کیا یاتریوں کی بس نے حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کی تھی ؟

سری نگر // جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے بٹنگو میں گذشتہ رات جنگجوو¿ں اور سیکورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کے تبادلے کے دوران کراس فائرنگ کی زد میں آنے والی بس نے سیکورٹی اداروں کے امرناتھ یاتریوں کے لئے وضع کردہ قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔ ریاستی پولیس اور سی آر پی ایف ذرائع نے اس کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ یاتریوں کوشام سات بجے کے بعد کشمیر شاہراہ پر سفر کرنے سے اجتناب کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا ’سیکورٹی اداروں کی طرف سے پہلے ہی ایک باضابطہ ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ اس میں یاتریوں کو اندھیرے میں سفر کرنے سے اجتناب کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کشمیر شاہراہ اور دوسرے یاتر راستوں پر روڑ آوپننگ پارٹیز کی تعیناتی شام سات بجے کے بعد ہٹالی جاتی ہے‘۔ سی آر پی ایف کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آپریشنل) ذوالفقار حسن جنہوں نے منگل کی صبح حملے کے مقام کا دورہ کرکے شاہراہ پر سیکورٹی کی صورتحال کا آن سپاٹ جائزہ لیا، نے کہا ’اس کی تحقیقات ہوگی کہ یاتریوں سے بھری بس کو شام سات بجے کے بعد شاہراہ پر چلنے کی اجازت کیونکر دی گئی‘۔ تاہم ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ کراس فائرنگ کے زد میں آنے والی گاڑی میں جموں کی طرف روانگی کے دوران کچھ تکنیکی خرابی پیدا ہوئی تھی۔ ریاستی پولیس نے 21 جون کو جاری کردہ ایک ایڈوائزری میں کہا تھا ’یاتریوں اور ان کی گاڑیوں کی محفوظ نقل وحرکت کو یقینی بنانے کے لئے فیصلہ لیا گیا ہے کہ یاترا گاڑیوں کو ہر روز صرف سہ پہر ساڑھے تین بجے تک جواہر ٹنل کراس کرنے کی اجازت ہوگی۔ یاتریوں سے گذارش کی جاتی ہے کہ وہ اس حوالے سے ٹریفک پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کو اپنا بھرپور تعاون فراہم کریں‘۔ یو اےن آئی