کیا بھیس کروں دیس میں کرسی ذرا بتا

لوجی !سال ِ رواں نے جاتے جاتے کمال کردیا کہ عالی جناب سراغ رساں، افراسیابِ دوراں، جاسوسِ زماں قومی تحقیقاتی ایجنسی نے رازوں کی پوٹلی کھول کر اعلان ِ عام فرمایا کہ جس داعش کے خلاف امریکہ لڑ رہا ہے، جھگڑ رہاہے ، اپنی جنگ میں میزائل، بمبار جہاز اور نہ جانے کیا کیا استعمال میں لارہا ہے ،وہ تو کوئی لڑاکو ہے ہی نہیں، بس پھسپھسی ہے۔ ہم نے دس جاں بازپکڑے ، ان سے ستلی بم بر آمد ہوئے۔ یہ خطرناک لوگ ٹریکٹر کی دھویں والی نلی اور دیسی کٹے لے کر اہم شخصیات کو نشانہ بنانے نکلے تھے، بڑے شہروں پر حملے کرنے والے تھے ۔ دل جلے کہیں انہیںشرم نہیں آئی ، پلان اتنا بڑا اور تیاری اتنی چھوٹی جیسے حملہ نہ کرنا ہو بلکہ کھٹمل، جوئیں ،پسو کا شکار کرناہو ۔ یہ منہ اور مسور کی دال ۔کیا بات ہے ناگپوری تنظیم والے بھلے ہی آدھی چڈی پہنے پھریں مگر ان کے پاس تو اے سیون رائفلیں ہیں، ترشول ہیں ، تلواریں ہیں کہ جب یہ سوتنتر سینانی بیچ شہر فل ڈریس مارچ کرتے ہیں یا صبح سویرے اپنے بھگتوں کو ٹریننگ دیتے ہیں تو پورا علاقہ لرز اٹھتا ہے، پر ند وچرندسہم جاتے ہیں پھر کسی کی کیا مجال کہ کوتوالی میں بھگتوں کے خلاف رپٹ لکھوا ئے ۔بھلے جب خاکی پوشوں کی پس پردہ حمایت میسر ہو پھر کوئی آگ میں کیوں نہ ہاتھ ڈالے؟ کھنہ بل سے کھادن یار تک اور سونہ مرگ سے سورسیار تک تو ہم نے سنا تھا کہ مائوں کے بچے چوری ہوگئے،بھائی بہنوں کا سکھ چین چوری ہوگیا،باپ دادا کا سکون لوٹا گیا ،ننھے بچوں کی بینائی چھین لی گئی ،اہل علم کی مٹی پلید کی گئی اور تو اور خواتین کے سروں سے سر چادریں کھینچی گئیں۔ مانا کہ ان کی داڑھی میں تنکا نہیں ہوتامگر یہ سب کچھ کرنے والے تو ہم سب کو معلوم ہے کون ہیں ، بلکہ یہ بھی کس کی ایماء پر کیا اور کس بچائو پردے کے پیچھے کیا گیا اور بچائو بھی ایسا کہ چوری کرنے والوں پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ اور تو اور حداں ہوگئی شرافت دی کہ خود چوری ہونے والے پر الزام دھرا گیا کہ وہ تو خود ہی چوری ہونے والی جگہ پر موجود تھا یعنی ادھر نہ ہوتا تو بھلا چوری کیسے ہوجاتی؟ خیر ہم تو بات نہیں کرسکتے ،سوال نہیں اٹھا سکتے ، جواب نہیں مانگ سکتے     ؎
پولیس والے کسے ٹھہرائیں قاتل
کہاں تک جھوٹے افسانے تراشیں
کوئی قاتل نہیں ہوتا کسی کا 
خود اپنا قتل کرلیتی ہیں لاشیں
 ہم تو انسانوں کی چوری پر واویلا کرتے رہے ، سینہ پیٹا، شور مچایامگر یہ کیا، بیچ چلہ کلان بجلی ٹرانسفارمر چوری ہوگیا۔ویسے بھی یہاں کون سی بجلی مسلسل دستک دینے آتی تھی کہ لڑ مرو عاشقو میں تو وہی ہوں جو باقی جگہوں بلوں کے عوض تشریف لاتی ہوں لیکن اپنے یہاں میں فقط اپنا درشن دینے آتی ہوں تاکہ کوئی مائی کا لال بعد میں جنجال نہ کھڑا کرے کہ تم ہمیں درشن دینے کیوں نہیں آتی ؟اور یہ کہ مجھ جیسی گم شدہ حسینہ کی زیارت سے لوگ محروم رہ جائیں۔ماناکہ میری ایک آنکھ کانی ہے کیونکہ سارے لوگ ایک ہی دن ایک ہی وقت میرا درشن نہیں کرسکتے لیکن  کون میرے حسن وجمال سے متاثر نہیں!خیر بات یہ ہے کہ اب محلے کا ٹرانسفارمر چوری ہوگیا تو اسے ڈھونڈے کون او رکیسے ؟کیونکہ ان کے جسم کا ڈھیل ڈھال ، چہرے کا رنگ،صحت ناسازکا حال ایک جیسا ہوتا ہے پھر بھلا پہچان کیسے ہو؟اب کیا کریں لوگ تو مانتے نہیں ۔اسی لئے تو مودی سرکار نے آدھار بیچ میدان اُتار دیا تھاکہ کسی بھی ناگرگ کو پہچاننے میں کوئی دِقت نہ ہو۔ مگر یہ پبلک ہے نا سب جانتی ہے ، فٹافٹ عدالت عظمیٰ تک پہنچی، چیخ وپکار کی کہ آدھار سے اپنا کیا سروکار ؟ یہ صرف پریوار کے نجی معاملات میں دخل اندازی کا کاروبار ہے ، یہ جیبیں ٹٹولنے ، رسوئی کھنگالنے ، پس انداز پر ڈاکہ ڈالنے کا منجدھار ہے۔ ایک آدھار کی کیا بات انہی آہ و فریاد سے مودی کے ہر وکاسی پلان کا زعفرانی غبارہ بے کار ہوا۔ہمارا تو خیال ہے کہ بھلے ہی مودی سرکار کا سب کا ساتھ سب کا وکاس نہ چل پایا کیونکہ اس کے پاس میڈ اِن انڈیا بُلیٹ ٹرین نہیں تھی اور نہ ہی مفرور بنک قرضہ دار لاکھوں کروڑوں کا چونا لگا کر واپس لوٹے مگر بجلی ٹرانسفارمر کا بھی آدھار لازماً ہونا چاہئے جبھی تو کوئی اسے اغواء کرنے کی کوشش کرے تو پہچان کرنے اور بازیافت کر نے میں رنگروٹوں کو دقت پیش نہ آئے۔نہیں تو محلے محلے، گائوں گائوں ، بستی بستی سر قہ ٔ ٹرانسفارمر کی لت پڑ جائے گی اور ایسے میں لوگوں کو سردیوں کے دوران بے کاری میں جنگی کام دام مل جائے گا ، بیلچے اور کلہاڑیاں ہوا میں لہرائیں گی، کانگڑیاں ہوا میں اُچھل جائیں گی   ؎ 
ہوں بھلے بے کار لیکن کار ہونا چاہئے 
سردیوں میں بھی کچھ سرکار ہونا چاہئے
آدمی کا ہو نہ ہو پر مشینوں کا ہو ضرور
ٹرانسفارمر کا مگرآدھار ہونا چاہئے
  یہ ہوئی نا بات!اپنے ملک کشمیر کے سیاسی جنگل میں منگل منانے والے لوگ بڑی دنگل کے لئے تہہ بند باندھ گئے ہیں۔ادھر ادھر کے دائو پیچ بھی پریکٹس کرکے میدان میں اُترنے جا رہے ہیں کہ اصل لڑائی کے لئے اب زیادہ وقت نہیں بچا کیونکہ دلی دربار کا الیکشن بگل بجے گا تو اکھاڑہ سجے گا اور اس کے لئے ایک دوسرے کو چاروں شانے پچھاڑنے کی کوشش تو پہلے سے ہی کرنی ہے اور اس سب کے بیچ پہلے دشنام طرازی والا دائو کھیلنا ہے ،جس کی شروعات ہو گئی ہے۔بھائی بھتیجا واد اور خاندانی راج کو فروغ دینے والے دوسروں کو الزام دینے لگے ہیں،بم بارود کے نام پر بھی لعن طعن کا سرمائی میچ سیاست کے پِچ پر شروع ہو گیا ہے۔ المختصر آگے والا بندر پیچھے والے بندر کے طنز کے تیروں سے لہولہاں لگتا ہے اور وہ پھر بپھر کر خوں خوں کرتا ہے۔ خیر وہ تو ان کے بیچ ہوگا لیکن اپنے سیدھے سادھے عوام کو بھی ٹرخانے کا عمل شروع ہوگیا ہے ۔ہمیں کیا ہم تو خوشی میں شور شرابے میں مصروف ہیں کہ اب تو اپنے ملک کشمیر کے تشخص، ادھر کے ۳۷۰ اور ۳۵۔اے کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ اس کی حفاظت کرنے چار وں اطراف دلیر اور جرأت مندسیاسی دارا سنگھ اپنا اپنا لشکر لئے میدان میں آنے لگے ہیں۔لون ہرے سے ہندوارہ ریجمنٹ کی پیدل فوج کوچ کر گئی ہے۔قمر واری سے انصاری بریگیڈ نے مورچہ سنبھالا ہے۔گپکار کی گلیوں اور پہاڑی چوٹیوں سے نیشنلی سورما ترانہ گاتے ہوئے للکار اٹھے ہیں اور جب بیروہ سے آئے ہریسہ زعفرانی اور نون چائے پلٹن  کے کمپنی کمانڈر ٹویٹر ٹائیگر دسترخوان بچھا ئے اور پلٹن کو شکم سیر کرائے، تو پوری فوج میں جوش کیوں نہ بھر جائے کہ ہوش سنبھالنا  دشوار ہوجائے۔ سناہے وہ اپنا چہیتانعرہ ٔمستانہ لگا کر اپنی جرأت رندانہ کا مظاہرہ کر بیٹھے کا   ؎
جس کشمیر کو خون سے سینچا وہ کشمیر ہمارا ہے
جس کشمیر کا خون بھی چوسا وہ کشمیر ہمارا ہے 
اور بیج بہاڑہ سے لے کرپہلگام تک طول و عرض سے اہل قلم دان مشن پر رواں دواں ہیں۔ایک طرف سلر سے میران شکست و ریخت تو دوسری طرف دیو سر سے پیران کچن کیبنٹ گنڈے تعویذ کے ساتھ کھڑے ہیں، مطلب سب یار لوگ اپنے اپنے سپہ سالار کی قیادت میں چل نکلے ہیں ، کہتے ہیں ہم ویر بہادر دلی دربار اور بھاجپا سرکار پر چڑھائی کرنے والے ہیں کہ وہی ایک ریاست کے مفادات کو زک پہنچانے کے لئے مصروف ہے ، ہم بناسپتی پہلوان ہیں، منقسم دیگ دان ہیں ، سیاست میں کنگال مگر سنہرے سپنوںمیں دھنوان ہیں ، مگر قسم اپنی روٹھی کر سی کی ہم ہر زعفرانی حملے کا خاطر خواہ جواب دیں گے ۔ترشول برداروں کو بھی منہ توڑ اور ناک پھوڑ جنگ میں ہرادیں گے     ؎
کنول سے ڈرنے والے امت شاہ نہیں ہم
گٹھ جوڑ میں کر چکا ہے تو امتحان ہمارا
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات ہے نہ ہی کوئی افواہ اُڑائی گئی ہے بلکہ خود پارٹی قیادت نے ببانگ دہل اعلان کردیا ہے کہ کچھ بھی ہو ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کے لئے جان ہتھیلی پر رکھ کر ہم نکل پڑے ہیں اور اس کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف چڑھائی ناگزیر ہے۔اتنا ہی نہیں ہماری سبھی لڑکھڑاتی تھر تھراتی فوجیں کیل کانٹے سے لیس ہیں کہ ناکام لوٹنے کا سوال نہیں۔ جبھی تو ۳۷۰ کی ٹوٹی پھوٹی ہڈیاں اور ۳۵۔اے کا لرزتا کا نپتا شریر رہ رہ کے فریاد کررہا ہے کہ بھائی لوگو! اب میری شکل دکھانے لائق نہیں کہ ہم میں روح ہی باقی ہے،  ہماراجسم تو جسم ہڈیوں کا بھی آ پ لوگ بھوسہ بناچکے ہو۔ اپنے سیاسی غوطہ خور کب ان کی سننے یا ماننے والے کہ انہیں ایسی ہی ڈبکیوں،  تیراکیوں ،رنگ بدلیوں اورجفاؤں سے سیپ حاصل ہونے کی اُمید ہوتی ہے۔ غرض اپنے ملک ِکشمیر میں دفاع پُرشوں کی فوج میدان میں آگئی ہے اور ادھر بھارت ورش میں وکاس پُرش نام کا لڑکا سب کا ساتھ کا جھنڈا اُٹھائے گلی گلی گھوما تھا ، مندر مندر کو چومتا تھا۔لڑکا اس لئے کہ اس نے اپنے وقت میں دھیان دیا ہوتا تو وکاس آج کل گھوڑی چڑھ رہا ہوتا اور یہ شخص بھی لڑکا ہی نہیں رہتا بالغ ہو اہوتا۔ایسے میں سب کا وکاس تو ہو نہ سکا تو سوالات کا جواب دینے سے ہی گھبرایا ۔اس کے بدلے مندر کا پچاری بننے کا ڈھونگ رچایا اور اب مندر کا گھنٹا ہی بجا رہا ہے ،اس اُمید کے ساتھ کہ ووٹر گھنٹے کی آواز سن کر بھجن گائیں گے اور وکاس کی آرتی نہیں اُتاریں گے نہ ہی پندرہ پندرہ لاکھ کا پاس بُک مانگیں گے   ؎ 
 اک لڑکا تھا دیوانہ سا 
وکاس وکاس وہ کہتا تھا 
رکھ کر مندر جیب میں
 مشکل پرشنوں سے ڈرتا تھا
خیر دفاع پُرش اور وکاس پُرش تو الگ بھارت ورش کے بڑے پردیش میں تو دنگا پُرش موجود ہے جس کے منہ دنگے کی آگ اُگلتی ہے اور ہر بات سے دنگا کروانے کی ہوا نکلتی ہے ،جس کے ہر بھارشن سے فسادیوں کے راشن کا انتظام ہوتا ہے،جس کے ہر شبد سے دنگا پرشنسک حوصلہ افزائی پا کر لاچاروں کو روند ڈالتے ہیں کہ انہیں کسی بھی سزا کا کو ئی ڈر نہیں کہ دنگا پُرش ان کی حفاظت کے لئے الرٹ ہے۔یوں اس کی دنگا سینا روز کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈھ کر اقلیتوں کو زیر تو کرتی ہے مگر تازہ بہ تازہ صاحبان ِاختیار یعنی وردی پوشوں پر بھی ٹوٹ پڑی کہ بلند شہر کی بلندی اتنی پستی میں چلی گئی کہ کوئی نام لیو انہیں۔دنگا پُرش کہنے کو تو بجرنگ بلی کا بھکت ہے کہ وہ اسی کے نام سے مخالفین اور اقلیتوں کو ڈراتا دباتا ہے ۔اس بیچ بجرنگ بلی کی ذات برادری کی نشاندہی کرنے نہ جانے کتنے لوگ اپنی ذہانت دکھانے لگے، اپنی عقل لڑانے لگے۔کسی نے دلت تو کسی نے مسلمان جتا یا ۔ ہنومان کو رمضان ، رحمان اور نہ جانے کتنوں سے ملایا۔ہو نہ ہو چیتن شرما میانداد کے لاسٹ بال چھکے کو یاد کرکے بجرنگ بلی کو لیگ اسپنر جتائے۔کون جانے چدمبرم اور جیٹلی بجرنگ بلی کو جی ایس ٹی حلیف یا مخالف جتائے؟کیا پتہ خود مودی بجرنگ بلی کو چائے سروس کمپنی کا ممبر بنوا لے؟بجرنگ بلی سے جی نہ بھرا تو نوئیڈا پارک کا رُخ کیا ۔ہفتے میں ایک دن مسلم اقلیت کی نماز ادائیگی کھٹکی،کمپنی والوں کو چیتاؤنی دے ڈالی کہ دنگا پُرش کے راج میں سب کچھ ہوگا پر رام راجیہ نہیں ہوگا     ؎ 
پونچھ کتے کی جو ٹیڑھی ہو تو کچھ بھی نہیں 
تیری سوچوں میں خم ہو تو جبر ہوتا ہے
رابط ([email protected]/9419009169)