گاگرہ کلی مستیٰ روڈ منقطع

گول// گول سے بارہ کلو میٹردوری پر واقع گاگرہ کلی مستیٰ خراب سڑک کی وجہ سے منقطع ہوکر رہ گیاہے ۔ افسوسناک بات ہے کہ کلی مستیٰ تک روڈ تو بنایا گیا لیکن چار مقامات ایسے ہیں جہاں بڑے بڑے نالے آتے ہیں جن پر پلوں کی تعمیر نہیں ہوئی اور گاڑیاں بیچ نالوںسے گزر کر جاتی ہیں جو ان دنوں بارشوں میں انہیں عبور نہیں کرپارہی ۔ بارشوں کی وجہ سے یہاں سفر کرنا نا ممکن ہے ۔ کئی ماہ سے لگا تار گول کا رابطہ پوری طرح سے منقطع ہے ۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر چہ کلی مستیٰ تک پی ایم جی ایس وائی کے تحت سڑک بنائی گئی لیکن یہ قابل آمد و رفت نہیں ہے ۔ پہلے گاڑیاں کوٹ کے مقام تک آیا کرتی تھیں لیکن تین نالے ایسے ہیں جہاں گاڑیاں بارشوں کے دوران یہ نالے پار نہیں کر پا رہے ۔ گزشتہ شدید بارشوں کی وجہ سے تمام نالوں میں طغیانی آئی اور بڑے بڑے پتھروں کے ساتھ ساتھ ملبہ بھی جمع ہو گیا ۔ اگر چہ جے سی بی سے ان نالوں پر پتھر اُٹھائے گئے لیکن اس کے با وجود یہ مسافر گاڑیوں کی آمد و رفت کے قابل نہیں ۔ مقامی لوگوں نے ان نالوں پر پلوں کی تعمیر کی مانگ کی تا کہ اس سڑک پر آسانی سے سفر لوگ کر سکیں ۔مشتاق احمد نامی ایک شہری کا کہنا ہے کہ یہ سڑک سب ڈویژن گول کی بہت پرانی سڑک ہے اور بیس سال سے اس پر تعمیری کام لگا ہے اور پی ایم جی ایس وائی کے تحت ہے لیکن بیس سال میں یہ سڑک تعمیر نہیں ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ ہر گائوں کو بذریعہ سڑک شہر کے ساتھ ملایا جائے گا لیکن یہاں یہ تمام دعوے سراب ثابت ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے گورنر ستیہ پال ملک سے مطالبہ کیا کہ وہ گول سب ڈویژن کے دور دراز علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں پر ترس کھا کر یہاں جتنی بھی سڑکیں تعمیر ہو رہی ہیں ،انہیں پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے اور قابل آمد رفت بنایا جائے ۔