کیرن میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی سے لوگوں کو مشکلات

کپوارہ// کپوارہ کا کیرن علاقہ گزشتہ70برس سے بنیادی سہولیات سے محروم ہیںدور جدید میں جہا ں سڑکو ں کو رگ حیات کی حیثیت حاصل ہے وہیں بجلی ،پانی ،تعلیم اور طبی سہولیات کے بغیر کسی بھی علاقہ کو ترقی یافتہ علاقہ نہیں کہاجاسکتا ہے ۔کپوارہ ضلع کا کیرن ایسا ہی ایک دور درازعلاقہ جو حد متارکہ پر 4پنچایتی حلقوں اور 15ہزار کے قریب آ بادی پرمشتمل علاقہ ہے ۔کیرن پاترو ں ،کنڈیا ں ،منڈیا ں ،کلس ،ناگا ،بنی ،ترنگڑیا ں ،منڈو ں کیرن بالا اور کیرن پائین دیہات پر مشتمل ہے اور اس کثیر آ بادی کے لئے ایک پرائمری ہیلتھ سینٹر اور ایک ہائر سیکنڈری سکول ہے جبکہ بجلی سپلائی صرف جنریٹر کے ذریعے چند گھنٹوں کے لئے فراہم کی جاتی ہے ۔کیرن کے کسی بھی گائو ں کے لئے کوئی پکی سڑک تعمیر نہیں کی گئی اور فرکیاں ٹاپ سے کیرن کو جو ڑ نے کے لئے واحد سڑک کی حالت بھی اس قدر ناگفتہ بہہ ہے کہ معمولی بارشو ں کے نتیجے میں یہ سڑک مٹی کے تودے گر آنے کے نتیجے میں بند ہوتی ہے۔ مقامی لوگو ں نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ علاقہ میں ہیلتھ سنٹر کا ہونا نہ ہونے ہونے کے برابرہے کیونکہ مذکورہ اسپتال میں نہ کوئی جدید مشینری اور نہ ہی مناسب طبی و نیم طبی عملہ ہے ۔مقامی لوگو ں نے مزید بتا یا کہ گزشتہ موسم سرما کے دوران بھاری برف باری کی وجہ سے سڑک بند ہونے کی وجہ سے کیرن کا رابطہ ضلع صدر مقام سے 5مہینے کٹ کر رہ گیا اور اس دوران متعدد زچگی کے واقعات پیش آئے لیکن اسپتال میں سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے درد ذہ میں مبتلا خواتین کو کپوارہ کا رخ کرنا پڑا تاہم سڑک بند ہونے کی وجہ سے انہو ں نے راستے میں ہی بچو ں کو جنم دیا جو دور جدید میں ایک المیہ سے کم نہیں ہے ۔کیرن کے کسی بھی گا ئو ں میں آج تک کوئی بھی سڑک تعمیر نہیں ہوئی ہے جس کے نتیجے میں لوگ پگڈنڈیو ں کا سہارا لیکر ا پنے گھرو ں تک پہنچ جاتے ہیں ۔منڈیا ں ،کنڈیا ں ،پاترو ،کلس ،ناگا اور دیگر علاقوں کے لوگو ں کو سڑک رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ ضروریات زندگی آج کے دور میں بھی کیرن سے کندھو ں پر اٹھا کر گھر پہنچاتے ہیں ۔مقامی لوگو ں کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ سال سابق ضلع ترقیاتی کمشنر نے کیرن میں عوامی دربار منعقد کیا جسمیں انہوں نے لوگو ں سے وعدہ کیا کہ کیرن کے ہر گائو ں کو سڑک رابطہ سے جو ڑ دیا جائے گا اور اس سلسلہ میں کیرن بالا اور کیرن پائین کے لئے سڑک کا کام ہاتھ میں لیا گیا ۔لوگو ں نے بتا یا کہ اس سڑک پر صرف زمینی کام کیا گیا اور بعد میں ادھورا چھو ڑ دیا گیا جبکہ کئی اہم نالو ں پر زیر تعمیر پل بھی تشنہ تکمیل ہے ۔علاقہ کیرن میں ایک ہائر سکینڈری سکول قائم ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ طلبہ کو دور دراز اور پہاڑی علاقوں سے یہا ں پہنچنے کے لئے پیدل سفر طے کرنا پڑتا ہے ۔ایک طالب علم طاہر نے کہا کہ پورے کیرن کے لئے ایک ہائر سکینڈری سکول ہے جہا ں محض کئی مضامین پڑھائے جاتے ہیں اور جن طلبہ کو دیگر مضامین پڑھنے کا شوق ہوتا ہے اس کے لئے مذکورہ ہائر سکینڈری سکول میں کوئی انتظام نہیں ہے ۔طلبہ کا کہنا ہے کہ آ رٹس اور سائنس مضامین کے بغیر مذکورہ ہائر سکینڈری میں کوئی مضمون پڑھایا نہیں جاتا ہے ۔ مذکورہ ہائر سکینڈری کی عمارت خستہ ہے اور کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ پیش آنے کا خدشہ ہے ۔علاقہ کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ یہاں پر اگرچہ سولر لائٹس فراہم کی گئی ہیں لیکن ایک بہتر اور مکمل بجلی نظام کے لئے لوگ ترس رہے ہیں ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ کیرن میں ایک جنریٹر نصب کیا گیا ہے جس سے صرف شام کے وقت 3گھنٹہ بجلی فراہم کی جاتی ہے ۔لوگو ں نے بتا یا کہ یہا ں کے لوگو ں میں اس وقت خوشی کی لہر دو ڈ گئی جب سابق ضلع ترقیاتی کمشنر نے ایک عوامی دربار کے دوران یقین دلایا کہ نومبر2018میں کیرن کو بجلی سپلائی فراہم کی جائے گی لیکن تب سے اب تک مزید 6ماہ گزر گئے لیکن وہ وعدہ ابھی تک پورا نہیں کیا گیا ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ میلیال سے کیرن تک بجلی کے کھمبے کھڑے کئے گئے لیکن ابھی تک ترسلی لائن کو نہیں جو ڑ دیا گیا ۔لوگو ں نے بتایا کہ اکیسوی صدی میں بھی کیرن علاقہ مو صلاتی نظام سے محروم ہے اور یہا ں پر ایک ٹیلی فون بوتھ تو ہے لیکن اس پر لوگو ں کی اتنی بھیڑ ہوتی ہے کہ اکثر و بیشتر لوگ بغیر فون کال  کئے واپس چلے جاتے ہیں ۔لوگو ں نے مطالبہ کیا کہ کیرن علاقہ میں ایک ٹاور نصب کیا جائے ۔اس حوالہ سے ضلع ترقیاتی کمشنر کپوارہ انشل گرگ نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ بجلی پروجکٹ پر عنقریب دو بارہ کام شروع کیا جائے گا اور اب اس میں معمولی کام باقی ہے اور کیرن کو بجلی سپلائی فراہم کی جائے گی جبکہ سڑک کی خستہ حالی کے حوالہ سے بیکن محکمہ سے بات ہوئی ہے اور عید کے بعد اس سڑک پر میگڈم بچھانے کا کام شروع کیا جائے گا ۔انہو ں نے کہا کہ کیرن میں دیگر ادھورے پروجیکٹوں پر بھی کام شروع کیا جائے گا ۔انشل گرگ نے کہا کہ وہ کپوارہ کے دور دراز علاقوں کے سبھی مسائل کا ازالہ کرنے کے لئے کو شاں ہیں ۔