گاڑیوں کی فٹنس سرٹیفکیٹ اور رجسٹریشن مارک کا معاملہ

سرینگر//گاڑیوں کے شیشوں پر فٹنس سرٹیفکیٹ اور رجسٹریشن مارک چسپاں کر نے کی نوٹیفکیشن کو عوام کی آرا کیلئے رکھا گیا ہے۔ اعتراض نہ ہونے کی صورت میں اسے منظوری دی جائے گی ۔ حال ہی میں سڑک ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کی وزارت کی طرف سے جاری ایک مسودہ نوٹیفکیشن کے مطابق گاڑیوں کو ایک مقررہ طریقے سے فٹنس سرٹیفکیٹ اور رجسٹریشن مارک کی درستگی ظاہر کرنی ہوگی اور اس مسودہ کو پبلک ڈومن میں لایا گیا ہے۔ اس پر اعتراض اور تجاویز کیلئے مرکزی سرکار نے 1ماہ کا وقت رکھا ہے ۔ مرکزی سرکار کی جانب سے لگاتار نئے  قانون بنائے جا رہے ہیں اور کئی ایک قوانین میں ترمیم بھی ہو رہی ہے ۔جموں وکشمیر یو ٹی  میں سبھی مرکزی قوانین کا اطلاق ہورہا ہے ۔2 دن قبل مرکزی وزارت روڑ ٹرانسپورٹ کی جانب سے ایک ڈرافٹ رول تیار کیا گیا اور اس کو پبلک ڈومن میں ڈالا گیا ہے۔ اس ڈرافت کے مطابق جن لوگوں کے پاس چھوٹی یا بڑی گاڑیاں ہیں، انہیں اب گاڑی کی فٹنس سرٹیفکیٹ اور فٹنس مار ک گاڑی کے سامنے والے شیشوں پر لگانا ہو گا جس پر گاڑی کی مکمل تفصیل درج ہو گی کہ گاڑی کب نکالی گئی ہے، اس کی فٹنس کی آخری تاریخ کیا ہے، تاکہ اس پر ٹریفک اہلکاروں اور محکمہ ٹرانسپورٹ کی نظر پڑ سکے ۔وزارت نے کہا ہے کہ بڑی مال بردار و مسافر گاڑیوں، چھوٹی فور وہیل گاڑیوںکو فٹنس سرٹیفکیٹ اور رجسٹریشن مارک ونڈ اسکرین کے بائیں جانب کے اوپری کنارے پر چسپاں کرنے ہونگے جبکہ آٹو رکھشا، ای رکھشا والوں کو بھی ونڈ اسکرین کے بائیں جانب کے اوپری کنارے پر رکھنا ہو گا ،جبکہ موٹرسائیکلوں کو ان کاغذات کو سامنے جہاں نظر پڑ سکے، وہاں چسپاں کرنے ہوں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق گاڑیوں کو نیلے رنگ کے پس منظر میں پیلے رنگ میں معلومات لکھ کر اس کو موٹے الفاظ کیساتھ لکھنا لازمی ہے ۔اس مسودہ کو حال ہی میں پبلک ڈومن میں ڈالا گیا ہے ۔معلوم رہے کہ سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کے وزیر نتن گڈکری نے حال ہی میں پارلیمنٹ میں مجوزہ "وہیکل سکریپنگ پالیسی" کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ بھارت میں 51 لاکھ لائٹ موٹر گاڑیاں ہیں جو 20 سال سے زیادہ پرانی ہیں اور 34 لاکھ لائٹ موٹر گاڑیاں ہیں، جو 15 سال سے زیادہ پرانی ہیں۔ تقریباً 17 لاکھ درمیانی اور ہیوی کمرشیل گاڑیاں بغیر کسی فٹنس سرٹیفکیٹ کے 15 سال سے زیادہ پرانی ہیں۔ زیادہ پرانی گاڑیاں بہتر گاڑیوں کے مقابلے 10 سے 12 گنا زیادہ ماحول کو آلودہ کرتی ہیں اور سڑک کی حفاظت کے لئے خطرہ ہیں۔صاف ستھرا ماحول اور سواری اور پیدل چلنے والوں کے تحفظ کے لئے سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت رضاکارانہ فلیٹ گاڑی جدید کاری پروگرام یا "وہیکل سکریپنگ پالیسی" متعارف کروا رہی ہے جس کا مقصد ان فٹ اور آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں سے بچنے کے لئے ایک ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ہے۔کمشنر سکریٹری روڑ اینڈ ٹرانسپورٹ جموں وکشمیر پردیب کمار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ابھی یہ ڈرافٹ رول پبلک ڈومن میں ہے اور اگر کسی بھی شہری یا گاڑی کے مالک کو اس پر کوئی اعتراض ہوگا یا یا پھر کوئی تجویز دینی ہو گی ،وہ مرکزی سرکار کو پیش کر سکتا ہے اور اس کیلئے مرکزی سرکار نے ایک ماہ کا وقت رکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر اس پر کوئی اعتراض نہ کیا گیا تو اس کو مرکزی سرکار منظوری دے گی ۔