گذشتہ 2برسوں کے دوران دراندازی کی 176کوششیں،31ملی ٹینٹ مارے گئے

نئی دہلی// وزارت داخلہ نے منگل کو کہا کہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 2 برسوں میں عسکریت پسندی سے متعلق واقعات میں 104 سیکورٹی اہلکار ہلاک اور 223 زخمی ہوئے۔اس دوران 2020 تک3برسوں میں غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ (UAPA) کے تحت750 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ جبکہ گزشتہ2برسوں میں دراندازی کی176 کوششیں کی گئیں جن میں 31ملی ٹینٹ مارے گئے۔لوک سبھا میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر نشی کانت دوبے کے ایک تحریری سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے امور داخلہ نتیا نند رائے نے کہا کہ2020 میں جموں کشمیر میں دراندازی کے دوران انکاؤنٹر سمیت عسکریت پسندی کے تشدد میں 62 اہلکار ہلاک اور 106 دیگر زخمی ہوئے۔ 2021 میں 42 سیکورٹی اہلکار ہلاک اور 117 زخمی ہوئے ۔نتیا نند رائے نے کہا کہ سرحد پار سے ایسی کوششیں بنیادی طور پر جموں اور کشمیر میں ہوتی ہیں "جو عسکریت پسندوں کے تشدد، اسپانسر اور حمایت سے متاثر ہوئی ہے۔ مرکزی وزیر مملکت نے لوک سبھا میں مزید کہا کہ 2020 میں دراندازی کی 99 اور 2021 میں77 کوششیں ہوئیں ۔انہوںنے کہاکہ سال2020 میں سرحدپارسے دراندازی کی کوششوں کے دوران 19ملی ٹینٹ اور 2021 میں12 مارے گئے اور ایک کو گرفتار کیا گیا۔مرکزی وزارت داخلہ نے کہاکہ جموں و کشمیر میں 2020 تک3برسوں میں غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت750 افراد کو گرفتار کیا گیا۔2020 میں346 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 2018 اور 2019 میں بالترتیب177 اور 247 افراد کواس ایکٹ کے تحت حراست میں لیاگیا۔وزیر نے کہا، "قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے، UAPA میں ہی تحفظات سمیت کافی آئینی، ادارہ جاتی اور قانونی تحفظات موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ماضی میں "UAPA میں ترمیم کی گئی ہے۔۔ فی الحال، UAPA میں کوئی ترمیم زیر غور نہیں ہے۔