گانٹھ کی بیماری اورکسانوں کی لاچاری بیانات بہت ہوئے ،عملی طور بھی کچھ کریں!

جموں خطہ کے بیشتر حصوں میں گھریلو مویشیوں میں گانٹھ کی بیماری خطرناک حد تک پھیل چکی ہے اور اس بیماری کی وجہ سے جہاں اب تک سینکڑوں مویشی ہلاک ہوچکے ہیں وہیں ہزاروں کی تعداد میں مویشی اس بیماری سے جوجھ رہے ہیں۔مویشیوں میں گانٹھ کی بیماری وائرس سے ہوتی ہے ۔گوکہ اس بیماری میں اموات کی شرح کم رہتی ہے تاہم اس بیماری سے متاثر ہو نے والے مویشیوں میں دودھ دینے کی صلاحیت روبہ صحت ہونے کے باوجود بھی انتہائی حد تک کم ہوجاتی ہے اور یوں یہ ایک ایسا نقصان ہے جس سے غریب کسانوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی دوچار ہونا پڑرہا ہے ۔اب جبکہ میدانی جموں کے سارے اضلاع اور خطہ پیر پنچال میں یہ بیماری طوفان کی تیزی کے ساتھ مویشیوںکو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے تو انتظامیہ بھی جاگ چکی ہے اور اس کے تدارک کیلئے ہمہ گیر مہم بھی چلائی جارہی ہے تاہم بیشتر کسانوں کا الزام ہے کہ مویشیوں کی ویکسی نیشن نہیں کی جا رہی ہے اور نہ ہی بیماری کا کوئی ٹیسٹ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کچھ اقدامات کئے گئے ہیں لیکن جلد از جلد مزید موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔انفیکشن پر قابو پانے کیلئے ویکسی نیشن کی مہم اور ٹیسٹنگ کو تیز کرنا ہوگا۔ مطلوبہ دوائیں دستیاب رکھی جائیں۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر باہر سے مویشیوں کی درآمد پر حالیہ پابندی پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔

 

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 12,831 جانور اس بیماری سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 80 فیصد صحت یاب ہو چکے ہیںتاہم صحت یابی کے باوجود دودھ کی پیداوار پر منفی اثرات تشویش کا باعث ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں مویشیوں کی آبادی 31 لاکھ ہے جس میں کشمیر کے 11.4 لاکھ مویشی شامل ہیں۔ جموں و کشمیراس بیماری سے نسبتاً محفوظ تھا تاہم اس سال یہ بیماری یہاں تیزی سے پھیلی اور مسلسل پھیل رہی ہے ۔یہ خون چوسنے والے کیڑوں، جیسے مکھیوں اور مچھروں کی مخصوص نسلوںسے پھیلتی ہے۔ یہ بخار کا باعث بنتی ہے، جانوروں میں جلد پرگانٹھ بن جاتے ہیں اور موت بھی ہو سکتی ہیں۔جموں و کشمیر میں حکام کو اس بیماری سے سنجیدگی سے نمٹنا چاہئے اور مویشیوں کو مزید اموات اور انفیکشن سے بچانا چاہئے۔اس مقصد کیلئے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے کسانوں میں بیداری بھی پیدا کی جانی چاہئے۔کسانوں کوچاہئے کہ وہ فوری طور پر متاثرہ جانور کو صحت مند جانوروں سے الگ کریں، کیڑے مار ادویات کے استعمال سے ویکٹر کی آبادی کو کنٹرول کریں، متاثرہ جگہوں،شیڈوں کی صفائی اور جراثیم کشی کے لئے فینول2فیصد 15 منٹ کیلئے استعمال کریں،سوڈیم ہائپوکلورائیڈ2سے3 فیصد،فارملین ایک فیصد کا چھڑکائو لازمی کریں جبکہ جانوروں کی نقل و حرکت اور علاج کیلئے قریبی ویٹرنری سنٹر سے فوری مدد حاصل کریں۔ متاثرہ جانوروں کو قرنطینہ میں رکھنے کیلئے تمام مقامات پر جگہ کی نشاندہی کی جائے اور مردہ جانوروں کو دو دن میں ٹھکانے لگانے کو یقینی بنایاجائے۔ گانٹھ کی بیماری کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس بیماری کے منظر عام پر آنے کے بعدجموں میںگائے کے دودھ کی خریدوفروخت میں تقریباً25فیصد کمی آئی ہے اورجموں میں لوگ گائے کے بجائے بھینس کادودھ یاپیکٹ بند دودھ استعمال کرنے کومحفوظ سمجھتے ہیں جو کسانوں کیلئے دوہرے نقصان سے کم نہیں ہے ۔گوکہ گزشتہ روز یڈیشنل چیف سیکرٹری زرعی پیداوار اتل ڈلو نے کہا کہ گائے کے دودھ پر وائرس کا کوئی اثر نہیں ہے اور اس کا استعمال محفوظ ہے تاہم گائے کے دودھ کا استعمال بتدریج کم ہوتا چلا جارہا ہے جو پریشان کن ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سرکار نے ایک ہیلپ لائن نمبر بھی مشتہر کردیا ہے جویوٹی سطح کا ہے جبکہ اس کے علاوہ ضلعی سطح پر ہیلپ لائن نمبرات جاری کئے گئے ہیں تاہم جوہونا چاہئے تھا ،وہ ابھی تک نہیں ہورہا ہے اور وہ ہے لوگوںکے خدشات کا ازالہ اور بیماری پر قابو پانے کیلئے لوگوں کو بیدارکرنا ۔گوکہ محکمہ اطلاعات کے توسط سے بیانات جاری کرنے سے لگتا ہے کہ محکمہ پشوپالن ہمہ وقت اس بیماری کو قابو کرنے میںلگا ہوا ہے تاہم جب گائوں دیہات کے لوگوںسے بات کی جاتی ہے تو ایک الگ ہی تصویر ابھر کر سامنے آرہی ہے جو سرکاری موقف سے بالکل مختلف ہی نہیں بلکہ متضاد بھی ہے ۔سرکار اور متعلقہ حکام کو چاہئے کہ زیادہ کاغذی گھوڑے دوڑانے کے بجائے زمینی سطح پر کام کیاجائے تاکہ کسانوںکو فوری ریلیف مل سکے ۔جب زمینی سطح پر کام ہوگا تو یوں کاغذی گھوڑے دوڑانے کی ضرورت نہیںپڑے گی کیونکہ کام بولتا ہے ۔