گاندربل :تین پیداواری پروجیکٹوں کے باوجودبجلی ندارد

کنگن // ضلع گاندربل جہاں 142میگاواٹ صلاحیت والے پن بجلی پروجیکٹوں قائم ہیں وہاں بجلی کا حال بے حال ہے ۔محکمہ کا کہنا ہے کہ ان بجلی پروجیکٹوں سے صرف سردیوں کے موسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے صلاحیت کم ہو کر صرف 19میگاواٹ رہ گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بجلی کا حال بے حال ہے۔ وہیں عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ عرصہ دراز سے ان بجلی پروجیکٹوں اور رسیونگ سٹیشنوں کی صلاحیت کو بڑھانے کے حوالے سے محکمہ نے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس ضلع میں بجلی کا حال بے حال ہے اور لوگوں کو بجلی کے حوالے سے گونا گوں مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وقت ضلع میں بجلی کے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کیلئے بہت سی سکیمیں چل رہی ہیں لیکن ان سکیموں سے نہ ہی بجلی سپلائی میں کوئی بہتری آئی ہے اور نہ ہی لوگوں کو معقول بجلی فراہم ہو رہی ہے ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ضلع میں اس وقت 142میگاواٹ صلاحیت والے تین پن بجلی پروجیکٹ چل رہے ہیں ۔محکمہ میں موجود ذرائع نے بتایا کہ ان بجلی پروجیکٹوں میں 105میگاواٹ کا حامل کنگن بجلی پروجیکٹ بھی شامل ہے  اس پروجیکٹ کو 2002میں کمیشن کیا گیا تاکہ اس ضلع میں بجلی کے حوالے سے درپیش مشکلات کو دور کیا جا سکے تاہم سرما آتے ہی اس پروجیکٹ کی صلاحیت گھٹ کر دن میں 30میگاواٹ اور شام کو 7میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے ،یہی نہیں بلکہ سمبل گنڈ میں قائم.6 22میگاواٹ بجلی پروجیکٹ جس کو 1974میں کمیشن کیا گیا تھا سے صرف 10میگاواٹ بجلی ہی مل رہی ہے جبکہ گاندربل میں قائم 15میگاواٹ بجلی پروجیکٹ جو کہ 1961میں کمیشن کیا گیا کا حال بھی ابتر ہے اور یہاں سے سرما میں صرف 7میگاواٹ بجلی ہی فراہم ہو رہی ہے ۔مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بجلی پروجیکٹوں پر محکمہ کوئی بھی دھیان نہیں دے رہا ہے اور اب حالت ایسی ہے کہ کئی بستیوں میں 24گھنٹوں میں صرف 5گھنٹے بجلی رہتی ہے جبکہ کئی دور دراز گائوں ایسے ہیں جہاں بجلی کا نام ونشان نہیں ہے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف لوگوں کو ان بجلی پروجیکٹوں کے نام پر لالی پاپ دے کر خوش کیا گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر گذرتے وقت کے ساتھ یہ بجلی پروجیکٹ نہ ہی لوگوں کو معقول بجلی فراہم کر رہے ہیں اور نہ ہی ان کی صلاحیت کو بڑھایا جا رہا ہے ۔ضلع کے کنگن علاقے میں اس وقت5MVA رسوینگ سٹیشن قائم ہیں تاہم یہ رسیونگ سٹیشن اکثر سردیوں کے موسم میں اورلوڈ ہو جاتا ہے جس سے کنگن مین ٹاون کے علاوہ آس پاس کی بستیاں گھپ اندھیرے میں ڈوب جاتی ہیں ۔یہی نہیں بلکہ 5میگاواٹ اے بجلی رسیونگ سٹیشن کے اور لوڈ ہوجانے کے سبب ،کنگن اور اس کے ملحقہ علاقوں کی آبادی کئی کئی گھنٹوں تک گھپ اندھیرے میں رہتی ہے ۔وسن میں قائم 10میگاواٹ بجلی رسویونگ سٹیشن کے اورلوڈ ہو جانے کے نتیجے میں اندر ون ، ارہامہ ہیر پورہ ، وسن ، چنار گوری پورہ، چھتر گل ، پرنگ اور دیگر علاقہ جات بجلی سے محروم ہو جاتے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں بجلی کے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کے حوالے سے بھی کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے اور اکثر علاقے ایسے ہیں جہاں پر آج بھی ترسیلی لائنوں کو عارضی کھمبوں کے ساتھ جوڑا گیا ہے اور نتیجے کے طور پر برف باری کے نتیجے میں یہ کھمبے بھی زمین بوس ہو جاتے ہیں جس کے بعد ان علاقوں میں لوگ بجلی سے محروم ہو جاتے ہیں ۔ادھر تحصیل گنڈ کے علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی کے باعث مقامی بستی کے لوگوں کو سردی کے ان ایام میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں بجلی شیڈول کے مطابق فراہم نہیں کی جارہی ہے ۔