کھٹوعہ سانحہ کو معمولی واقعہ قرار دینے پر شدید رد عمل

سرینگر// ریاستی نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا کی طرف سے کھٹوعہ میں کمسن بچی کی آبروریزی اور مابعد قتل کو معمولی واقعہ قرار دینے اور ممبر اسمبلی کھٹوعہ کو وزارت میں شامل کرنے کے خلاف کشمیر اکنامک الائنس نے7مئی کو سیکر ٹریٹ تک مارچ کرنے اور دونوں وزراء کو اندر جانے سے روکنے کا اعلان کیا۔سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کشمیر اکنامک الائنس کے چیئرمین محمد یوسف چاپری نے نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا کے کھٹوعہ واقعے سے متعلق بیان کو فرقہ پرستی اور متعصبانہ سوچ کی عکاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذہب اور سیاست سے پرے اس معاملے کو انسانیت کی نظروں سے دیکھنا چاہے،تاہم نائب وزیر اعلیٰ نے جو لہجہ استعمال کیا،وہ اس بات کی عکاسی ہے’’ وہ اپنے عہدے اور ذمہ داری سے انصاف کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے‘‘۔ الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے نائب وزیر اعلیٰ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے نے جہاں سرحدوں کو روندتے ہوئے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی،وہیں نائب وزیر اعلیٰ نے’’ تعصب کی عینک سے اس واقعے کو دیکھااور سیاست و ووٹ بنک بچانے کیلئے انسانیت کو شرمسار کیا‘‘۔  ڈار نے ممبر اسمبلی کھٹوعہ راجیو جسروٹیہ کو کابینہ میں شامل کرنے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ لال سنگھ اور چندر پرکاش گپتا کو وزارت سے الگ کر کے فرقہ پرستوں کو الگ تھلگ کر دیا گیااور دوسری جانب راجیو جسروٹیا کو وزارت میں شامل کر کے سیاسی دائو پیچ کے ذریعہ فرقہ پرستوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔انہوں نے دونوں وزراء کو اخلاقی طور پر مستعفی ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ اس بات کو واضع کریں کہ کھٹوعہ واقعے میں رخنہ ڈالنے والے لوگوں اور انکے طرفداروں کو کس قدر وزارتی کونسل میں شامل کیا گیا۔ڈار نے وزیر اعلیٰ کو صلاح دی کہ وہ یا تو ان وزراء کو بے دخل کریںیا اخلاقی طور پر از خود سرکار سے الگ ہوکر بچی کچی ساخت بچالے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ان وزراء کو بے دخل نہیں کیا گیا تو کشمیر اکنامک الائنس7مارچ کو سیکریٹریٹ تک مارچ کر کے نائب وزیر اعلیٰ اور راجیو جسروٹیا کو سیکر ٹریٹ میں داخل نہیں ہونے دینگے۔پریس کانفرنس میں الائنس کے ترجمان اعلیٰ محمد صدیق رونگہ،حاجی نثار اور کے ٹی ایف کے ترجمان اعلیٰ اعجاز شہدار بھی موجود تھے۔
 
 
 

 غیر انسانی فعل پرسیاسست قابل مذمت:قیوم وانی 

سرینگر// نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا کے کھٹوعہ واقعے پر دئیے گئے بیان کی مذمت کرتے ہوئے ایجیک(ق) کے سربراہ عبدالقیوم وانی اسے شرمناک اورغیر انسانی فعل قرار دیا۔ عبدالقیوم وانی نے کہا کہ کھٹوعہ میںکمسن بچی کی عصمت ریزی اور قتل نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی،جبکہ ہر ایک طبقے نے بلا امتیاز نسل،رنگ و قوم اس واقعے کی مذمت کی۔وانی نے کہا کہ اس واقعے پر سیاست کھیلنے اور انسانیت سوز واقعے کو معمولی قرار دینے پر سماج کے ہر ایک طبقے کو مذمت کرنی چاہے،تاکہ اس طرح کے انسانیت سوز واقعات پر کوئی بھی سیاست نہ کرے۔
 
 

انسانیت سوز واقعہ کو معمولی قرار دینا بیمار ذہنیت کا عکاس: سمجھی 

 
سرینگر//حریت (گ) کے جنرل سیکریٹری حاجی غلام نبی سمجھی نے حکمران جماعت کے نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا کی طرف سے کٹھوعہ میںاغواکاری، جنسی زیادتی اور بہیمانہ قتل کئے جانے کی انسانیت سوز کارروائی کو معمولی واقع قرار دے کر دراصل آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اصلی چہرے کو عوام کے سامنے بے نقاب کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مندر جیسی مذہبی عبادت گاہ کے اندر وردی پوش افراد کے ہاتھوں اس قسم کی درندگی کا مظاہرہ کرنا شرمناک سانحہ کو معمول کا واقعہ قرار دینا ایک بیمار ذہنیت کا عکاس ہے جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔انہوںنے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی طرف سے جموں کشمیر کے فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑنے کے لیے گوجر، بکروال اور رونگیائی پناہ گزینوں کے خلاف زیرِ افشانی کرنے کی ایک زور دار مہم شروع کی گئی ہے، تاکہ فرقہ وارانہ کشیدگی کی آڑ میں کٹھوعہ سانحہ میں ملوث مجرمین کو ڈھال فراہم کی جاسکے۔ سمجھی نے کٹھوعہ سانحہ پر سیاست کرنے والے منافق اور متعصب عناصر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دلدوز سانحات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کرنے والے تنگ نظر سیاستدانوں کا مواخذہ کرنا ایک مہذب سماج کا فرض بنتا ہے اور ان کی بیمار ذہنیت کا سدّباب کرنے کے لیے انہیں عوامی سطح پر ردّ کرنے کی سخت ترین ضرورت کو محسوس کیا جانا چاہیے۔