کیگام سنگم پر ٹول ٹیکس لینے کا آغاز

۔؛ 20کلومیٹر دائرے میں مخصوص شناختی کارڈ اجراء کرکے ماہانہ 250روپے وصولی کا فیصلہ

 
 سرینگر // کیگام سنگم میں جموں سرینگر شاہراہ پر منگل کو ٹول پلازہ پر ٹیکس وصولنے کا آغاز کردیا گیا ہے۔فی الوقت فی گاڑی سے 250روپے ٹول ٹیکس لیا جارہا ہے۔تاہم ٹیکس وصولنے کے معاملے پر تنازہ کھڑا ہو گیا ہے اور مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے انہیں ٹیکس سے مستثنیٰ رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔صوبائی انتظامیہ نے متعلقہ حکام سے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے مطابق 20کلو میٹر کے دائرے میں رہنے والے لوگوں کو ایک شناختی کارڈ اجرا ء کیا جائے گااور انہیں مہینے میں صرف 250روپے کی فیس ہی ادا کرنی ہو گی ۔معلوم رہے کہ منگل کو سرینگر جموں شاہراہ پر کیگام سنگم کے مقام پرزیر تعمیر ٹول پلازہ کا کام مکمل ہوا اورکئی مہینوں کے بعد ٹول ٹیکس وصولنے کا کام شروع کیا گیا ۔ٹیکس وصولنے کے دوران مقامی لوگوں نے شاہراہ پر احتجاج کرنا شروع کر دیا اور انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹول پوسٹ منتظمین کی طرف سے مقامی گاڑی والوں سے دن میں دو مرتبہ فیس وصول کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 20کلو میٹر کے دائرے میں رہنے والے لوگوں سے بھی آنے اور جانے کا ٹیکس وصول کیا گیا ہے ۔احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ وہ نزدیکی علاقوں تک روزانہ کاروبار اور ملازمت کے سلسلے میں جاتے ہیں اور ایسے میں روزانہ وہ آنے جانے کا 170روپے ادا نہیں کر سکتے ۔
انہوں نے کہا کہ نزدیکی علاقوں کے لوگوں کے ساتھ یہ سرا سر ظلم ہے ۔اننت ناگ کے ظہور احمد نامی ایک شہری نے بتایا کہ جنوبی کشمیر سے صبح کے وقت ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں سرینگر یا پھر اسی روٹ سے پلوامہ آتی جاتی ہیں اور اگر اسی طرح سے ٹیکس وصولنے کا عمل جاری رہا تو لوگوں کا گھروں سے نکلنا بھی محال ہو جائے گا ۔ ٹرانسپورٹروں نے بھی شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل لوگوں کو تنگ کرنے کا ایک اور بہانہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو کبھی شاہراہ کو بند رکھ کر پریشان کیا جاتا ہے اور اب نیا سسٹم یہاں کے غریب لوگوں پر لاگو کیا گیا۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ٹول ٹیکس وصول کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کی گئی تو وہ سڑکوں پر نکلیں گے جس کی تمام ذمہ داری سرکار پر عائد ہوگی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ سرینگر جموں شاہراہ پر اس سے قبل 3اپریل سے ہفتے میں 2دن بدھ اور اتوار کو عام ٹرانسپورٹ کے چلنے پر پابندی عائد ہے۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے منیجر غلام قادر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کی گائڈ لائن کے مطابق 20کلو میٹر کے دائرے میں آنے والے علاقے کے لوگوں کو ایک پاس اجراء کیا جائے گا جس کے تحت انہیں 250روپے کی فیس ہی ادا کرنی ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ اگر سرکار آس پاس کے علاقے کے لوگوں کو اس ٹیکس سے مستثنیٰ  رکھتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں کہ کسی سے اضافی پیسہ وصول کیا گیا ہے بلکہ فی گاڑی سے 85روپے کا ٹیکس وصول کیا جائیگا  ۔معلوم ہوا ہے کہ مقامی لوگوں کے احتجاج کے بعد صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ٹول پوسٹ کے 20کلو میٹر کے دائرے میں رہنے والے لوگوں کو ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ متعلقہ محکمہ سے اٹھایا گیا ہے اور انہوں نے یقینی دہانی کرائی جس کا حکمنامہ جلد ہی جاری کیا جائے گا ۔