کیا زندگی کا خاتمہ ہی مسائل کا حل ہے؟

اگر انسان کو اول درجے پر اس دنیا میں کوئی شئے عزیز سے عزیز ترین ہوتی ہے تو وہ ہے انسان کی خود کی جان،مگر مختلف اقسام کے مصائب و مشکلات نے ہمارے معاشرے کا اس قدر گھیراؤ کرلیا ہے کہ آج انسان عزیز سے عزیز ترین چیز یعنی اپنی جان کو بھی بڑی آسانی سے ضائع کرتا ہے۔ پچھلے چند دنوں سے وادی کشمیر کے کہیں اطراف سے بھی خودکشی کے واردات سامنے آرہے ہیں، جو کہ بہت ہی مایوس کن اور انتہائی افسوسناک خبر ہے۔ 
سماج کا جو بھی فرد (چاہے وہ ہمارا بھائی، بہن یا ہماری ماں ہو) خود کشی کرتا ہے یا کرنا چاہتا ہے تو کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی طرح سے وہ مصائب و مشکلات کا شکار ہوتا ہے۔ جو بھی مصیبت زدہ زندگی کا خاتمہ کرتا ہے یا کرنا چاہتا ہے کہیں نہ کہیں اس کے ذہن میں یہ خیالات ابھرتے ہونگے کے خود کشی کر کے اس کے مصائب و مشکلات کا بھی خاتمہ ہو گا۔مگر یہاں میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی
 خود کشی کرنے سے اس انسان کے مصائب و مشکلات کا بھی خاتمہ ہو سکتا ہیں ؟ اور معاشرے کے ان تمام اشخاص کو بھی زندگی کا خاتمہ کرنے سے پہلے اس سوال پہ غور و فکر کرنا چاہیے!
اگر ہم سب گہرائی میں جا کے اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرے تو شاید سماج کا ہر ایک فرد  ایسے غیر قانونی اور غیر شرعی اقدامات اٹھانے سے پرہیز کرے گا۔ کیوں کہ جب بھی ایک انسان خودکشی کرتا ہے اور اپنے جان کو ناحق ضائع کرتا ہے تو دراصل وہ اپنی مشکلات گٹھاتا نہیں بلکہ اور بڑھاتا ہے۔
جی ہاں! ہم مسلمان ہیں اور ہمارا یہ عقیدہ، یقین و اعتماد ہے کہ ایک دن ہم سب نے اللہ کے سامنے اپنی ہر ایک اعمال کا جواب دینا ہیں۔بروز محشر وہ شخص اپنے خالق کے سامنے کیسے کھڈا ہو گا، جس نے یہ جان کے بھی کہ خالق نے زندگی کا خاتمہ کرنے سے سخت طور پر منع کیا لیکن پھر بھی اپنے جان کو ناحق ضائع کیا۔ کس منہ سے پروردگار کے پاس جائے گا؟
وہ اشخاص تو تباہ و برباد ہوگئے جنہوں نے چالیس(۴۰) یا ساٹھ( ۶۰) سال کے مشکلات ختم کرکے اپنی آخرت برباد کر ڈالی،  وہ زندگی برباد کر لی جس میں موت ہے ہی نہیں اور جہاں ایک انسان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہنا ہے۔ وہ افراد تو وہاں عذاب جہنم کے شکار کے ساتھ ساتھ پہلے عذاب قبر کے بھی شکار ہوں گے، اور عذاب قبر کوئی آسان عذاب نہیں جس کے بارے میں کائنات کے رہبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا: " عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو۔"اتنا ہی نہیں بلکہ اس بہن یا اس بھائی کو اس بات کا بھی جواب دینا ہوگا کہ جس ماں باپ نے آپ کو بڑھاپے کا سہارا بننے کے لیے پالا پوسا تھا اسی ماں باپ کو تمہاری خودکشی کے بعد دربدر نہ جانے کتنی ٹھوکریں کھانی پڑی۔ اور اس سے اس بات کا جواب بھی طلب کیا جائے گا کہ آپ نے تو ایک بار اپنی زندگی کا خاتمہ کیا تھا لیکن آپ کے وہ بہن بھائی پوری زندگی تڑپتے رہے جن کا اللہ کے بعد آپ ہی سہارا تھے۔ 
یاد رکھوکہ مصائب و مشکلات زندگی کا ایک اہم ترین جز ہے بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ آج جن جن اشخاص کا نام دنیا عزت احترام کے ساتھ لے رہی ہے ان کی زندگی مصائب و مشکلات سے بھری پڑی ہوئی تھی۔ لیکن مشکلات سے دور  بھاگنے کے بجائے انہوں نے مصائب و مشکلات کا ڈٹ کر سامنا کیا اور دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کی، جس کی ایک بہترین مثال اللہ تعالی کے پیغمبر اور اس کے ولی ہیں اور تواریخ میں اس بات کی بھی دلائل موجود ہے کہ اس دنیا میں جتنے بھی لوگوں نے عیش و عشرت اور عیاشی کی زندگی گزاری ان میں سے اکثر لوگ اللہ تعالی کے نافرمان بندے تھے، خالق کائنات نے انہیں ذلیل و خوار کیا جس کی کافی سارے مثالیں عیاں ہیں۔جیسے فرعون، نمرود، ابوجہل وغیرہ وغیرہ۔
معاشرے کے ہر  فرد کو چاہئےکہ اپنی زندگی کو ناحق ضائع کئے بغیر مصائب و مشکلات کا سامنا کرنے کا عزم کرلیںاور دوسروں کو بھی زندگی کے اصل حقائق کو سمجھانے کی کوشش کریںتاکہ کوئی بھی فرد اس طرح غیر قانونی و غیر شریعی اقدامات اٹھانے سے گریز کرے۔
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
ڈاکٹر اقبال
گوئیگام کنزر بارہمولہ
رابطہ:- 8803250765