کیرن کی سر زمین ماضی کی تلخ یادوں سے پُر توپوں اور بندوقوں کے دہانے بند ، رونقیں بحال ،90کی دہائی میں خالی ہوئے 4دیہات آج بھی ویران

اشفاق سعید

سرینگر // کشن گنگا کے کنارے آباد کیرن کے لوگ ماضی کی تلخ یادوں کو بھول کر بھی نہیں بھلا پارہے ہیںکیونکہ یہاں کے 4 گائوں1990سے خالی ہو کر آج تک ویران پڑے ہیں ۔لوگوں کو اس بات کی خوشی ہے کہ امن لوٹ آیا ہے، بندوقوں اور توپوں کے منہ بند ہوگئے ہیں اور لوگ آرام سے کھیتی باڑی کا کام انجام دینے کے ساتھ ساتھ مقامی وغیر مقامی سیلانیوں کی توازہ میں لگے ہیں ۔دریائے کشن گنگا کے کنارے پر آباد کیرن کی آبادی 12ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ کیرن کے اُس پار پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے علاقے کو بھی کیرن ہی کہا جاتا ہے۔ جب 1947میں اس گائوں کا بٹوارہ ہوا تو کشن گنگا نے پوری سرحدی پٹی کو بھی تقسیم کر دیا ۔علاقے سے گزرنے والے دریائے کشن گنگا قدرتی سرحد کے طور پر کام کرتی ہے۔اس گاؤں کو راجہ کرن نے دسویں صدی میں قائم کیا تھااور وہ اس علاقے کو گرمیوں کے دوران استعمال کرتے تھے ۔1990 کے اوائل میںکیرن حلقہ کی 70فیصد آبادی نقل مکانی کر کے سرحد کے اُس پار چلی گئی، جس میں کیرن کے چار گائوں بھگنا ، بچوال ، کھوڑیاں اور بور شامل ہیں، جو مکمل طور پر خالی ہو چکے تھے ۔مقامی لوگوں کے مطابق کیرن سے 16ہزار بچے ، خواتین، نوجوان اور بزرگ ستمبر 1990میں سرحد پار چلے گئے اور اب وہاں ان کی آبادی 28ہزار ہو گئی ہے۔90ء میں کیرن میں صرف 5ہزار لوگ رہ گئے تھے، اب کیرن کی آبادی 12ہزار ہوگئی ہے ۔

 

 

 

نسیم درانی کے مطابق جب اس علاقے سے لوگوں نے نقل مکانی کی تو علاقہ رہنے کے لائق نہیں رہا ،چاروں اطراف فوجی جوان ایک دوسرے کی چوکیوں پر بندوقیں اور توپیں تانے ہوئے تھے ، گولیوں کی گن گرج تھی ، بور کیرن کے جو 19کنبے یہاں رہ گئے تھے،انہوں نے بھی یہاں سے نقل مکانی کی اور وہ مختلف علاوں میں رہائش پذیر ہیں۔بور گائوں بھی اب خالی ہے ۔کھوڑیاں گائوں کے صرف 2کنبے، یہاں رہ گئے تھے، جنہیں حکومت کی طرف سے بازآبادی کاری پیکیج کے دائرے میں نہیں لایا گیاجس کے بعد ان کنبوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا ۔ان میں سے اب ایک کنبہ منڈیاں اور دوسرا پھرکیاں میں عارضی طور رہائش پذیر ہے ۔بھگنا اور بچوال دیہات مکمل طور پر خالی ہیں، ان میں کوئی بھی نہیں رہتا ہے اور یہ گائوں سرحد کے بالکل قریب ہیں ۔راجہ تسلیم خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ہم بھول کر بھی یہ نہیں بھلا سکتے کیونکہ اس خونی لکیر نے بھائی سے بھائی کو جدا کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ کیرن جو اب سیاحتی نقشہ پر آرہا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ منقسم کنبوں کو یہاں کی سیر کرنے اور اپنے لوگوں سے ملنے کی بھی اجازت دی جائے ۔انہوں نے کہا کہ امن کے دن لوٹ رہے ہیں اب تعمیر وترقی کے بھی ہم خواہاں ہیں ۔