کیرن مسلسل کئی روز سے ضلع ہیڈکواٹر سے منقطع

سرینگر // سرحدی قصبہ کیرن کا رابطہ مسلسل کئی دنوں سے ضلع ہیڈکواٹر سے کٹا ہوا ہے جس کے نتیجے میں لوگ مشکلات سے دوچار ہیں۔ ادھر جاڈہ کرناہ کے لوگوں کا الزام ہے کہ سڑک کے بند ہونے کے سبب وہ شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ کٹھن موسمی صورتحال کے بیچ کیرن کے لوگ شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور اس سرحدی علاقے کا رابطہ بھی مسلسل کئی دنوں سے ضلع ہیڈکواٹر سے کٹا ہوا ہے۔کیرن کے لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ علاقے کی حالت ایسی ہے کہ وہاں نہ تو دکانوں پر اشیاء ضرریہ دستیاب ہیں اور نہ ہی ہسپتالوں میں ادویات موجود ہیں۔انہوں نے کہاکہ علاقے کے مریضوں کو بھی سرینگر یا پھر کپوارہ کے ہسپتالوں تک پہنچانے کے حوالے سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہے۔مقامی لوگوں نے محکمہ بیکن پرالزام عائد کیا ہے کہ بیکن سڑک کو کھولنے میں مکمل طور ناکام ہے۔ایک مقامی شہری محمد وسیم نے بتایا کہ علاقے میں اس وقت کئی لوگ شدید بیمار ہیں جنہیں سرینگر یا کپوارہ پہنچنا نے کیلئے لوگ ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔مقامی لوگ مانگ کر رہے ہیں کہ درماندہ مسافروں کے ساتھ ساتھ بیماروں کو بھی ہلی کاپٹر سروس کے ذریعے ہسپتالوں تک پہنچایا جائے۔ادھر سرحدی تحصیل کرناہ کی گوجر بستی جاڈہ کے لوگوں کا الزام ہے کہ اْن کی سڑک بھی گزشتہ ایک ماہ سے برف باری کی وجہ سے بند پڑی ہے اور سڑک کے بند ہونے کے سبب نہ صرف علاقے کے بیماروں کو ہسپتال تک پہنچانے میں لوگوں کو دقتوں کا سامنا ہے بلکہ لوگ شدید مشکلا ت سے بھی دوچار ہیں۔مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا کہ سڑک کو بحال کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں تاہم اس حوالے سے کوئی بھی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہے۔نیشنل کانفر نس کے لیڈر اور سابق ایم ایل اے کرناہ کفیل الرحمان ،پی ڈی پی لیڈر اور سابق ایم ایل اے راجہ منظور اور قانون ساز کونسل کے رکن جاوید احمد مرچال نے انتظامیہ سے مانگ کی ہے کہ کیرن اور جاڈہ کی سڑکوں کو بحال کرنے کے علاوہ سرحدی علاقوں میں راشن کا وافر سٹاک مہیا رکھا جائے۔