کیا وہ ہوا میں تحلیل ہوئے؟

سرینگر //دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی برسوں سے انسانی حقوق کا عالمی دن ہر سال منایا جاتا ہے اور ابھی تک جتنی بھی سرکاریں آئیں ہیں انہوں نے انسانی حقوق کی پاسداری کو اپنی اولین ذمہ داری بتا کر ایسی مائوں اور بیوائوں کو انصاف فراہم کیا نہ ان کی دادرسی کی جن کے خاوند حراست کے دوران لاپتہ کردیئے گئے ہیں۔لاپتہ افراد کے والدین کی تنظیم ایسوسی ایشن آف ڈِس اپیئرڈ پرسنز یا اے پی ڈی پی نے کچھ برس قبل ایک رپورٹ تیار کی تھی جس کے مطابق کشمیر میں ڈیڑھ ہزار ایسی خواتین ہیں جن کے خاوند سکیورٹی فورسز کی حراست میں ہیں یا لاپتہ ہوگئے ہیں اور برسوں سے ان کا سراغ نہیں مل رہا ہے۔لاپتہ افراد کے لواحقین کی تنظیم کے مطابق کشمیر وادی میں 30ہزار کے قریب مائوں کے بیٹے لاپتہ ہیں اور ان 28برسوں میں ان خواتین نے کئی بار بچوں کی تلاش کی لیکن کوئی سراغ نہیں ملا اور نہ ہی انہیں کوئی انصاف فراہم کیا گیا ۔کپوارہ کنڈی کی بختی بیگم کا بچہ مشتاق احمد 1998میں سکول گیا پھر واپس نہیں آیا۔جبکہ اُس کا خاوندغلام محمد بھی بیٹے کے لاپتہ ہونے کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے لقمہ اجل بن گیا ۔ کھاگ لارکی پورہ بڈگا م کی 35 سالہ زینہ بیگم 15برسوں سے نیم بیوہ کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔وہ کہتی ہے ’’ اْس کے خاوند کو فوج نے  16اکتوبر 2002کو رمضان کے متبرک مہینے میں اْس وقت گرفتار کر کے اپنے ساتھ جیپ میں بٹھا کر غائب کر دیا جب وہ مکان سے تھوڑی ہی دور اپنے کھیت میں کھیتی کرنے جا رہا تھااب 15برس گزر گئے اْس کا کوئی بھی سراغ نہیں مل رہا ہے کہ وہ زندہ بھی ہے یا پھر اْسے مار دیا گیا ہے ۔زینہ کے دو بیٹے ہیں۔کانہامہ بڈگام کی 68سالہ خاتون تاجہ بیگم کا بیٹا اعجاز احمد جو پھیری کا کام کرتا تھا، 17برس قبل اْس کو بھی فوج نے گرفتار کیا لیکن تب سے اب تک وہ بھی اْس کی تلاش میں ہے۔ونہ گام بانڈی پورہ کی 80سالہ حاجرہ بیگم بھی 24برسوں سے حکومت سے صرف اتنا سوال کر رہی ہے کہ اُس کے بچے کہاں ہیں لیکن نہ کوئی جواب ملتا ہے اور نہ انضاف ۔80سالہ حاجرہ زوجہ مرحوم غلام محمد صوفی ساکن ونگام بانڈی پورہ کے دو بیٹے 23سالہ شبیر احمد صوفی اور 20سالہ اعجاز احمد صوفی 1993میں لاپتہ ہو گئے جبکہ دیگر 2 نذیر احمد صوفی اور محمد رفیق صوفی فورسز کے ہاتھوں جابحق ہوئے لیکن 24سال میں بھی حاجرہ کو انصاف نہیں ملا ۔اوڑی کے نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے80سالہ محمد اسماعیل کا اکلوتا بیٹا لطیف احمد 20برس قبل نوشہرہ اوڑی سے فوج نے اغواکیا پھر نہ وہ واپس آیا اور نہ اُس کی لاش ملی ۔اوڑی نوشہرہ کے ہی ایک اور شہری محمد سعید خان کا بھائی بشیر احمد خان جس کی عمر 40برس تھی کو 1998میں ایس  ٹی ایف نے گھر سے لاپتہ کیا اور پھر نہ وہ آیا اور نہ اُس کی لاش پہنچی ۔بونیار کے ہی نوشہرہ شالہ دجن کے رہنے والے عزیز خان بھی بھائی کی تلاش پچھلے 21برسوں سے کر رہے ہیں۔شاہ محمد خان زمینداری کرتا تھا 1996میںکریک ڈاون کر کے اُس کی گرفتاری عمل میں لائی  گئی اور لاپتہ کیا گیا۔صبیہ آزاد24برسوں سے عید کی حقیقی خوشیوں میں شامل ہونے کا انتظار کر رہی ہے،مگر انتظار ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا۔ صبیہ آج بھی وہ دن بھول نہیں رہی ہے،جب صرف 6ماہ کی دلہن تھی اور1993میں اس کے شوہر ہمایوں آزاد کو مہجور نگر پل پر سرحدی حفاظتی فورس نے گرفتار کیا تھا،اور آج تک اس کا کوئی بھی آتہ پتہ نہیں چلا۔اے پی ڈی پی کی چیئرپرسن پروینہ آہنگر کہتی ہیں کہ اے پی ڈی پی‘‘ گذشتہ 2دہائیوں سے لاپتہ افراد کو ڈھونڈنے کیلئے ہر ماہ کی10 تاریخ کو احتجاجی دھرنے دے رہی ہے اور اپنے اس مطالبے کو دہراتی ہے کہ لاپتہ کئے گئے افراد کو بازیاب کرنے کیلئے ایک آزاد کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔