گاندربل کی متعددآبپاشی کوہلوں کی خستہ حالی سے کسان پریشان

گاندربل// گاندربل کی متعددآبپاشی کوہلوں محکمہ آبپاشی وفلڈکنٹرول کی غفلت شعاری کی وجہ سے خستہ اورناکارہ ہوچکی ہیں اورلوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع کی آبپاشی کوہلوں کی مرمت اور تجدیدمارث مہینے میں ہی کی جائے تاکہ کاشتکاری کے سیزن کے دوران لوگوں کو آبپاشی کے سلسلے میں کسی دقت کا سامنانہ کرناپڑے۔گاندربل کے متعدد علاقوں جن میں لار، منیگام، بنہ ہامہ ،دینہ ہامہ،بارسو ،کرہامہ،واکورہ ،بٹہ وینہ ،ززنہ ،تولہ مولہ ،ڈانگر پورہ،سمیت دیگر علاقوں میں ہزاروں کنال زرعی اراضی جن میں دھان کے کھیت، مختلف اقسام کے میوہ باغات  شامل ہیں،کو سیراب کرنے والی کئی آبپاشی نہریں جن میں لار اشم کنال،ڈب کنال،لار کنال،ہامتھی کنال،دھوبی کنال، پادشاہی کنال،ڈب چھی کنال،سال چک دال چک کنال،جمال پورہ پوہ،سیمت علاقہ شیر پتھری میں موجود آب پاشی نہریں محکمہ اریگیش کی لاپرواہی اور غفلت شعاری کی وجہ سے خستہ اور ناکارہ ہوچکی ہیں۔ہر کنال میں جگہ جگہ شگاف پڑ چکے ہیں ،جبکہ کئی علاقوں میں آب پاشی نہروں کے کناروں پر ناجائز قبضہ کرکے تعمیرات کھڑی کردی گئی ہیں،رہی سہی کسر ان نہروں کے آس پاس موجود آبادی نے ان نہروں میں گندگی کے ڈھیر ڈالنے سے پوری کردی ہے۔مقامی آبادی کے مطابق گزشتہ دو سال کروناوائرس وبائی بیماری کے باعث جہاں آبادی گھروں میں محدود ہوکر رہ گئی تھی، وہیں دوسری جانب محکمہ اریگیش نے ان آب پاشی کوہلوں کی صفائی اور تعمیر و تجدید سے ہاتھ کھینچ لئے جس کی وجہ سے ان کوہلوں اور نہروں کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔محکمہ اریگیش نے دہائیوں قبل آب پاشی کوہلوں اور نہروں کی صفائی وغیرہ کی تھی، تب سے ان پر کوئی کام نہیں کیا گیا ، جس کی وجہ سے کسانوں اور کاشتکاروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ منیگام کے مقامی کسان محمد امین میر نے بتایا کہ اس وقت ان آب پاشی نہروں کی مرمت اور صفائی کی جاسکتی ہے کیونکہ ابھی ان کنالوں اور نہروں میں آب پاشی کے لئے پانی نہیں چھوڑا گیا ہے اس لئے ابھی صفائی اور مرمت کا کام شروع کیا جاسکتا ہے ،مارچ کے بعد مرمت اور صفائی کا کام مشکل ہوگا۔ اس وقت اگر محکمہ اریگیش اس جانب توجہ مرکوز کرے گا تو کاشتکاروں اور زمینداروں کو کافی راحت میسر ہوگی۔ اگر رواں سال بھی محکمہ اریگیش نے لاپرواہی اور غفلت سے کام لیا تو ان نہروں کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔