کیرن اورمژھل کے پرائمری ہیلتھ سینٹر سرحدی آبادی کی طبی سہولیات پوراکرنے سے قاصر

اشرف چراغ

کپوارہ// پرائمری ہیلتھ سینٹر مژھل اور کیرن کا درجہ بڑھانے کا عوامی مطالبہ زور پکڑ رہا ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ موسم سرما کے دوران سڑکیں بند رہنے کے نتیجے میں یہا ں کے لوگو ں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہیں ۔مژھل اور کیرن کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے سرحدی علاقوں کی ترقی کی ایک جامع پالیسی ہے جو ایک خوش آئند قدم ہے لیکن اس سے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں طبی سہولیات بھی ایک مسئلہ ہے ۔مژھل جو ضلع صدر مقام سے 56کلو میٹر دور حد متارکہ پر واقع ہے،کاجغرافیائی رقبہ 2121ہیکٹر ہے اور یہا ں کی آ باد ی 4ہزار کے قریب ہے ۔یہا ں کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ پرانے زمانے کے مقابلے میں مژھل کافی بدل چکا ہے اور سرکار نے اس علاقے میں بجلی اور مو صلات کی سہولیات لوگو ں کے لئے بہم رکھی ہیں جو سرکار کی ترقی کا ایک حصہ ہے لیکن موسم سرما یہا ں کے لوگو ں کے لئے کسی قیامت سے کم نہیں ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ مژھل میں بھاری برف باری کے دوران لوگو ں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہیں جن میں علاج و معالجہ سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ یہا ں ایک پرائمری ہیلتھ سینٹر ہے جس میں محض ابتدائی علاج و معالجہ کے بعد مریضوں کو رخصت کیا جاتا ہے لیکن موسم سرما میں برف باری کے نتیجے میں شدید نوعیت کے مریضو ں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہیں ۔

 

اس دوران حد متارکہ پر ایک اور گائو ں کیرن کے لوگو ں کا بھی یہی کہنا ہے کہ سرکار کی جانب سے اس علاقے میں آ ہستہ آ ہستہ ترقی ہو رہی ہے اور یہا ں کے لوگو ں نے 70سال کے بعد بہتر سڑک رابطہ اور بجلی دیکھی لیکن موسم سرما ان کے لئے مصیبت بن کر آتا ہے ۔کیرن جو ضلع ہیڈ کواٹر سے 60کلو میٹر دور ہے اور اس کا جغرافیائی رقبہ237.55ہیکٹر ہے اور یہا ں کی آبادی 5ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے ۔مقا می لوگو ں کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں زندگی کی روز مرہ ضروریات کو وہ کسی طرح سے پورے تو کرتے ہیں لیکن بھاری برف میں ان کے لئے بہتر علاج و معالجہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے ۔کیرن اور مژھل کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں کئی مریض بستر علالت پر ہوتے ہیں لیکن بہتر طبی علاج کے لئے انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ان علاقوں کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ یہا ںتو پرائمری ہیلتھ سینٹر قائم ہیں اور ان میں ہسپتال کے حساب سے ڈاکٹر اور دیگر عملہ بھی تعینات ہے لیکن موسم سرما میں ان سر حدی علاقوں میں مریضوں بالخصوص حاملہ خواتین کو بہتر علاج و معالجہ کی سخت ضرورت ہوتی ہے ۔ان علاقوں کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ آج تک بھاری برف باری کی وجہ سے متعدد درد ذہ میں مبتلا خواتین کو چارپائی پر اٹھا کر کپوارہ لے جانا پڑا ۔ان علاقوں کے لوگو ں نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ سرحدی علاقے کے پیش نظر یہا ں پر قائم پرائمری ہیلتھ سینٹرو ں کا درجہ بڑھا کر ان میں ماہر ڈاکٹرو ں کو تعینات کیا جائے تاکہ بھاری برف باری کے دوران لوگو ں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔