کھمنہ بہارآباد کا پرائمری ہیلتھ سنٹر12برسوں سے تشنہ تکمیل

 گاندربل//حاجن سوناواری کے کھمنہ بہارآباد میں زیر تعمیر نیو ٹائپ پرائمری ہیلتھ سنٹر12برسوں سے تشنہ تکمیل ہے جس کے نتیجے میں مقامی آبادی میں ناراضگی اور غم و غصہ پایا جارہا ہے۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سال 2008 میں کھمنہ سوناواری میں محکمہ تعمیرات عامہ نے نیو ٹائپ پرائمری ہیلتھ سنٹر کی تعمیر کا کام ہاتھ میں لیا تھا جس پر لاگت کا تخمینہ 93.92 طے پایا گیا تاہم 12 سال گزرنے کے باوجود بھی عمارت کا کام کروڑوں روپے خرچ کرنے کے مکمل نہیں کیا جا سکا ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عمارت کی صرف چار دیواری کھڑی کی گئی ہے جبکہ عمارت میں کوئی بھی مشینری دستیاب نہیں ہے اور نہ ہی عملہ دستیاب ہے ۔فی ا لوت یہ سنٹر ایک پُرانی عمارت کے چار کمروں میں چل رہا ہے جہاں پر نہ صرف جگہ کی کمی ہے بلکہ عملہ بھی مکمل نہیں ہے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر نئی عمارت کی تعمیر مکمل کی گئی ہوتی تو مکینوں کو علاج ومعالجہ کیلئے دیگر ہسپتالوں کا رخ نہ کرنا پڑتا کیونکہ کھمنہ بہارآباد اور اس سے ملحقہ علاقوں میں طبی سہولیات دستیاب نہ ہونے سے 40ہزار نفوس پر مشتمل آبادی کو گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق محکمہ صحت کے اعلی حکام کو بھی اس تعلق سے کوئی جانکاری نہیں ہے کہ کیوں نئی عمارت کی تعمیر مکمل نہیں ہو پا رہی ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں اگر کوئی بیمار ہو جاتا ہے تو اس کو سرینگر کی ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔بہارآباد کے غلام نبی بٹ نامی ایک شہری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ لگ بھگ ایک کروڑ روپے کی رقوم خرچ کرنے کے باوجود بھی زیر تعمیر ہیلتھ سینٹر مکمل نہیں ہورہا ہے جس کا خمیازہ آبادی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ خاص کر محکمہ تعمیرات عامہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس جانب خصوصی دھیان دیا جائے تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔