گاندربل کا تاریخی تحصیل باغ حکومت کی نظروں سے اوجھل

گاندربل//ضلع گاندربل ریاست میں گیلاس اور انگور کی کل پیداوار کا 57%فیصدحصہ پیدا کرتا ہے ۔یہ سب جفاکش کسانوں اور کاشتکاروں کی محنت کا ہی نتیجہ ہے کہ دن بہ دن گاندربل کے ہر علاقے سے اب کافی مقدار میں میوئوں کی فصلیں تیارہورہی ہے لیکن پورے ضلع کے کسانوں اور کاشتکاروں کو اعلیٰ معیار کے پودوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ضلع کے کسانوں کو کشمیر کے دور دراز اضلاع جن میں شوپیان،پلوامہ،سوپور شامل ہیں ،کی نجی نرسریوں سے پورا دن سفر کرکے بھاری قیمتوں کے عوض خریدنے پڑتے ہیں۔اگرچہ گاندربل میں محکمہ باغبانی کے زیر انتظام قصبہ لار میں تاریخی اہمیت کا حامل تحصیل باغ اب اپنی شان رفتہ بحال کرنے کیلئے کوشاں ہے ۔یہ باغ مہاراجہ ہری سنگھ کے ماموں ٹھاکر جانک سنگھ کی ملکیت ہوا کرتی تھی۔سال 1947 میں ریاست جموں و کشمیر نے کھرن ہامہ میں موجود 170 کنال پر مشتمل اس باغ کو اپنی تحویل میں لیا۔ماضی میں یہ باغ ایک شاندار نرسری ہوا کرتی تھی اس کے علاوہ اعلیٰ معیار کے گیلاس،خوبانی،بادام اور دیگر فصل بڑی مقدار میں تیار ہوا کرتی تھی لیکن آج کل محکمہ کی لاپرواہی اور عدم توجہی کی وجہ سے تاریخی اہمیت کا حامل یہ باغ تباہی  کے مناظر پیش کررہا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق اس باغ کے رکھ رکھاؤ،درختوں کی تجدید کاری،نرسری اگانے پر کثیر رقم خرچ کی جارہی ہے لیکن زمینی سطح پر کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔فروٹ گروورس ایسویشن گاندربل کے صدر منظور احمد پرہ نے اس بارے میں کشمیر عظمی کو بتایا کہ"واقعی تحصیل باغ میں موجود نرسری سے نایاب اور اعلیٰ معیار کے پودے ملا کرتے تھے اب ہمیں باقی اضلاع سے خریدنے پڑتے ہیں۔یہ باغ تباہی اور بربادی کا شکار ہوگیا ہے"معاملے کی نسبت جب وزیر باغبانی بشارت بخاری سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ میں اس بارے میں جلد اقدامات کرکے اس کی شان رفتہ بحال کرادونگا ۔