گجرات کی کامیابی ملک کی کامیابی | مودی کا انفینٹی فورم کے دوسرے ایڈیشن سے خطاب

یواین آئی

نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے فن ٹیک پر ایک عالمی تھاٹ لیڈرشپ پلیٹ فارم انفینٹی فورم کے دوسرے ایڈیشن سے خطاب کیا۔ انفینٹی فورم کے دوسرے ایڈیشن کا اہتمام حکومت ہند کے زیر اہتمام مشترکہ طور پر بین الاقوامی مالیاتی خدمات کے مراکز سے متعلق اتھارٹی (آئی ایف ایس سی اے) اور گفٹ سٹی کے ذریعے وائبرنٹ گجرات گلوبل سمٹ 2024 کی ایک پیشگی تقریب کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ انفینٹی فورم کے دوسرے ایڈیشن کا تھیم’گفٹ – آئی ایف ایس سی: نئے دور کی عالمی مالیاتی خدمات کے لئے نرو سینٹر‘ ہے۔حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے دسمبر 2021 میں انفینٹی فورم کے پہلے ایڈیشن کے انعقاد کے دوران عالمی اقتصادی صورتحال کی غیر یقینی ہونے سے پریشان عالمی وبا سے متاثرہ دنیا کا ذکر کیا۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ پریشان کن صورت حال ابھی پوری طرح سے دور نہیں ہوئی ہے اور جیو پولیٹکل تناؤ، افراط زر کی اونچی شرح، بڑھتے ہوئے قرضہ جات کے چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے لچک اور ترقی کی ایک علامت کے طور پر ہندوستان کے ابھرنے پر روشنی ڈالی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایسی صورت حال میں گفٹ سٹی میں ایسی تقریب کا انعقاد گجرات کے تفاخر کو نئی بلندیوں پر لے جا رہا ہے۔ اس موقع پر یونیسکو کے ثقافتی ورثے کے ٹیگ کے تحت ’گربا‘ کو شامل کئے جانے پر وزیر اعظم نے گجرات کے لوگوں کو مبارکباد پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’گجرات کی کامیابی ملک کی کامیابی ہے۔‘‘وزیر اعظم مودی نے بتایا کہ ہندوستان کی ترقی کی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے پالیسی، اچھی حکمرانی اور شہریوں کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ہندوستان کی ترقی کی شرح 7.7 فیصد رہی ہے۔ جیسا کہ آئی ایم ایف نے ستمبر 2023 میں ذکر کیا تھا، وزیر اعظم نے سال 2023 میں 16 فیصد کی عالمی شرح نمو میں ہندوستان کے تعاون پر روشنی ڈالی۔ عالمی بینک کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’عالمی چیلنجوں کے درمیان، ہندوستانی معیشت سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔ ‘‘ مودی نے آسٹریلیائی وزیر اعظم کے اس بیان کو بھی تسلیم کیا کہ ہندوستان کو گلوبل ساؤتھ کی قیادت کرنے کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے ہندوستان میں لال فیتہ شاہی میں کمی آنے سے متعلق عالمی اقتصادی فورم کے مشاہدے پر روشنی ڈالی اور کہا کہ سرمایہ کاری کے بہتر مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان دنیا کے لیے امید کی کرن بن رہا ہے، جو کہ اس کی مضبوط ہوتی ہوئی معیشت اور گزشتہ 10 برسوں کی کایاپلٹ کردینے والی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ دنیا مالیاتی اور مالی راحت دینے پر توجہ دے رہی تھی، ہندوستان نے طویل مدتی ترقی اور اقتصادی صلاحیت کی توسیع پر توجہ مرکوز کی۔عالمی معیشت کے ساتھ انضمام کو بڑھانے کے ہدف پر زور دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے کئی شعبوں میں لچکدار ایف ڈی آئی پالیسی کی کامیابیوں، تعمیل کے بوجھ میں کمی، اور آج 3 ایف ٹی اے پر دستخط کرنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گفٹ آئی ایف ایس سی اے ہندوستانی اور عالمی مالیاتی بازاروں کو مربوط کرنے کی ایک بڑی اصلاح کا حصہ ہے۔ گفٹ سٹی، اختراع اور موزونیت اور عالمی تعاون کے شعبے میں نئے معیارات قائم کرے گا، اس بات کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ ’’گفٹ سٹی کا تصور ایک متحرک ایکو سسٹم کے طور پر کیا گیا ہے جو بین الاقوامی مالیات کے منظر نامے کا ازسرنو تعین کرے گا‘‘۔سال 2020 میں ایک یونیفائیڈ ریگولیٹر کے طور پر بین الاقوامی مالیاتی خدمات مراکز سے متعلق اتھارٹی کے قیام کی اہمیت کا انھو ں نے ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایف ایس سی اے نے معاشی بحران کے اس دور میں سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھولنے کے لیے 27 ریگولیشنز اور 10 سے زیادہ فریم ورک تیار کئے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ انفینٹی فورم کے پہلے ایڈیشن کے دوران جو تجاویز موصول ہوئی تھیں، ان پر کام شروع کردیا گیا۔ انھوں نے گورن فنڈ مینجمنٹ ایکٹیویٹیز کے جامع فریم ورک کی مثال پیش کی، جس کی ا?ئی ایف سی اے نے اطلاع دی تھی۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ آج آئی ایف ایس سی اے میں 80 فنڈ مینجمنٹ ادارے رجسٹرڈ ہیں۔