کیسوں کے بوجھ تلے دبی عدالتیں

نئی دلی// زیر سماعت کیسوں کی وجہ سے عدالتوں پر بڑھتے دبائو پر بات کرتے ہوئے بھارت کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے کہا ہے کہ عدالتوں میں کام کاج  کے طریقے پر نظر ثانی اور ثالثی سے نہ صرف عدالتوں پر کم بوجھ پڑے گا بلکہ سرکاری محکمہ جات میں بھی بہتری آئے گی۔  انہوں نے کہا کہ بھارت میں ثالثی کے اداروں کی کمی کی وجہ سے لوگ پانچ ستارہ ہوٹلوں اور کلب کا استعمال ثالثی کیلئے کرتے ہیں۔ سرکاری  کی طرف سے  تنازعات کے حل کیلئے چلائے جانے والے انٹرنیشنل سینٹر وں میں دو دہائیوں کے دوران صرف 20کیسوں حل کئے گئے جو سرکاری اداروں کے افسوناک حد تک ناکامی کی دلیل بیان کرتے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ گھریلو سطح پر ثالثی سے مقدمہ بازوں اور کیسوں کے بوجھ تلے دبی عدالتوں کو کافی حدت تک فائدہ ہوگا۔  انہوں نے کہا کہ 18000 ججوںکے پاس 5کروڑ کیس زیر سماعت ہیںجن میں 2کروڑ کیسوں کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ جسٹس ٹھاکر نے کہا کہ کیسوں کے سیلاب نے پورے عدالتی نظام کو دبائو میں ڈال دیا ہے۔ مہا بھارت کا تذکرہ کرتے ہوئے ٹھاکر نے کہا کہ بھگوان کرشنا نے کوروا اور پانڈووں کے درمیان ثالثی کی مگر ناکام ہوئے، خدا بھی ثالثی میں ناکام ہوسکتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ  ثالثی کامیاب نہیں ہوتی۔  بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودی میں ثالثی پر منعقد بیان اقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس ٹھاکر نے کہا کہ  ہمیں ثالثی کے طریقہ کار پر پھر سے نظر ثانی کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ثالثی کے طریقہ کار سے عدالتوں پر کم بوجھ پڑنا چاہئے اور کیس حل ہونے چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ باز اور ثالثی کرنے والے پانچ ستارہ ہوٹل جانا پسند کرتے ہیں تاکہ ثالثی کو آگے بڑھایا جائے اور نتی بھاگ کلب کو اس کیلئے ترجیح دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری ذاتی رائے ہے کہ  جب کسی کو سزا دی جاتی ہے اور اس کے خلاف دوبارہ عدالت میں شنوائی ہوتی ہے تو جج جو سوال پہلے پوچھتا ہے کہ ثالثی کرنے والا کون ہے کیونکہ جج  جاننا چاہتا ہے کہ جو سزا دی گئی ہے وہ صحیح ہے کہ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ  جج کو یہ جانکاری دینے کی ضرورت ہے کہ وہ ثالثی کے ذریعے دئے گئے سزا کی بنیاد جانے۔