’’کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال‘‘: عالمی برادری تحقیقات کیلئے آگے آے:گیلانی

سرینگر//حریت (گ) چیرمین سید علی گیلانی نے بامنو اور کاکہ پورہ میں بھارتی فورسز کے ذریعے مبینہ طور کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی رپورٹوں پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ان رپورٹوں کی تحقیقات کے لیے آگے آئے اور بھارت سے وضاحت طلب کرے کہ اُس نے ایسا کیوں کر رہاہے؟۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز پہلے ہی جموں کشمیر میں عام شہریوں کا ایک منصوبہ بند طریقے پر قتل عام کررہی ہیں اور اب کیمیکل ہتھیاروں کے ذریعے سے انہیں مارکر ان کی لاشوں تک کو جلانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔گیلانی نے کہا کہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی رپورٹوں نے صورتحال کو زیادہ دھماکہ خیز بنایا ہے اور اس سے عام لوگوں کے درمیان تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔ وہ اپنے گھروں میں بھی غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں اور ڈر اور خوف کے ماحول میں انہیں گُٹھن کا احساس ہونے لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اگرچہ کیمیکل ویپنز کنونشن (Chemical Weapons Covention)اور دوسرے بین الاقوامی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے، البتہ بھارت جموں کشمیر میں ان قوانین کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ہے اور وہ اس خطے پرمیں ہر طرح کی سُرخ لائین (Red Line)کو کراس کرتا ہے۔ گیلانی نے چشم دید گواہوں کے حوالے سے کہا کہ بامنو اور کاکہ پورہ دیہات میں جن جوانوں کو قتل کیا گیا ہے، ان کی لاشیں پوری طرح سے جلی ہوئی اور مسخ ہوچکی تھیں اور انہیں شناخت کرنا ناممکن ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا لاشوں کی یہ صورت کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال سے ہی ہوجاتی ہے اور روائتی ہتھیاروں سے ایسا ممکن نہیں ہوتا ہے۔ حریت چیرمین نے بین الاقوامی برادری اور حقوق بشر کے لیے سرگرم اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ فورسز کے ہاتھوں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی فوری طور پر تحقیقات کرانے کے لیے آگے آئیں اور جموں کشمیر میں انسانی زندگیوں کو تحفظ فراہم کرانے کے لیے اپنے اثرورسوخ کو استعمال میں لائیں۔