گجرات کی لڑکی کا قبول اسلام اور کشمیری نوجوان سے شادی

 سرینگر//گجرات کی ایک خاتون نے مذہب اسلام قبول کرتے ہوئے ایک کشمیری نوجوان سے نکاح کیا،تاہم مذکورہ خاتون کے والد نے بیٹی کو اغوا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس کی زندگی خطرے میں ہے۔گجرات کے بارمر ضلع سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون16مارچ کو لاپتہ ہوئی۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق ریتو کھنڈیل وال نامی اس خاتون کے والد گنیش کمار نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ اس کی بیٹی نے نہ ہی اسلام قبول کیا ہے،اور نہ ہی اس کے کشمیری نوجوان کے ساتھ شادی کی ہے۔ان کا کہنا تھا‘‘ہمیں اس بات کے خدشات ہیں،کہ اس کا برین واش کیا گیا ہے،اور اس کی زندگی خطرے میں ہے،جبکہ اس کو احمد آباد سے اغوا کیا گیا‘‘۔بتایا جاتا ہے کہ ریتو کے لاپتہ ہونے کے بعد اہل خانہ نے جب گمشدگی کا رپورٹ درج کرائی ،تو پولیس کو معلوم ہوا کہ وہ کپوارہ میں ہے۔میڈیا رپورٹوں میں پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیاہے کہ مذکورہ خاتون نے اپنے اہل خانہ کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے  گزشتہ سال دسمبر میںایک کشمیری نوجوان کے ساتھ شادی کی ہے،اور اسلام قبول کیا ہے۔ بارمر پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں جموں کشمیر ہائی کورٹ سے22مارچ کو ایک حکم نامہ موصول ہوا،جس میں کہا گیا کہ مذکورہ جوڑے کو تحفظ فراہم کیا جائے،تاکہ کوئی انہیں گزند نہ پہنچائے۔پولیس کے مطابق ہائی کورٹ نے یہ حکم نامہ20فروری کو منظور کیا،تاہم پولیس کو22 فروری کو موصول ہوا۔ریتو کے والد کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر ہائی کورٹ میں جو دستاویزات پیش کیں گئے ہیں،ان میں قلمزنی کی گئی ہے،اور اس میں انکی بیٹی کے جعلی دستخط ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انکی بیٹی نے20دسمبر کو بارمر کالج سے تاریخ مضمون کا امتحان دیا اور26 دسمبر سے3جنوری تک ممبئی میں اپنی ایک رشتہ دار کے پاس تھی۔ان کا کہنا ہے کہ انکی بیٹی نے27دسمبر کو اسلام قبول کر کے30دسمبر کو شادی نہیں کی،جب وہ ممبئی میں تھی۔