کینسر و ٹیومر مریضوں کیلئے درکار پیٹ سکین 14500فیس ناقابل برداشت مفت طبی سہولیات فراہم کرنے کے دعوے سراب ثابت،سکمز میں ہر روز 10پیٹ سکین ، سالانہ 3ہزار سے زائد

 پرویز احمد

سرینگر // کینسر ،ٹیومر اور دیگر مہلک بیماریوں کی تشخیص کیلئے مخصوص ’پیٹ سکین‘ مشین کے ذریعے ٹیسٹ کرانا مریضوں کیلئے مشکل ترین عمل ثابت ہورہا ہے۔وادی کی 70لاکھ آبادی کیلئےیہاں صرف ایک’ پیٹ سکین‘ مشین دستیاب ہے، جسے سکمز میں رکھا گیا ہے۔سرکاری طور پر ایک پیٹ سکین ٹیسٹ کیلئے مریضوں کو 14,500روپے بطور فیس ادا کرنے پڑتے ہیں ۔ سرطان کے مریضوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کرنے کے دعوے فی الحال سراب ثابت ہورہے ہیں کیونکہ سرطان، ٹیومر اور دیگر مہلک بیماریوں سے متاثر مریضوں کو پیٹ سکین کی فیس نقد ادا کرنی پڑتی ہے کیونکہ سرکار نے آیوشمان بھارت کی صحت سکیم میں پیٹ سکین ٹیسٹ کو شامل نہیں کیا ہے۔ کشمیر صوبے میں سرطان اور دیگر مریضوں کے مسلسل اضافہ کی وجہ سے طبی سہولیات میں فقدان محسوس کیا جارہا ہے ۔

 

سرطان، ٹیومر اور نس پھٹنے( برین ہمریج) کے شکار مریضوں کو پیٹ سکین کیلئے بھاری رقم ادا کرنی پڑ رہی ہے ۔ سرکاری سطح پر پیٹ سیکن سکمز صورہ میں دستیاب ہے لیکن یہاں بھی مریضوں کو ایک پیٹ سکین کیلئے 14500روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ جنوری 2018میں سکمز میں 23کروڑ روپے کی لاگت سے نصب کی گئی پیٹ سکین مشین سے سالانہ 3ہزار سے زائد پیٹ سکین کئے جارہے ہیں اور ہر ایک پیٹ سکین کیلئے مریضوں کو ہزاروں کی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ ڈائریکٹر سکمز ڈاکٹر پرویز احمد کول نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ پیٹ سکین کیلئے سکمز میں 14500روپے فیس رکھے گئے ہیں لیکن اس میں 4500روپے کی چھوٹ دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10ہزار روپے بطور فیس وصول کرنے کی بڑی وجہ تابکاری مواد کو باہر سے لانا ہے،اس لئے مریضوں کو نقد فیس جمع کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب مریضوں کو راحت پہنچانے کیلئے پیٹ سکین کو بھی آیوشمان بھارت سکیم کے دائرے میں لایا جانا چاہئے۔ ذرائع سے کشمیر عظمیٰ کو معلوم ہوا ہے کہ ہسپتال میں روزانہ 10پیٹ سکین ہورہے ہیں اور ہر ایک پیٹ سکین کیلئے مریضوں سے 14500روپے وصول کئے جاتے ہیں لیکن بی پی ایل اور خطہ افلاس کے نیچے زندگی بسر کرنے والے مریضوں کو 4500روپے کی چھوٹ دی جاتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سکمز روزانہ 1لاکھ 10ہزار روپے مالیت کا تابکاری مواد برآمد کرتا ہے جو 10مریضوں کے پیٹ سیکین کے کام آتا ہے اور تابکاری مواد کم مدت تک موثر رہتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اگر ایک گرام مواد میں 100ذرات ہوتے ہیں تو 2گھنٹوں کے بعد صرف 50بچتے ہیں اور 4گھنٹوں کے بعد صرف 25ذرات ہی بچ پاتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ اسی لئے پیٹ سکین کیلئے تابکاری کا مواد روزانہ کی بنیاد پر لایا جاتا ہے۔ سکمز صورہ ے علاوہ کرن نگر میں ایک نجی لیبارٹری کے پاس بھی پیٹ سکین موجود ہے لیکن مذکورہ لیبارٹری میں مریضوں کو ایک پیٹ سکین کیلئے 28ہزار روپے بطور فیس ادا کرنے پڑتے ہیں جبکہ کروڑ روپے مالیت کا چندہ جمع کرنے والی رضاکار تنظیموں کی جانب سے ایک بھی پیٹ سکین نصب نہیں کی گئی ہے۔ وادی میں رضاکار تنظیمیں بڑی تعداد میں ادویات کے خرید و فروخت کے کام میں جٹ گئی ہیں جہاں وہ مریضوں کو 20فیصدچھوٹ دیکر ادویات میں لاکھوں روپے کماتے ہیں لیکن پیٹ سکین نصب کرنے اور سستے داموں پیٹ سکین فراہم کرنے کی کسی بھی رضاکار تنظیم نے کوشش نہیں کی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی میں روزانہ 7نئے کینسر مریضوں کا اندراج ہورہا ہے اور پچھلے کئی سال سے کینسر اور دیگر بیماریوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔