گریٹر کشمیر اور کشمیر ریڈر کے بعد کشمیر عظمیٰ بھی زد میں،سرکاری اشتہارات پر روک

 سرینگر//کشمیرایڈیٹرس گلڈ نے کثیرالاشاعت اردو روزنامہ’کشمیر عظمیٰ‘کیلئے سرکاری اشتہارات روک دینے پر افسوس کااظہار کیا ہے۔ایک بیان میں گلڈ نے کہا کہ وہ 2سرکردہ انگریزی روزناموں ’گریٹر کشمیر‘ اور ’کشمیرریڈر‘ پر سرکاری اشتہارات کے حوالے سے پہلے سے لگی پابندی ہٹائے جانے کی توقع رکھتا تھا،کہ حکومت نے ’کشمیرعظمیٰ‘ کوبھی اس فہرست میں شامل کردیا ۔’کشمیر عظمیٰ‘کو بھی سرکاری اشتہارات کی ترسیل پر روک ،حسب معمول بغیرکوئی وجہ بتائے لگائی گئی اور اخبار کو مطلع کئے بغیر اس پر عمل درآمدکیاگیا۔ گلڈ نے کہا کہ یہ پابندی کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر اُس جارحیت کا تسلسل ہے جو خاص طور سے1989سے جاری ہے۔اس جارحیت سے ذرائع ابلاغ کے ادارے بے پناہ مشکلات کاشکار ہیں اور جمہوریت پر سے اعتبار متزلزل ہورہا ہے۔منگل کو کشمیرایڈیٹرس گلڈ نے اس تازہ پابندی پر غور کیا اور اپنے اس موقف کو دہرایا کہ اس پابندی سے نہ صرف ذرائع ابلاغ کاگلاگھونٹاجا رہا ہے بلکہ جمہوریت کے تصور پر بھی یہ اثر انداز ہورہا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پابندی انتخابی عمل کے درمیان عائد کی گئی جب مثالی ضابطہ اخلاق لاگو ہے۔محکمہ اطلاعات نے اس پابندی کی رسمی طوراطلاع نہیں دی۔ گلڈ نے کہا کہ ایڈیٹر یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایسے وقت میں جبکہ انتخابی مہم زوروں پر ہے ،اس غیرجمہوری فیصلہ سازی کے پیچھے کیا حکمت عملی کارفرماہے ۔گلڈ نے کہا کہ کشمیر کامیڈیاایک پیشہ ور ترین میڈیا ہے اور بحران زدہ ریاست میں واقعات کو پیشہ ورانہ طور ایمانداری کے ساتھ پیش کرتا رہے گا۔ ایڈیٹرس نے کشمیر سے باہر کے میڈیا تک بھی یہ بات پہنچائی کہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ اُس کا سنجیدہ نوٹس لیں کیونکہ ان کے کام اور منشور میں یہ بھی شامل ہے ۔گلڈ نے پہلے ہی پریس کونسل آف انڈیا سے رابطہ کیا ہے اور اب ایک بار پھر اُن سے رابطہ کرے گا۔