کیا لاک ڈاون کرونا سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے؟

کرونا وائرس نے پوری دنیا کو پریشان کر دیا ہے ۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے بھی گٹھنے ٹیک دئیے ہیں۔ دنیا کے سائنس دان اسی کوشش میں ہیں کہ اس بیماری کا کوئی علاج دریافت کیا جائے لیکن ابھی تک اس امر میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس طرح کا کوئی امکان نظر آرہا ہے ۔اگر چہ دنیا کے بیشتر ممالک نے ویکسین تیار کی ہے لیکن ماہرین کہ نظروں میں یہ ویکسین  اس بیماری کا مستقل علاج نہیں ہے بلکہ اس ویکسین سے صرف انسان کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ یہ ویکسین لینے کے بعد کچھ لوگ کرونا پازٹیو پائے گٰے دینا تقریباً ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے سے اس وبائی مرض سے نمٹ رہی ہے، اس دوران لاک ڈاؤن بھی کر دیا گیا جس سے پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ہندوستان بھی اقتصادی دلدل میں پھنستا ہوا نظر آرہا ہے ۔کرونا میں کمی آنے کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی گی اور بعد میں مکمّل طور پر ہٹا دیا گیا کیونکہ لاک ڈاؤن سے اور زیادہ سنگین مسائل ابھر کر سامنے آئے۔ گھریلو تشدد میں اضافہ، منشیات کا بڑھتا رجحان، بے روزگاری ،دل کا دورہ اور نہ جانے کتنے مزید مسائل نے جنم لیا۔ اس دوران جہاں ملک کی اقتصادی حالت کمزور ہو گئی وہاں محکمہ تعلیم سب سے زیادہ متاثر ہوا بچے ڈیڑھ سال سے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ۔اگر چہ آن لائن کلاسس کا اہتمام کیا گیا تاہم  یہ طریقہ چھوٹے بچوں کے لیے انتا زیادہ سودمند ثابت نہیں ہوا ۔لاک ڈاؤن سے بچوں کا مستقبل تاریک بنتا جارہا ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا لاک ڈاؤن ہی کرونا سے نمٹنے  کا واحد راستہ ہے کیا احتیاطی تدابیر کو اپنا کر زندگی کی پٹری کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا  ہے یہ ایک ایسا سوال ہے، جس پر ارباب اقتدار اور ذمہ دار لوگوں کو ضرور غور کر لینا چاہیے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی اس ضمن میں کہا ہے کہ دنیا کے سائنس دانوں کو اس بیماری کا علاج نکانے کی کوشش کر لینی چاہیے تاہم یہ بیماری جلد ختم ہونے کے آثارِ نظر نہیں آرہے ہیں، لہذا دنیا کو کرونا وائرس کے ہمراہ جینے کی عادت ڈالنی ہوگی بلکہ اسی حال میں جینا سیکھنا ہوگا ۔خدا نخواستہ اگر کرونا وائرس کی بیماری ایک لمبے عرصے تک چلتی رہی تو کیا اس دوران تمام کاروباری ادارے بند رہیں گے، کیا تعلیمی ادارے بند رہیں گے، ماہرین کا ماننا ہے کہ احتیاطی تدابیر کو اپنا کر زندگی کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے ۔صرف لاک ڈاؤن ہی اس مسلے کا حل نہیں ہے۔ اس ضمن میں حال ہی میں جموں وکشمیر انتظامیہ نے بھی یہ فیصلہ لیا تھا کہ صرف ان ہی اسکولوں کو بند کیا جائے گا، جہاں سے کرونا کا کوئی مثبت کیس درج ہوگا، اسے ایک خوش آئند قدم کو بطور دیکھا گیا تھا لیکن سرکار کی طرف سے ایک اور حکم نامہ جاری ہوا ہے کہ آنے والے پندرہ دن تک تمام اسکول بند رہیں گے جبکہ عوامی راے ہے کہ ایسا کرنے سے تعلیمی نظام پھر سے درہم برہم بلکہ مفلوج ہونے کا اندیشہ ہے جو بہت مشکل سے پٹری پر لوٹ آیا ہے۔  اگر چہ بہت سے سیر و تفریح کے مقامات کھلے ہیں اور ان پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن اسکول بند کرنے کا حکم نامہ جاری ہوا ہے۔ آخر اس قوم کا کیا گا، ہم تباہی کی جانب گامزن ہے۔ کرونا وائرس صرف تعلیمی اداروں میں ہی کیوں؟انتظامیہ کو چاہیے کہ تمام تر احتیاطی تدابیر پر زور دے کر تعلیمی سفر جاری رکھا جائے کیونکہ تعلیم اب بنیادی ضرورتوں میں شمار ہوتی ہے اور تعلیم سے کسی بھی صورت میں مفاہمت کرنا قوم کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے  تعلیمی سرگرمیوں کو بلا کسی رکاوٹ کے جاری رکھا جانا چاہئے جو کہ وقت کی اشد ضرورت ہے جب تک اس وبائی مرض کے خاتمے کے لیے کسی موثر ویکسین کی ایجاد ممکن ہو، ہم سب کو کرونا وائرس کی پہلی لہر سے سبق سیکھ لینا چاہیے کہ ہم سب کی لاپرواہی کی وجہ سے مکمّل لاک ڈاؤن کی نوعیت آگئی تھی اور ایک سال تک لاک ڈاؤن کرنا پڑا تھا، جس سے شاید ہی کوئی شعبہ ایسا ہو جو بری طرح سے متاثر نہ ہوا۔ اس لاک ڈاؤن سے پیدا شدہ صورتحال کی بازگشت اب بھی سنائی دیتی ہے ۔ان دنوں کرونا کی بیماری میں پھر ایک بار اچھال آگیا ہے۔  آئے دن مثبت کیسز میں اضافہ ہوتا ہوا دکھایا جارہا ہے جو ایک تشویشناک بات یے ہمیں گھبراتا نہیں ہے  بلکہ اب کی بار ہمیں بہت ہی ہوشیاری اور عقل مندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ماہرین صحت کی وضع کردہ تدابیر پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ جس طور ہماری زبان دانتوں کے بیچوں بیچ رہتی ہے اور کبھی بھی دانتوں کے نیچے نہیں آتی ہے، اسی طرح سے ہمیں کرونا کے بیچوں بیچ اس احتیاط سے رہنا ہوگا کہ کرونا کے شکار نہیں بنیں کیونکہ ہماری چوک ہمارے لیے کسی بہت بڑی پریشانی کا سبب بن سکتی ہے ۔لہٰذا احتیاط برتنا بے حد لازمی ہے تاکہ زندگی کا پہیہ پھر سے جام نہ ہونے پائے ،خاص کر ہمارے تعلیمی اداروں پر پھر سے مکمل طور پر تالے نہ لگ جائیں ۔