گاندر بل میںسندھ نالہ کے کنارے غیرقانونی تعمیر

گاندربل//گاندربل کے مضافات علاقہ ہرن میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب غیر قانونی تجاوزات کے خلاف انہدامی کاروائی کے دوران اپنی نوعیت کے دلخراش واقعہ میں نوجوان نے خود پر تیل چھڑک کر خود سوزی کی کوشش کی۔واقعہ کے بارے میں عینی شاہدین نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ ہرن کے مقام پر گزشتہ ایک سال سے نالہ سندھ کے کنارے پر عبدالحمید شاہ ولد غلام احمد ساکنہ ہرن تجارتی مرکز تعمیر کررہا تھا، جسے مسمار کرنے کی خاطر منگل کے روزمجسٹریٹ تحصیلدار گاندربل کی قیادت میں محکمہ آبپاشی فلڈ کنٹرول، ریونیو اور پولیس کی مشترکہ ٹیم دن کے گیارہ بجے پر پہنچ گئے۔اس موقع پر جیسے ہی انہدامی کارروائی شروع کی گئی تو تجارتی مرکز تعمیر کرنے والے کے اہل خانہ اور رشتہ دار وں نے موقع پر جمع ہوکر انہدامی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جس دوران انہدامی کارروائی میں شامل عملہ پر پتھرا بھی کیا گیا.جن کو پولیس کی جانب سے سمجھاکر خاموش کردیا گیا۔اس دوران انہدامی کارروائی جیسے ہی شروع کرنے کی کوشش کی گئی ،عبدالحمید شاہ کے فرزند عامر حمید شاہ نمودار ہوا جس نے اچانک خود پر مٹی کا تیل چھڑک کر خود کو آگ لگا دی۔اس موقع پر بہت ہی کوشش کے بعد نوجوان کی آگ بجھادی گئی اور اسے فوری طور پر میڈیکل انسٹیچیوٹ صورہ منتقل کردیا جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ اس موقع پر انہدامی کارروائی روک دی گئی۔ادھر میڈیکل انسٹیچوٹ صورہ کے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق جان سے رابطہ کرنے پر انہوں نے زخمی نوجوان کے بارے میں بتایا کہ جب  اُسے سکمز لایا گیا تو وہ 50 فیصدی سے زیادہ جھلس گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس کاعلاج چل رہا ہے۔ ادھر واقعہ کے بارے میں پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول کی جانب سے نالہ سندھ کے کنارے پر مسماری کی مہم کے دوران ایک شخص جس کی شناخت عامر احمد شاہ ساکنہ ہرن گاندربل کے نام سے کی گئی تھی اچانک پیچھے سے نمودار ہوا۔ نالہ سندھ کے کنارے کھڑے غیر قانونی ڈھانچے کو گرانے کے خلاف احتجاجا غیر قانونی ڈھانچہ کی چھت پر چڑھ کر خود پر تیل چھڑک کر خود سوزی کی کوشش کرلی، تاہم مذکورہ شخص کو ایس ایچ او گاندربل اور مقامی لوگوں نے موقع پر ہی بچالیا، تاہم آگ بجھنے سے پہلے ہی وہ جھلس کر زخمی ہوگیا اور اسے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔جہاں پولیس نے ہسپتال میں علاج کیلئے نوجوان کی مدد اور تعاون فراہم کیا ہے اور اہل خانہ کو بہترین طبی علاج کی یقین دہانی کرائی ہے۔ پولیس نے عوام اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے اپیل کی ہے کہ اس افسوسناک واقعہ کی ویڈیو گرافی یا تصویریں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ پر نہ ڈالی جائیں اس سے جذبات مجروح ہوجانے کا اندیشہ لاحق ہے ۔