کیرن سیکٹر میں پاکستانی جنگجو ہلاک ، لا ش کو پاکستانی حکام کے حوالے کرنے کی خاطر ہارٹ لائن پر رابط قائم کیا گیا: فوج

سری نگر//فوج نے شمالی ضلع کپوارہ کے کیرن سیکٹر میں ایل او سی پر در اندازی کی ایک کوشش کو ناکام بناتے ہوئے ایک پاکستانی جنگجو کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔
 
28 ڈویژن کے میجر جنرل ابھجیت پنڈھاکر نے بتایا کہ لاش کو پاکستانی حکام کے حوالے کرنے کی خاطر رینجرس کے ساتھ رابط قائم کیا گیا ہے۔
 
میجر جنرل کے مطابق حد متارکہ پر امکانی دراندازی کو ناکام بنانے کی خاطر فوج کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔
 
کپواڑہ میں ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران 28 ڈویژن یونٹ سے وابستہ میجر جنرل ابھجیت پنڈھاکر نے بتایا کہ ہفتے کے روز دن کے تین بجے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیرن سیکٹر میں ایل او سی پر جاکیٹ اور پٹھان لباس میں ملبوس ایک درانداز کو دیکھا گیا۔
 
انہوں نے کہا کہ وہاں تعینات فوجی جوانوں نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس درانداز کی طرف سے دراندازی کی کوشش کو ناکام بنایا اورا س کو موقع پر ہی مار گرایا گیا ۔
 
 
میجر جنرل کے مطابق مہلوک درانداز کی شناخت پاکستان سے تعلق رکھنے والے محمد شبیر کے بطور ہوئی ہے۔
 
اُن کے مطابق مہلوک کی تحویل سے ایک اے کے 47 رائفل، سات گرینیڈ اور دیگر اسلحہ وگولہ بارود برآمد کیا گیا جبکہ اُس کے قبضے سے ویکسنیشن سرٹیفکیٹ اور شناختی کارڈ بھی برآمد کرکے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
 
انہوں نے بتایا کہ مہلوک جنگجوسے برآمد شدہ کاغذات کی جانچ پڑٖتال کے دوران اُس سے فوجی وردی میں بھی دکھایا گیا ہے۔
 
فوجی آفیسر نے بتایا کہ مذکورہ ملی ٹینٹ نے دراندازی کی خاطر اُسی روٹ کا استعمال کیا جہاں سے گزشتہ سال اپریل کے مہینے میں پانچ جنگجو اس طرف آئے تھے جنہیں کیرن سیکٹر میں ایک تصادم کے دوران مار گرایا گیا تھا۔
 
میجر جنرل کے مطابق پاکستانی آرمی کے ساتھ ہارٹ لائن پر رابط قائم کرکے ملی ٹینٹ کی لاش کو واپس لینے کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئی ہے۔
 
اُنہوں نے کہا کہ کپواڑہ میں امکانی دراندازی کے واقعات کو ناکام بنانے کی خاطر فوج کو چوبیس گھنٹے متحرک رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔
 
ان کے مطابق سرحدوں پر تعینات افواج کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔
 
بتادیں کہ گزشتہ سال ہندوپاک افواج کے درمیان سرحدوں پر امن و امان کے قیام کی خاطر ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ فوج کا کہنا ہے کہ کیرن سیکٹر میں پاکستانی درانداز کی جانب سے بھارتی حدود میں گھسنے کی کوشش معاہدے کی خلاف ورزی ہے کیونکہ پاکستانی رینجرس کو اس بات کی پوری علمیت ہوتی ہے کہ ملی ٹینٹ بھارتی حدود میں گھس رہے ہیں۔