کینسر مریضوں میں ہر سال ایک ہزار کا اضافہ۔ امسال459فوت

 سرینگر //کشمیر میں پچھلے ایک سال کے دوران کینسر سے 459مریض فوت ہوئے ہیں جبکہ اس دوران 3840مریضوں کو شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں علاج و معالجہ فراہم کیا گیا۔ وادی میں سرطان بیماری کا علاج کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سال کینسر  متاثرین میں 1ہزار افراد کا اضافہ ہورہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ 16مارچ سے جنوری کے آخر تک کینسر میں مبتلا 8کمسن بچے کورونا وائرس میں مبتلا ہوئے جن میں ایک کی موت جبکہ 7بچے صحتیاب ہوئے۔ریجنل کینسر انسٹی ٹیوٹ صورہ میں شعبہ ریڈینٹ آنکولوجی کی سربراہ پروفیسر فر ح فیروز نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ گزشتہ ایک سال کے دوران 3840مریضوں کا علاج و معالجہ کیا گیا جبکہ شعبہ ریڈینٹ آنکولاجی میں750مریضوں کا علاج و معالجہ کیا گیا ‘‘۔انہوں نے کہا کہ 2430مریضوں کو شعبہ میں تھرپیز دی گئیں جن میں 35کورونا وائرس سے بھی متاثر تھے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ عالمی وباء کے بائوجود بھی شعبہ میں کینسر مریضوں کیلئے تھرپی اور دیگر علاج کا عمل جاری رکھا گیا اور مریضوں کیلئے خصوصی ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی  ‘‘۔ انہوں نے کہا’’ اس دوران 459 افراد کینسربیماری سے فوت ہوگئے‘‘۔ سکمز میں شعبہ میڈیکل آنکولوجی کے سربراہ ڈاکٹر گل محمد نے بتایا ’’ شعبہ میں امسال  تقریبا 3800مریضوں کا علاج کیا گیا ‘‘۔ڈاکٹر گل محمد نے کہا’’ ہر سال کی طرح امسال بھی سرطان کے مریضوں میں تقریباً 1000افراد کا اضافہ ہوا ہے لیکن یہ دیگر بیماریوں میں شوگر اور امراض قلب میں مبتلا مریضوں کے ہونے والے سالانہ اضافے جیسا ہی ہے‘‘۔ڈاکٹر گل محمد کہتے ہیں کہ کشمیر میں سب سے زیادہ پھیپھڑوں، گلے اور معدے کے کینسر میں لوگ مبتلا ہیں کیونکہ یہاں کے لوگوں کے طرز زندگی میں کافی تبدیلی آئی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’طرز زندگی میں تبدیلی کے علاوہ کم ورزش اور سگریٹ نوشی کینسر کے پھیلائو میں کلیدی رول ادا کررہے ہیں۔ڈاکٹر گل محمد نے کہا کہ پرانے زمانے میں تشخیصی سہولیات کافی محدود ہوا کرتی تھیں لیکن موجودہ دور میں تشخیصی سہولیات میں اضافہ کی وجہ سے قبل از وقت یا ابتدائی مراحل میں ہی سرطان میں مبتلا ہونے والے مریضوں کی نشاندہی ہورہی ہے لیکن اس کے بائوجود بھی لوگوں کی جانکاری میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ادھر کشمیر میں سرطان مریضوں کو رضاکارانہ طور پر طبی امداد اور مفت ادویات فراہم کرنے والی کینسر سوسائٹی آف کشمیر نامی تنظیم کے ریکارڈ میں 5302کینسر مریض رجسٹر ہیں جن میں سے سال 2021کے جنوری مہینے کے آخر تک 752مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی گئیں ۔ تنظیم کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جی ایم منٹو نے بتایا ’’ تنظیم کی جانب سے ہر غریب اور مالی طور پر کمزور شخص کو مفت ادویات فراہم کی جاتی ہیں اور یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا‘‘۔