کہنو میں سڑک کی تعمیرکےدوران پتھر گرنے سے رہائشی مکان اور شیڈ کو نقصان سڑک منظور شدہ ڈی پی آر کے مطابق تعمیر کی جاتی تو پتھریلے علاقے کا سامنا نہ کرنا پڑتا:عوام

 حسین محتشم

پونچھ//جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں “تمبرا کلانی پل تا نواں کلومٹر منڈی پھاگلہ پی ایم جی ایس وائی روڈ بذریعہ محلہ کھیت ساکن فتح پور” نام کی سڑک پر جاری کام کے دوران ہٹیاں کے مقام سے پتھر کھسک جانے کی وجہ سے محمد عارف نامی ایک شخص کا رہائشی مکان منہدم ہو گیا ہےجس کی وجہ سے اس گھر میں رہنے والے افراد لگ بھگ بے گھر ہو گئے ہیں۔مقامی شخص محمد مشتاق خان کے مطابق جو گھر منہدم ہو گیا ہے اس کے مالک نہایت غریب ہیں اور مشکلوں سے اپنا گزر بسر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے مکان کی چھت کا ٹوٹنا نہایت ہی نقصان دہ ہے کیونکہ ان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ دوبارہ سے اپنا مکان تعمیر کر سکیں گے اس لیے وہ انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ اس متاثرہ کنبہ کی بھرپور مدد کی جائے اور ان کی رہائش کے لیے کہیں محفوظ مقام پر انتظام کیا جائے۔ادھر کچھ دیگر مقامی لوگوں جن میں صدام حسین، سائیں محمد، سخی محمد، بدر دین شامل ہیں نے الزام لگاتے ہوئے بتایا کہ محکمہ پی ڈبلیو ڈی کی جانب سے نبارڈ سے منظور شدہ پروجیکٹ پر متعلقہ محکمہ اور متعلقہ ٹھیکیدار سڑک کی منظور شدہ ڈی پی آر کے برعکس کام کروا رہے ہیں، جس کی وجہ سے ایک تو آبادی کی اکثریت کا نظر اندازہو رہی ہے،وہیں سڑک محکمہ سوشل فارسٹری کی نرسری میں داخل ہو رہی ہے جس کی وجہ سے سڑک کاایک بہت بڑا حصہ خطر ناک پہاڑ میں داخل ہوا ہے جہاں سے پہاڑ آپریٹر کے قابو سے باہر ہوکر بہت سے پہاڑ نیچے کھسک گئے اور لوگوں کا مالی نقصان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ سڑک کی مطابق ڈی پی آر تحقیقات ہونی چاہئے اور ڈی پی آر کے برعکس کام کرنے پر متعلقہ ٹھیکیدار پر سبھی نقصانات کی ذمہ داری عائد کی جانی چاہئے۔ لوگوں نے مذید بتایا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ کی جانب سے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی، جس میں ڈی پی آر کے مطابق سڑک کی تعمیر کرنے پر زور دیا گیا تھا تاہم کمیٹی نے بھی ڈی پی آر کو نظر انداز کرتے ہوئے معاملہ پر مزید الجھنیں پیدا کر دی ہیں۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ اور ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اس معاملہ میں ذاتی طور پر مداخلت کرکے سڑک کو تحت منظور شدہ ڈی پی آر تعمیر کرنے کی اپیل کی۔