گریٹر کشمیر اور کشمیر ریڈر پر اشہارات کی روک غیر منصفانہ

سرینگر//کشمیراکنامک الائنس کے چیئرمین محمدیاسین خان نے وادی کے دوسرکردہ اخباروں ’گریٹر کشمیر ‘اور ’کشمیر ریڈر‘ کواشتہارات روک دینے کے سرکار کے فیصلے کی مذمت کی ہے ۔ایک بیان میں خان جوکشمیرٹریڈرس اینڈ مینوفیکچررس فیڈریشن کے صدر بھی ہیں،نے حکومت سے اپیل کی کہ آزاد ذرائع ابلاغ کے مفاد میں ان اخبارات کو اشتہارات کی ترسیل بحال کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ  ایک اہم رول اداکرتا آیا ہے اور ہم اس نازک وقت ،جو عام لوگوں کی آوازکودبانے کی کوششوں کاعکاس ہے۔ ادھرکشمیرچیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹریز نے پریس کی آزادی میں مالی دبائو کے تحت مداخلت کرنے کی کوششوں کی مذمت کی ہے ۔گریٹر کشمیراورکشمیرریڈرکوسرکاری اشتہارات روک دینے کی رپورٹوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چیمبرترجمان نے کہا کہ یہ خبروں کے بیانیہ کے توڑ مروڈ کی لاحاصل مشق ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ حکومت طاقت کے استعمال پراُترآئی ہے اور لگتا ہے کہ یہ کشمیر کے تجارتی طبقے پراقتصادی جارحیت کی پالیسی کاحصہ ہے ۔ ذرائع ابلاغ یہاں مشکل حالات میں اپنے فرائض نبھارہا ہے اور ہمیشہ اس نے اخلاقی اور پیشہ ورانہ اقدار کو بلند رکھا۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ رہنما محمدیوسف تاریگامی نے  کہا ہے کہ سرکاری اشتہارات روک دینے کافیصلہ بدقسمتی ہے اورحکام کو ملک کی حساس ترین ریاست میں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ذرائع ابلاغ کا گلاگھونٹانہ جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ پریس کی آزادی اور لوگوں کا معلومات کے حصول کے حق کااحترام کرے۔کشمیر کاذرائع ابلاغ اُسی مریضانہ حالت کاعکاس ہے جو مجموعی حالات سے متاثر یہاں کی اقتصادیات پیش کرتی ہے ۔ان حالات میں ایک منفی مداخلت کاواضح مقصدمیڈیااداروں کی تباہی ہے ۔ان دو اداروں پرضرب لگانے سے ریاست میں صحافیوں اور صحافت دونوں متاثر ہوں گے۔