گرفتاریوں ورکاوٹوں کے باوجود احتجاجی پروگرام منعقد :مشترکہ قیادت

سرینگر //مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے یاد گار شہداء بسنت باغ گائو کدل میں یاد گاری احتجاجی پروگرام منعقد ہوا ، جس میںمزاحمتی  قائدین کے کارکنوں سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔ احتجاجی پروگرام میں شرکت کرنے والوں میںمحمد رفیق شاہ اویس، مشتاق اجمل، انجینئر غلام رسول ڈار عیدی، ایڈوکیٹ یاسر دلال، مختار احمدصوفی، ، شیخ عبدالرشید، ظہور احمد بٹ،سید محمد شفیع،ساحل احمد وار، رمیز راجہ، محمد صدیق شاہ، فاروق احمد شیخ، امتیاز احمد شاہ، اشرف بن سلام، محمد حنیف، عبدالرشید لون، اشفاق احمد خان، سجاد احمد ،شبیر احمد ڈار اور امتیاز احمد یشی شامل تھے۔ اس موقعہ پرمتحدہ مزاحمتی قائدین نے کہا کہ آج کا دن ہمیں اُن بے مثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جو اس قوم نے اپنی آزادی کیلئے دی ہیں۔ 21 جنوری کو یہاں کے لوگوں کا قتل عام شروع کروایا تھا‘ کشمیریوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھاکر ظلم کے ضابطوں کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے آزادی کی شمع کو روشن کیا اور قربانیوں کی ایسی لازوال روایت کو جنم دیا جو آج تک جاری و ساری ہے ۔ قائدین نے کہا کہ گائو کدل قتل عام ہو کہ اُسی دن براڈوے،ڈل گیٹ اور دوسرے علاقوں میں کی گئی فائرنگ،بائی پاس اور زکورہ کراسنگ قتل عام ہو کہ ہندوارہ کپوراہ اور سوپور کے قتل عام،بجبہاڑہ میں لوگوں کو تہہ تیغ کیا جانا ہو کہ سیلان پونچھ میں کیا گیا قتل عام،بھدرواہ اور مرمت ڈوڈہ میں انسانوں کو زندہ جلاکر قتل کرنا ہو کہ کنگن گاندربل ،مشعلی محلہ،خانیار،درگاہ حضرت بل اورگوجوارہ میں کیا گیا قتل عام‘ کہاں کہاں ہمارے معصوں کا لہو نہیں بہایا گیا اور کہاں کہاں جلیانوالہ باغ نہیں دہرائے گئے ‘لیکن جبر و ظلم و اِستبداد کے یہ حربے ہر دور میں ناکام ہوئے اور جموں کشمیر کے غیور لوگوں نے اپنی تحریک آزادی کو جاری رکھا ۔مقررین نے کہا کہ ہمارے شہداء کی قربانیاں ہمارا اَثاثہ ہیں اور کشمیری ان شہداء کے مقدس لہو کے امین ہونے کی حیثیت سے اُن کی تحریک کو جاری رکھنے کے اپنے عزم بالجزم پر قائم ہیں اور وعدہ بندہیں کہ ان کے مشن کو اس کے حقیقی انجام تک پہنچانے کی راہ میں کوئی تساہل ،تغافل یا کوتاہی نہیں برتیں گے۔