کیا اسی کا نام تعلیم ہے؟

 سید مصطفیٰ احمد

حال ہی میں، میں نے اسی اخبار میں ہندوستان کے موقر رسالہ فرنٹ لائن کا حوالہ دیتے ہوئے راجستھان کے کوٹہ میں NEET اور JEE مسابقتی امتحانات کے لیے تیاری کرنے والے طلباء کی بے کسی کا رونا روتے ہوئے ہر ذی شعور انسان کو خبردار کیا تھا کہ نوجوان طلباء کے حالات خراب سے خراب تر ہونے سے پہلے ہی جاگ جانا نہایت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ میں نے بنیادی وجوہات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا تھا جس کی وجہ سے طلباء ایک ایسے بھاری بوجھ کے تلے دبے ہوئے ہیں جو کسی بھی تہذیب یافتہ قوم کے شایان شان نہیں ہے۔ 30جنوری 2024کو راجستھان کے کوٹہؔ میں ایک لڑکی نے خودکشی کی۔ مذکورہ لڑکی JEE کے لیے تیاری کررہی تھی۔ لیکن انجینئرنگ کے کالے سایوں نے اس کے پنکھ اُڑان بھرنےسے پہلے ہی کتر دیئے،جس سے اُس کی اُمیدوں پر پانی پھیرگیا اور اُس نے اپنی جان لے لی۔ اُس کے والدین پر کیا گزر رہی ہوگی،یہ تو ہر کوئی ذی ہوش محسوس کرسکتا ہے، لیکن میں خود ایک عام طالب علم ہونے کے ناطے اُس بہن کی خودکشی پر غم زدہ ہوں۔ مجھے اس لڑکی کی اُس ذہنی کوفت کا بھرپور اندازہ ہوتا ہے جس سے وہ تنہا لڑ رہی تھی۔ اُس کے والدین سے کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں، اس کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔

 

لیکن یہ بات واضح ہے کہ اُن کی بیٹی اس نظام کا شکار ہوئی، جس نظام میں ایک طالب علم کو انسانیت کی نگاہوں سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ ایک مشین کی مانند جذبات سے عاری زندہ لاش سمجھا جاتا ہے۔ ایسا نظام جس میں صرف دوسروں کو پیچھے چھوڑنے کا ایسا جنون سمایا ہوا ہے کہ طالب علم سب کچھ ہوکر بھی کچھ نہیں ہوتا ہے۔ اُس کے رات دن اِسی فکر میں گزر جاتے ہیں کہ کیا میں امتحانات میں کامیابی حاصل کرپاؤں گا؟اگر نہیں تو میرے گھر والے میرے متعلق کیا سوچیں گے،میرے رشتہ داروں کا رویہ کیسا ہوگا، ہمسائیگی میں کتنی عزت رہے گی،سماج میں کیسےچل پائوں گا، اُن کامیاب لڑکیوں اور لڑکوں کوکون سا منہ دکھاؤں گا یا دکھاؤں گی، جنہوں نے جائز یا ناجائز طریقوں سے اپنے ڈاکٹری یا انجینئرنگ کے خوابوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔ یہ وہ گڑھا ہے جس میں طلباء دھنستے چلے جاتے ہیں اور اُس مقام تک پہنچ جاتے ہیں، جہاں سے واپس لوٹنا ناممکن ہوتا ہے۔ گویااس گڑھے کا پانی زہر آلود ہے لیکن پیاس شدت کی لگی ہے۔ پیا جائے تو موت ہے اور نہ پیا جائے تب بھی موت ہے۔خیر بات وہی پر آکر رُک جاتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ خودکشیوں کی فہرست میں روزانہ کسی لڑکی یا لڑکے کا اضافہ ہورہا ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود تازہ اعداد وشمار کی تومیں مکمل تصدیق نہیں کرسکتا ہوں،تاہم بتایا یہی جاتا ہے کہ ملک میں روزانہ پچیس سے لے کر بتیس طالب علم اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرتے ہیں،جوکہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ اس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ نوجوان طلباء و طالبات میں دباؤ کی سطح کس حد تک پہنچ چکی ہے۔حالانکہ طالب علموں کو ذہنی دبائو سے نکالنے کی باتیں تو تواتر کے ساتھ ہوتی رہتی ہیں، منصوبے بنائے جاتے ہیں،روز ا نہ خباروں میں خودکشی کے موضوع پر مضامین بھی شائع ہوتے رہتےہیں۔ تعلیمی اداروں میں گلا پھاڑ پھاڑ کر یہ نصائح کی جاتی ہیں کہ زندگی جینے کا نام ہے۔ہمدردی ،باہمی اتحاد اور آپسی بھائی چارہ جیسے اوصاف ایک طالب علم کی زندگی میں بچپن سے ہی پروان چڑھنے چاہیے۔ لیکن ان ہی تعلیمی اداروں میں ایک کمزور طالب علم کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اس پر فقرے کسے جاتے ہیں، اس ماحول میں مساوات کی باتیں کرنا ایک لاحاصل کام ہے۔ جو اول پوزیشن حاصل کرے گا، اس کے سر پر سہرا باندھا جائے گا لیکن جو کسی بھی وجہ سے نمبرات لانے میں ناکام ہوا، وہ ایک سڑا ہوا کیڑا کہلائے گا، جس کی مثال Franz Kafkaکی ناول’’ the Metamorphosis ‘‘میں دیکھی جاسکتی ہے کہ کیسے ایک قیمتی زندگی بے وقعت ہوکر رہ جاتی ہے۔
اس لیے وقت کی ضرورت ہے کہ کچھ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جو نوجوان طلباء کی زندگیوں میں روشنی کے مینار بنیں۔ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں زندگی جینے کے حقیقی اصولوں پر زور دیا جانا چاہیے۔ زندگی کے اُتار چڑھاؤ سے لڑنے کا مادہ پیدا کرنے کی بھرپور کوششیں کی جانی چاہئے۔ تعلیم کا مقصد صرف ڈاکٹر یا انجینئر بننے تک محدود نہ رہے، جو بچہ جس فیلڈ کی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہو، اُس کو اسی فیلڈ میں پڑھنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ والدین پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بے جا ڈانٹ ڈپٹ سے پرہیز کرے۔ کچھ باتیں ایک طالب علم کی روح کو چھلنی کر دیتی ہے۔ جس بات سے سب سے زیادہ پرہیز کیا جانا چاہئے، وہ ہے کہ اپنے بچے کو جذباتی ہتھیاروں سے حملے نہ کیا کریں۔ ہر روز اپنے بچوں کے سامنے اپنی محنت اور مزدوری کا مِلاجُلا ڈھونگ رچانا کسی بھی طریقے سے جائز اور قابل قبول عمل نہیں ہے۔ کوئی باپ مزدوری کرتا ہے، یہ اس باپ کی قسمت، اس کی محنت اور حالات کا ہی پھل ہے کہ وہ مزدوری کرتا ہے۔ اس کا طعنہ ایک نابالغ بچے کو دینا کسی بھی زاویے سے ٹھیک نہیں ہے۔ اپنے ہاتھوں کے چھالے دکھانا، پھٹے پرانے کپڑوں کی نمائش کرنا، گھر کی بے بسی کا رونا رونا، بہنوں کی شادیوں کا بوجھ معصوم کے کندھوں پر ڈالنا، وغیرہ جیسی بے ہودہ حرکتیں ہیں جو ایک طالب علم کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ ایک بار طالب علم سے پوچھ تو لیں کہ بیٹا تو کیا بننا چاہتا ہے، تیری مرضی کیا ہے، تو کس میں خوش ہے۔ اس پر مجھے ایک نظم Father to Son یاد آرہی ہے جس میں باپ اور بیٹے کے درمیان پائے جانے والے خلا کے بارے میں جم کر بات کی گئی ہے۔ وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ہمیںدوراندیشی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم اپنے آنے والے مستقبل کو یوں پھانسی پر لٹکتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔ حکومت سے بھی میری گزارش ہے کہ تعلیم کو ایک عبادت کی طرح بنانے میں اپنا بھرپور تعاون کریں تاکہ قیمتی جانوں کازِیاںنہ ہو۔
(حاجی باغ، بمنہ، سرینگر ،رابطہ۔9103916455)
[email protected]