!کھیل کا میدان جنگ کا میدان نہیں

 تہذیب کی ترقی کے دور سے کھیلوں کے مقابلے کادور بھی شروع ہوا ۔اس کا مقصد لوگوں میں محبت اور دوستی  پیدا کرنا رہا ہے۔ کھیلوںنے انگریزی زبان کو ایک شاندار لفظ دیا: سپورٹس مین شپ  ۔اس کو صرف کھیلوں میں ہی نہیں زندگی کے ہر شعبہ میں ایمانداری،خلوص اوراخلاق کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ہمارے گائوں میں سرپنج کے انتخاب میں عام طور کہا جاتا ہے کہ جب دو پہلوان کشتی کرتے ہیں تو ایک نے تو ہارنا ہی ہوتا ہے۔ اس سے ہارنے والے اُمیدوار کوبہت سکون ملتا ہے۔اس کو کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی ہار کو کھیل کے دستور میں یعنی سپورٹس مین شپ کے تحت تسلیم کیا ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تیکھے سماجی اور سیاسی مسائل کو کھیل کود کی روح سے حل کر یں لیکن ہم  ابھی ہم کھیلوں کو اس روح پرور نگاہ سے نہیں دیکھ پا رہے۔ حال میں اول لنڈن میں ہوئے بھارت پاکستان کے کڑکٹ میچ سے پہلے ہی بہت عجیب طرح کی باتیں ہو رہی تھیں۔ ہمارے اخباروں اور ٹی وی والوں نے اس طرح بولنا شروع کر دیا کہ اس ایتوار کو دو بڑے ’’دشمنوں‘‘کے بیچ مقابلہ ہوگا، اب فیصلہ میدانِ جنگ میں ہوگا اور دونوں طرف تلواریں کھینچی جا چکی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ لفظی جنگ کوئی دیش بھگتی نہیں بلکہ کھیل بھاؤنا کی بنیاد ڈھانے کے مترادف ہے۔ یہ کہنے کی گنجائش تھی کہ دنیا کی دو بڑی ٹیموں کے بیچ آج دلچسپ میچ ہوگا لیکن دشمنوں والی بات کہاں سے آگئی، یہ میڈیا کھلاڑیوں کا ذہنی دیوالیہ پن ہے۔ یہ میچ دو ٹیموں کے درمیان دوستی میچ تھا نہ کہ دو فوجوں کے بیچ لڑائی۔ کھیل کے میدان کو میدانِ جنگ کہنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ سیاست کاری میں بھی خواہ مخواہ جنگ جیسا ماحول بنایا جاتا ہے۔سیاسی لیڈر انتخاب میں کودنے کا اعلان سٹیجوں پر ننگی تلواریں لہرا کر کرتے ہیں۔ یہ سب غلط باتیں ہے۔ انتخابات جمہوریت میں مقدس کاروائی ہوتی ہے جس کا احترام ہونا چاہیے۔ اس کو جنگ کے ساتھ مشابہت نہیں دی جا نی چاہیے ۔ ہاں اس بار بھارت اور پاکستان کرکٹ ٹیموں نے عمدہ کھیل بھاؤنا کا مظاہر ہ کیاجس کا خیر مقدم کرنا ہوگا۔ہارنے والی ٹیم کے کپتان نے جیتنے والی ٹیم کے کپتان کے ساتھ ہاتھ ملاکر مبارک باد دی۔ایسا ہی ہونا چاہیے۔ پاکستان کی ٹیم کے کپتان نے جیتنے کے بعد بھی حلیمی و سنجیدگی اختیار کی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ ٹیم انڈیا میچ کھیلنے کے لئے پاکستان آئے۔ اُس کے منہ میں گھی شکرلیکن یہ خواب تبھی پورا ہو سکتا ہے جب دونوں ملکوں کے رہنما سیاسی مسائل کو ایک طرف رکھ کر کھیل کی بھاؤنا کو سمجھیں۔ ایک بار بھارت کی ٹیم کو پاکستان کے لئے روانہ کرتے وقت سابقہ وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھا کہ میچ بھی جیتنا اور وہاں لوگوں کا دل بھی جیتنا۔ یہ بہت پیارا جذبہ ہے جسے دہرانے کی ضرورت ہے۔لنڈن کے اس میچ میں جہاں دونوں ٹیموں نے اچھا کردار پیش کیا ،وہاں ناظرین اور لنڈن میں رہنے والے پاکستانیوں اور ہندوستانیوں نے بہت بری طرح کا سلوک کیا۔ انہوں نے ایک دوسرے ملک کے خلاف نعرے لگائے اور ایک دوسرے کی طرف بوتلیں وغیرہ پھینکیں۔ ان فسادی ہجوموں کو قابوکرنے کے لئے پولیس کو ہیلی کاپٹر تک کا استعمال کرنا پڑا۔ ان لوگوں نے نہ صرف اپنے دونوں ملکوں کو بدنام کیا بلکہ سارے ایشیاء کی توہین وتذلیل کی۔ان وجوہ سے ہی اگر لنڈن کے لوگ ایشیا کے لوگوں کی بستی میں نہیں رہنا چاہتے تو اس میںان برطانوی شہریوں کا کوئی دوش نہیں کیونکہ وہ بجاطور ان لوگوںکو غیر تہذیب یافتہ کہتے ہیں، جب کہ اس الزام پر ہمارے اپنے لوگوں کے ناروا طریق کار نے زیر بحث کرکٹ میچ کے دوران مہر تصدیق کر دی ۔
کرکٹ کے بعد لنڈن میں ہی ہندوستان اور پاکستان کے بیچ ہاکی کا مقابلہ ہوا۔اس میں ہندوستان کی ٹیم جیت گئی لیکن بڑا سوال جیت اور ہار کا نہیں بلکہ کھیل کی بھاؤناؤں کا ہوتاہے ۔اس بار ٹیم انڈیا بری طرح ہار گئی ہے اور بھارتی ٹیم والوں نے اپنی وردیوں پر کالا ٹیگ لگا رکھا تھا۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ کشمیر کے بارڈر پر پاکستان کی گولہ باری سے مرنے والے بھارتی فوجیوں کے یاد میں لگائے ہیں۔ دُکھ کی بات ہے کہ وہاں فوجی گولہ باری کے شکار ہوتے ہیں لیکن مرنے والے بھارتی ہی نہیں پاکستانی فوجی بھی ہوتے ہیں۔ اس سے بھی بڑے دُکھ کی بات ہے کہ گولہ باری میں دونوں طرف کے عام شہری بھی موت یا زخموں کا شکار ہوتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا ہاکی کے میچ سے کیا تعلق جس کو نام سے ہی دوستانہ میچ کہا جاتا ہے؟ اگر دل میں ایسی نفرت وکدورت پل رہی تھی تو ان کو میچ کھیلنے کی ہی ضرورت نہیں تھی۔انہوں نے اپنے ملک کو بھی بدنام کیا اور سپورٹس مین شپ کو بھی داغ دار کیا۔ راقم نے ان کو دی ہوئی مبارک واپس لے لی ہے۔دنیا کے بہت سارے ملکوں میں آپسی جھگڑے اور تنازعات ہیں، بہت سارے پیچیدہ مسائل ہیں، سیاسی تنائو بھی ہے ۔ کھیلوںکا مقصد ان جھگڑوں اور تنازعوں کو بیچ میں لانا نہیں یاان کو بڑھانا نہیں بلکہ کم کرنا ہوتا ہے۔ہر میچ کو ’’دوستانہ میچ‘ ‘ انہی وجوہ  کے پیش نظرکہا جاتا ہے۔دو ٹیموں کے کھلاڑی آپس میں ہاتھ ملا کر میچ شروع کرتے ہیں، کھلاڑیوں کا اپنے اپنے ملک کے ساتھ پیار کا جذبہ تو جائز ہوتاہے لیکن دوسرے ملک کے ساتھ نفرت کا جذبہ کسی طرح بھی جائز نہیں مانا جا سکتا۔ یہ کھیل کی روح پر بدنما داغ ہوتا ہیجس سے دل نزدیک آنے کی بجائے نفرتوں میں بہک کر دور ہوجاتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ دوستی بنام نفرت کے معاملے میں ہم پہلے سے بہت پیچھے جا رہے ہیں۔ابھی کچھ سال پہلے تک بھی پاکستان کی ٹیمیں بھارت اور بھارت کی ٹیمیں پاکستان جایا کرتی تھیں۔ دونوں طرف سے ناظرین اور شائقین بھی بڑی تعداد میں آتے جاتے تھے۔ مانا کہ نفرتوں کے سوداگر اپنا زہر گھولتے رہتے تھے لیکن کل ملا کر اچھا ماحول  جوں توںبنا ہی لیا جاتا تھا۔ صرف چار سال پہلے ہی جالندھر میں پاکستان کی کبڈی ٹیمیں آئی تھیں۔ سارے شہر نے جی بھر کے انہیں پیار دیا۔ جب پاکستان کی لڑکیوں کی کبڈی ٹیم کو بھارتی لڑکیاں رخصت کرنے لگیں تو دونوں طرف کی آنکھیں نم تھیں۔ اس کے برعکس لنڈن کے حالیہ میچ کے بارے میں فساد وعناد کی خبریں ہمارے سامنے آئیںاور وہاں کی ایک اور تصویر شائع ہوئی ہے جس میں ایک لڑکی ترنگا جھنڈا لئے اور دوسری لڑکی پاکستان کا جھنڈا پکڑے ایک دوسرے کے گلے لگ رہی ہیں۔ اسے کہتے ہیں حقیقی سپورٹس مین شپ۔ اسی جذبے کو آج کی تاریخ میں فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے ۔
 بلاشبہ ایڈیا پاکستان میںتناؤ کافی دیر سے چل رہا ہے۔اس وجہ سے کبھی کبھی نوبت بہت ہی ناخوشگوار واقعات تک آجاتی ہے ، اگرچہ کچھ دیر بعد حالات کو ایسا رُخ دیا جاتا ہے کہ ان کے درمیان کھیلوں کے میچ منعقدہو جاتے ہیں، کبھی کبھی دونوں ملکوں کے لوگوں کے مشترکہ مشاعرے اور ادبی پروگرام بھی ہوتے رہے ہیں۔ اِدھر اُدھر کی بنی چیزوں کی تجارتی نمائشیں بھی لگتی رہیں جن میں دونوں طرف کے لوگ بہت ذوق وشوق سے شرکت کرتے رہے ہیں۔ اب یہ سلسلے قریب قریب بند پڑے ہیں۔’’ صدا ئے سرحد‘‘ بس سروس اور’’ سمجھوتہ ایکسپریس ‘‘میں سواریوں کی گنتی روز کم ہو تی جا رہی ہے۔اس سے لگتا ہے کہ ویزے کم مل رہے ہیں۔ ہر سال سکھوں کے بھاری جتھے پاکستان کے گرودواروں کے دیدار کے لئے جاتے رہے ہیں، لیکن اس بار گرو ارجن دیو کی شہادت کے دن لاہور کے لیے جتھا نہیں جا سکا۔ یہ سب دُکھ کی باتیں ہیں۔ایک قیاس لگایا جا رہا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ ملک میں آئی سیاسی وحکومتی تبدیلی کی وجہ سے تو نہیں ہورہا۔حالانکہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے کچھ عرصہ قبل اچانک لاہو رجا کر کہا تھا کہ اب آنا جانا بنا رہے گا لیکن عمل اس کے برعکس ہے کہ جتنا آناجانا پہلے تھا وہ بھی بند ہو رہا ہے۔نفرتیں پھیلانے والا میڈیا تو آپسی آمدورفت اورتجارت کو بھی مزید بند کرنے کے مفت مشورے دے رہا ہے۔ یہ میڈیا نفرتوں کا سوداگر بنتا جا رہا ہے اور یہ دونوں ملکوں کے جمہوری اور امن و مفاہمت پسند لوگوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ان گھمبیر حالات میں عوام اور عوامی تنظیموں سے یہی کہیںگے کہ کھیل کے میدان کو میدانِ جنگ نہ بننے دیں۔ انسانوں نے بہت میدانِ جنگ دیکھے ہیں، اس کی ساری تواریخ ہی میدانِ جنگوں سے بھری پڑی ہے۔ اب کھیل کے میدانوں کی ضرورت ہے، حقیقی کھیل کے میدانوں کی، جہاں کھیل کود اور ہنسی خوشی کے پھوارے ہوں۔
رابطہ 09878375903