کہ ہمت کے کاموں میں ہے صبر

رمضان المبارک تقوی، محبت، خوف اور حسن عبادت کے ساتھ ساتھ صبر کی خوب تربیت کرتا ہے۔ روزے نفس کی تربیت کے لیے موثر ترین عبادت ہے۔ رمضان میں اصل چیز اسی کا تجربہ ہے۔ صبر کے لغوی معنی برداشت سے کام لینے یا خود کو کسی بات سے روکنے کے ہے۔ اصطلاحی شریعت کے مطابق صبر کا مطلب نفسانی خواہشات کو عقل پر غالب آنے سے باز رکھا جانے کے ہے اور اس سے شرعی حدود سے باہر نکل نہ پانے کے ہے – صبر کے عمل میں ارادے کی مضبوطی اور عزم کی پختگی ضروری ہے۔ 
دنیا جیسے دارلافانی میں اللہ تعالیٰ انسانوں کے لیے مختلف حالات پیدا کرکے انھیں آزماتا ہے۔ کسی کی آزمائش خوش حالی، صحت مندی، مال و دولت کی فراوانی، عیش و عشرت کے وسائل اور دیگر تنعّمات کے ذریعے ہوتی ہے تو کسی کو فقر و فاقہ، بیماری، تجارت میں خسارہ، جان و مال لے کر اور ذرائعِ معاش کی تنگی وغیرہ میں مبتلا کرکے آزمایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’اور ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کر رہے ہیں۔ آخر کار تمھیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے۔‘‘ (الانبیاء )
صبر جیسے اعلٰی صفت پر قرآن کریم میں فضیلت کی بے شمار آیتیں نازل ہوئی ہے۔ قرآن نے کہیں 'اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ' فرمایا تو کہیں 'اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا' فرمایا ہے۔کہیں خسارے سے بچنے والے 'سوائے حق پر اور صبر پر ڑٹے رہنے والوں ' کو قرار دیا گیا ہے تو کہیں صبر کرنے والوں سے دوہرا اجر کا وعدہ کیا گیا ہے اور کہیں دیگر نیکوکاروں سے صبر کرنے والوں کو بے حساب انداز میں اجر ملنے کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ 
اللہ رب العالمین نے قبل از وقت انسان کو آگاہ کر دیا ہے کہ اْس سے دنیا میں مختلف قسم کی آزمائشوں میں ڈال کر ضرور بالضرور امتحان لیا جائے گا – ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’ اور ہم ضرور تمھیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمھاری آزمائش کریں گے۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔" (البقرہ)
سورۃ  الاحزاب کے مطابق صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ " یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا، اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا اور وہ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں اور اس عطا میں سے جو ہم نے انہیں بخشی، خرچ کرتے ہیں-" (القصص)
اس طرح صبر کرنے والے کیلئے کافی جگہ اللہ کی بشارت ملی ہے۔ حضرت مغیرہ بن عامر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا "صبر نصف ایمان ہے اور شْکر نصف ایمان اور یقین، کامل ایمان ہے۔" (شعب الایمان :4447)
رب العالمین نے قرآن کریم میں حضرت ایوب علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ کو صبر کی اعلیٰ ترین مثال کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ آپ ؑ ایک شدید مرض میں مبتلا ہوئے لیکن صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ آپ ؑکا بیماری کی حالت میں بے انتہا صبر 'صبر ایوب' کے نام سے تا قیامت مثال بن کر رہ گیا۔ کرب و بلا کی تپتی ہوئی دھوپ، پیاس سے پھڑ پھڑانے والے معصوم اہل بیت کے ساتھ نواسہ رسول حضرت امام حسین ؑکا صبر امتیازی خط کھینچتا گیا ۔
اسی طرح صبر کے میدان میں عورتوں نے بھی بلند کمال دِکھایا ہے۔ جنگ یرموک میں صابر و بہادر ماں حضرت خنساء رضی اللہ عنہ نے اپنے چار بیٹوں کی قربانی کو پیش کیا اور ان کی شہادت پر بے حد صبر کر کے پکار اٹھی " تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں جس نے مجھے ان چار بیٹوں کی شہادت پر عزت بخشی ہے‘‘۔ 
حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے سے انمول نصیحت جو رب العالمیین کو اتنی پسند آئی کہ امتِ مسلمہ کے لیے ارشاداتِ قرآن بن گئی ہے۔ ارشاد ہے کہ "اور تجھ پر جو مصیبت واقع ہو اس پر صبر کیا کر، یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے " (لقمان)
اس کے مطابق صبر سے بڑھ کر کوئی دوہری چیز نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار نعمت، عظمت، رحمت و مغفرت حاصل ہونے کے وعدے ہیں۔
صبر کرنے پر مسلمان کو جنت کا مستحق ٹھہرا گیا ہے۔ اللہ کے رسول ؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’مسلمان کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اسے کوئی خیر حاصل ہوتا ہے تو وہ اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر کرتا ہے اور کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور صبر کرتا ہے۔ اس طرح وہ ہر حال میں اجر کا مستحق ہوتا ہے۔‘‘ (مسند احمد : 177/1)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ صبر سے بڑھ کر کوئی دوہری چیز نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار نعمت، عظمت، رحمت و مغفرت حاصل ہونے کے وعدے ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مومن کسی بھی آزمائش سے دو چار ہوتا ہے اور کسی بھی مصیبت اور پریشانی کا شکار ہوتا ہے تو یہ چیز اس کے گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتی ہے – مصائب اور آزمائشوں پر صبر کرنا اور جزع و فزع نہ کرنا بڑی عزیمت و ہمت کے کاموں میں سے ہیں – رمضان المبارک بھی اس کی خوب تعلیم و تربیت کرتا ہے جس سے غیر رمضان میں بھی اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے- یہ سب پریشانیاں و مصیبتیں تو صرف آزمائش کی مختلف شکلیں ہیں۔ جن کا مقصد صرف اور صرف ان پر راضی بہ رضا رہنا اور صبر کرنا ایک سچے مومن سے مطلوب و محمود ہے۔ اللہ رب العالمین ہمارے حال پہ رحمت و کرم فرمائے۔( آمین )
���
پتہ۔ہاری پاری گام ترال ،کشمیر،موبائل نمبر۔ 9858109109