہ مہاراجاؤں کے نظم ونسق کاسکہ ارئج تھا اور کبھی دوسرے علاقوں سے قابضین یہاں وارد ہوتے رہتے۔ گلگت  بلتستان کی تہذیبی تاریخ بہت پرانی ہے۔ یہاں کے باشندوں کے خیالات اور افکار انہی پہاڑوں کے گرد گھومتے تھے جو اس خطے کی آبرو ہیں ۔ آج بھی پہاڑوں سے گھرے اس علاقے میں بعض ایسی روایات اور رواجات کی گہماگہمی پائی جاتی ہے جو دنیا کے کسی بھی کونے میں شایدہی پائی جائے ۔ گلگت بلتستان کے رموز واسرار کے ایک محقق عزیز علی داد اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ قدیم زمانے میں اس علاقے میں اپنا مقامی مذہب تھاجس کا مرکز  بلتستان تھا۔ اس مذہب کاآمنا سامنا بدھ مت سے ہوا تودونوں مذاہب کے مابین کئی سال تک ایک انتھک جنگ جاری رہی، بالآخر بدھ مت مذہب نے مقامی مذہب کو صفحہ ہستی سے ہی ختم کرڈالا اور گوتم بدھ یہاں کی مذہبی فکر کا منبع بن گیا، البتہ اس بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں خو د کو امن اور اَہنسا کا پرچارک مذہب قرار دئے جا نے والا بدھ مت اپنے خلاف تاریخی طور گلگت بلتستان میں اپنے پہلے مسلح معرکے پر اتر آیا ۔
برصغیر کے تقسیم کے دوران گلگت  بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا مگر ریاسست جموں کشمیر کے مہا راجہ کی جانب سے عوامی رائے پوچھے بغیر ہندوستان سے الحاق کرنے پر گلگت بلتستان کے لوگوں نے 31؍اکتوبر 1947ء کی رات کو اپنی جنگ آزادی شروع کی ۔ یہ جنگ بغیر کسی بیرونی امداد کے مقامی جوانوںاور مقامی سکائوٹس کے جذبے کی ساتھ لڑی گئی۔ یہاں بعض امور کی وجہ سے عوام ریاستی فوج سے پہلے ہی نالاں تھے،ا نہوں نے رات کو لڑبھڑکرخطے کے لئے مہاراجہ کے نمائندے گورنر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کرلیا، بعد ازاں علاقائی روایات کوملحوظ رکھتے ہوئے گورنر گھنسارا سنگھ کو کشمیر روانہ کردیا اورنوزائیدہ مسلم ملک پاکستان کو گلگت  بلتستان کاانتظام وانصرام سنبھالنے کی دعوت دے دی۔ چونکہ گلگت  بلتستان میں مقامی حکومت کا تصور موجود نہیں تھا، آس پاس کے حکمران جب جی میں آئے گلگت بلتستان پر حملہ آور ہوتے رہتے ،اس بناپرخطے میں کم وبیش سیاسی سرگرمیاں مفقود تھیں، تاہم گلگت  بلتستان سے ڈوگرہ راج سے گلو خلاصی حاصل کرنا یہاں کی پہلی باقاعدہ سیاسی سرگرمی تھی ۔ پاکستان کے ساتھ الحاق گلگت  بلتستان کی کچھ ہی مدت بعد ہی گلگت  بلتستان کا مقدمہ ریاست کشمیر کے تنازعے کے ساتھ اقوام متحدہ پہنچ گیا،جہاں سے یہ علاقہ بھی ریاست کی طرح برصغیر کی تقسیم کا نامکمل باب بن کر رہ گیا۔اس کے بعد یہ علاقہ صرف انتظامی طور پر عبوری دور کے لئے مملکت پاکستان کے حصے میں آیا ، جب کہ عالمی قوانین کے تحت یہ علاقہ متنازعہ قرار پایا جاتا ہے ۔الحاق پاکستان کے بعد یہاں پر سیاسی سرگرمیاں شروع ہوئیں لیکن چونکہ سست رفتاری کے ساتھ ۔ گلگت  بلتستان میں ابتدائی طور پر ’’آزادکشمیر ‘‘کی سیاسی جماعتوں نے سرگرمیاں شروع کیں تاہم جلد ہی ان کی سیاسی سرگرمیاں مفقود ہوکررہ گئیں ۔ اس دوران بھی مقامی سطح پر راج گیری نظام موجود تھا جس میں اختیارات اور پروٹوکول کا اکثر حصہ راجہ کے ہاتھ میں مرکوزہوتا تھا اور اکثر علاقوںنے اپنی ’’ریاستی‘‘حیثیت کو قائم کررکھا تھا ۔ ایسی صورت حال میں یہ بات غیر ممکن ہے کہ لوگ اپنے بنیادی حقوق کی دہائی دیں یا اس کے لئے کوئی موثر تحریک چلائیں۔ اسی دوران بعض یہاں مقامی جماعتیں بھی بن گئیں مگر اس نظام میں وہ جماعتیں ڈھل نہیں سکیں اورسیاسی تاریخ کو دوبارہ کوراکاغذ ہی بنارہا ۔گلگت  بلتستان میں باقاعدہ طور پر سیاسی سرگرمیاں 1971ء میں شروع ہوئیں جب ذوالفقار علی بھٹو نے اس علاقہ کا دورہ کرکے ایف سی آر سمیت راج گیری نظام کو ختم کردیا اور لوگوں کو ’’آزاد‘‘ کردیا۔ یہاں سے سیاسی سفر کا آغاز شروع ہوتا ہے ۔ذوالفقار علی بھٹو اسی پس منظر میں گلگت  بلتستان کے لئے سیاسی مسیحا کے طور پر اُبھرے اور لوگ جوق درجوق پاکستان پیپلزپارٹی کے پرچم تلے ،منظم ہونا شروع ہوئے ۔1994ء تک گلگت  بلتستان کی مقامی اسمبلی کی سرگرمیاں جاری رہیں اور انتظامی سربراہ و سیاسی سربراہ کے اشکال تبدیل ہوتے گئے ۔ 1994ء میں پہلی مرتبہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں گلگت  بلتستان میں جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے گئے ۔ بینظیر بھٹو کے متعارف کردہ ان اصلاحات کے نتیجے میں عدالتی اسٹرکچر میں بھی تبدیلی لائی گئی اور گلگت  بلتستان کے لئے چیف کورٹ قائم کی گئی۔ حکومتی سربراہ کے لئے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو کا عہدہ متعارف کرایا گیا جب کہ چیف ایگزیکٹو وزیر امور کشمیر و ناردرن ائریاز ہی رہے 2002ء میں گلگت  بلتستان میں مزید اصلاحات متعارف کروائے گئے جن کے تحت اسمبلی کو نسبتاً زیادہ موثر بنادیا گیا۔ پرویز مشرف کے دور حکومت میں گلگت  بلتستان میں پہلی مرتبہ مقامی اسمبلی کے امور چلانے کے لئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے عہدے متعارف کرائے گئے جب کہ پرویز مشرف کے دور اقتدار کے آخر تک گلگت  بلتستان کواصلاحات کے نتیجے میں قانون ساز اسمبلی اور چیف ایگزیکٹو کا عہدہ بھی دیا گیا ۔ تاہم سرکاری امور اور قانون سازی کے اختیارات زیادہ تر کشمیر و ناردرن ائریاز کے پاس ہی تھے ۔ گلگت  بلتستان میں قابل ذکر اورنمایاں اصلاحات 2009 ء میں متعارف کرائے گئے ۔ ان اصلاحات کو امپاورئمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر2009کا نام دیا گیا ، جس کے تحت گلگت  بلتستان کا انتظامی ا سٹرکچر مکمل تبدیل ہوگیا ۔ اس آرڈیننس کے تحت گلگت  بلتستان کو صوبائی طرز کا نظام دیا گیا ، جہاں پر حکومتی سربراہ وزیراعلیٰ کہلانے لگا اور مشیروں کی جگہ وزیروں نے لے لی اور پہلی بار شمالی علاقہ جات کو باقاعدہ طور پر ’’گلگت  بلتستان ‘‘نام دیا گیا۔ یوں سیاسی سفر میں پیپلزپارٹی ایک بار پھر نمایاں اصلاحات متعارف کرانے میں کامیاب ہوگئی ۔ اس سیاسی سفر کے پس منظر میں اگر ہم گلگت  بلتستان کو دیگر علاقوں سے تقابلی جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 1971ء سے شروع ہونے والے سیاسی اور انتظامی اصلاحات کے نتیجے میں گلگت  بلتستان کی سیاست اب تک بالغ نہیں ہوسکی ہے ۔’’ آزاد کشمیر‘‘ کا موجودہ نظام 1974ء میں متعارف کرایا گیا ہے اور اب تک چند ایک معمولی تبدیلیوں کے ساتھ اسی طریقے سے جاری ہے اور’’ آزاد کشمیر‘‘ کی سیاست نے ملکی سیاست میں اپنا مقام بنایا ہے ۔ گلگت  بلتستان میں بار بار اصلاحات کے نتیجے میں صورت حال مزید بگڑتی ہوئی معلوم ہوتی ہے، اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ 1994ء میں پہلی بار جب جماعتی انتخابات کرائے گئے تو گلگت  بلتستان کو پانچویں صوبے کا نعرہ مل گیا ۔ گوکہ مطالبہ حقوق اور احساس محرومی کا فطری رد عمل ہے مگر سیاسی بلوغت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جس علاقے کو عالمی قوانین اور آئین کی روشنی میں متنازعہ قرار دیا گیا ہے، وہاں پر لوگ حکومت پاکستان سے اس علاقے کو پانچواں صوبہ بنانے کا مطالبہ کرنے لگے ۔ معلوم پڑتا ہے کہ ہومیوپیتھی کے اس سفر میں مقامی سیاسی شخصیات اور جماعتیں ایلوپیتھک نتائج کی امید لگائے بیٹھی ہے اور ارتقائی مراحل کا ذکر تب ہی لب پر آتا ہے جب دم پر پائوں پڑتا ہے ورنہ کوئی بعید نہیں کہ استصواب رائے سے قبل ہی فیصلہ بھی سنادیا جائے ۔
2015ء میں گلگت بلتستان میں امپاورئمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے تحت دوسرے انتخابات ہورہے تھے ۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ اور وزیراعظم پاکستان نے لالک جان (نشان حیدر )سٹیڈیم گلگت میں اجتماع عام سے خطاب کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر جدید اور وقت کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات لانے کا اعلان کردیا اور مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں آئینی اصلاحات کی کمیٹی قائم کردی ۔ گلگت میں حکومت کے زیر انتظام نومبر 2015ء کو ہی کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں صوبائی اسمبلی سے پاس کردہ قراردادوں کو بھی زیر بحث لایا گیا اور سفارشات سرتاج عزیز کو بھجوائے گئے ۔اس کمیٹی کے تحت کئی اعلیٰ اجلاس منعقد کئے گئے اور کمیٹی نے 2018ء میں اپنی اسٹڈی مکمل کرکے نیا آرڈیننس لانے کی تیاریاں مکمل کردیں ۔ صوبائی حکومت نے ان اصلاحات پر دعویٰ کیا تھا کہ یہ اصلاحات پہلی مرتبہ تمام مقامی جماعتوں اور سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعدمتعارف کرائے گئے ہیں اور یہ اصلاحات پاکستان کے پرنسپل آف پالیسیز کے عین مطابق ہیں مگر عین موقع پر قومی سلامتی کونسل نے اصلاحات پر اعتراض لگاکر واپس کردیا ۔ 