کھلی کتاب کا امتحان وقت کی اہم ضرورت نقطۂ نگاہ

سید مصطفیٰ احمد

کچھ دنوں پہلے CBSE کی طرف سے Open Book Exam یا کھلی کتاب کا امتحان کو نظام تعلیم میں شامل کرنے کی تجویز پر غور و فکر کیا گیا۔ دوسرے الفاظ میں اگلے سال سے نویں جماعت سے لے کر بارویں جماعت تک کھلی کتاب کا امتحان کی trials کی شروعات ہوگی ۔ یہ امتحانات کچھ مخصوص مضامین میں trial کے طور پر منعقد کی جائے گی۔ اس سے پھر آگے کا راستہ متعین کیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر اس بابت لوگوں کے تبصرے پڑھ کر میرے علم میں اضافہ ہوا کہ مغرب میں پہلے سے ہی کھلی کتاب کے امتحانات رائج ہیں۔وہاں کا سماجی ڈھانچہ ہی کچھ ایسا ہے کہ لوگ کھلی کتاب کا امتحان دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔لیکن ہمارے یہاں تعلیم اور زندگی کا دوسرا نام امتحانات ہیں۔ یعنی ہماری ساری تعلیم اور زندگی امتحانات کے اردگرد ہی گھومتی ہے۔ جب سے NEP 2020 کو نریندر مودی صاحب نے لاگو کیا ہے تب سے نظام تعلیم میں تبدیلیوں کا دور شروع ہوچکا ہے۔ کھلی کتاب کے امتحانات بھی اس زنجیر کی ایک کڑی ہے۔ اب جبکہ سارا دھیان طلباء پر مرکوز کیا جارہا ہے اور سائنس کے ساتھ ساتھ humanities کو بھی ایک ساتھ مربوط کرنے کی کوششیں اپنے عروج پر ہیں تو ایسے میں نظام تعلیم کو نظام زندگی بنانا خوش آئند قدم ہے۔ اگر ہم بیتے برسوںکی بات کریں تو زمانے کی رفتار کے مطابق جو نظام تعلیم اُس وقت رائج تھا، وہ اس زمانے کے ساتھ لگ بھگ ہم آہنگ تھا۔ لیکن اب زمانے کی باریکیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے زندگی کے طور طریقوں کو بدلنا بہت ضروری ہوگیا ہے۔ جس طرح سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ اقتصادی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اسی طرح نظام تعلیم میں بھی تبدیلیاں لانا اب بے حد ضروری ہے۔
دیر آید درست آید کے مصداق اب جب کہ ہر طرف تبدیلیوں کی آہٹیں ہوا میں موجود ہیں، تو ایسے میں کھلی کتاب کے امتحانات کس حد تک سودمند ہیں، اس کا مختصر جائزہ مندرجہ ذیل سطروں میں کیا جارہا ہے۔
پہلا ہے امتحانات کے خوف کا زائل ہونا۔ کھلی کتاب کے امتحانات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے موت کی طرح دِکھنے والے امتحانات طلباء کے لیے راحت کی کچھ سانسیں میسر ہوں گی۔ طلباء اب اپنے نصاب میں شامل کتابوں کا مختلف انداز سے مطالعہ کرنا سیکھ جائیں گے۔ رَٹا مارنے کی عادتیں چھوٹ جائیں گی۔ Critical thinking کا مادہ پیدا ہوجائے گا۔ چیزوں سے اوپر اٹھنے کا ہنر پیدا ہوجائے گا۔ چیزوں کو نئے زاویے سے دیکھنے کی سہولت فراہم ہوگی۔ طلباء سبق کے بیچ اور آخر میں پوچھے گئے سوالات سے ڈرنے کے بجائے خود سوالات کو ترتیب دے سکتے ہیں۔ ایک ایسا ماحول پیدا کیا جاسکتا ہے جس میں خیالات کا آزادانہ تبادلہ ہوسکے گا۔ طلباء اب تسلیم شدہ حقائق کو بھی شک کی نگاہوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں طلباء اب پتھر کی لکیر کے مانند اصولوں کے ساتھ بھی اختلافات کرسکتے ہیں۔ اس سے ذہن کے بند دریچے کھلیںگے۔ دوسرا ہے نصاب سے باہر کتابوں کا مطالعہ۔ روایتی نظام تعلیم میں گائیڈ کتابوں اور بازار میں تیار شدہ نوٹز سے سوالات کے جوابات ذہین نشین کی جاتی تھیں اور امتحانات میں صد فیصدی نمبرات حاصل ہوتے تھے۔ لیکن کھلی کتاب کا امتحان روایتی طرز پر سوالات کو یاد کرنے کے بجائے مختلف مصنفین کی کتابوں کا مطالعہ کرکے اپنی الگ سوچ قائم کرنے میں یقین رکھتا ہے۔ Orhan Pamuk,Margaret Atwood, John Galsworthy,George Bernard Shaw, Arvind Adiga, Tony Morrison, Stephen King, وغیرہ مصنفین کو پڑھنے کا موقع ملے گا، جس سے مختلف قسم کی دنیا تعمیر ہوگی۔ اس کے علاوہ الفاظ کی باریکیوں سے روشناس ہونے کا مثبت موقع میسر ہوگا جو زندگی کی حقیقتوں کو نزدیک سے جاننے اور پہچاننے میں معاون ہوگا۔لیکن ہمارے یہاں شاہکار کتابیں دکانوں پر دُھول چاٹ رہی ہیں۔ ناقص نظام تعلیم کی وجہ سے ان کا حال پوچھنے والا بھی کوئی نہیں ہے، ان کی حالت بد سے بدتر ہورہی ہیں۔ ان کتابوں میں چھپے موتی
آخرکار ردی کے ڈھیروں میں چلے جاتے ہیں۔ تیسرا ہے اساتذہ کا بدلتا ہوا رول۔ روایتی تعلیم نظام اور روایتی امتحانات میں مخصوص باتوں اور اصولوں کو ہی حتمی مان کر کامیابی حاصل ہوتی تھی۔ اساتذہ بھی نئی باتوں سے روشناس نہیں ہوتے تھے، ان کی سوچ بھی محدود ہوتی تھی۔ وہ بچوں کو پڑھانے سے پہلے کچھ مخصوص باتوں کو یاد کرکے طلباء تک پہنچاتے تھے۔ طلباء اور اساتذہ کے درمیان لمبا فاصلہ ہوتا تھا، لیکن آج اس کے برعکس ہے۔ طلباء اور اساتذہ کے درمیان فاصلے اب بے معنی ہوکر رہ گئے ہیں۔ اب طلباء ہی اساتذہ سے دس قدم آگے ہیں۔ طلباء نے ان کتابوں کا مطالعہ کیا ہوتا ہے جو کبھی کبھار اساتذہ کے اذہان میں بھی نہیں ہوتے ہیں۔ اس طرح کھلی کتاب کا امتحان اساتذہ کو tenterhooks پر رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اپنے مضمون میں ماہر بننے کے لیے اب اساتذہ کو خود بھی کتابوں سے گہرا رشتہ جوڑنا ہوگا۔ اب وہ دن بیت گئے جب طلباء کو ڈانٹ ڈپٹ سے چھپ کرایا جاتا تھا۔ اب ہر بات کو تولنے کا مزاج پیدا ہونے لگا ہے اور یہ مزاج آنے والی نسلوں میں بھی پایا جائے گا۔ چوتھا ہے تعلیم برائے زندگی۔ اب کھلی کتاب کا امتحان طلباء کو زندگی گزارنے کے لئے تیار کرے گا۔ اب چیزوں کا سرسری مطالعہ کرنا باعث شرم ہے۔ زمانے کا مزاج ہے کہ اب چیزوں کا گہرائی سے مشاہدہ کیا جائے۔ اس سے زندگی کو بھی گہرائی سے دیکھنے کا موقع ملے گا۔ زندگی کی باریکیوں کو سمجھنے کی وسعت فراہم ہوگی۔ ایک سکے کے دونوں اطراف کو جانچنے اور پرکھنے کا موقع ملے گا۔ زندگی کا اصلی مقصد کیا ہے، وہ مقصد بھی اس کھلی کتاب کا امتحان سے بھی کسی حد تک سمجھنا ممکن ہوگا۔ جب زندگی کے ہر شعبے میں تنوع پایا جاتا ہے تو کھلی کتاب کا امتحان بھی زندگی میں پائے جانے والے تنوع کو سمجھنے میں مددگار ہوگا۔
اس خوش آئند قدم کا سب کو خوش آمدید کہنا چاہیے۔ یہ ابھی اپنے trials کے دور سے ہی گزر رہا ہے اور ابھی اس کو مختلف مرحلوں سے نکل کر قانون کی شکل اختیار کرنی ہے لیکن پھر بھی ترقی کی طرف یہ ایک سودمند قدم ہے۔ روایتی طرز کے امتحانات نے بہت سارے طلباء کی جانیں لینے کے علاوہ بہت ساروں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ لاکھوں طلباء بے چینی اور پریشانی کے شکار ہیں۔ وجہ صرف cut-throat examinations جو ایک طالب علم کو مشین اور کند ذہن بنا دیتے ہیں۔ اس لیے وقت کی نزاکت کو دیکھ کر ہم سب کو ان اقدامات کو دل سے قبول کرنا چاہیے۔ ہم تعلیم کے نام پر افسردگی اور بے چینی کو اور برداشت کرنے کی اور تاب نہیں لاسکتے ہیں۔ دنیا اب مصنوعی ذہانت کی انتہا کی طرف سرپٹ دوڑ رہی ہے۔ اب انسانوں کی وقعت ہر روز ختم ہوتی جارہی ہے۔ مصنوعی ذہانت اب انسانوں کی جگہ لینے کے لئے اپنا پورا زور لگا رہی ہے۔ ان حالات میں تعلیم کو موجودہ اور آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ اس کی شروعات طلباء سے کی جانی چاہیے جو ہمارے کل کاسرمایہ ہے۔ اس ضمن میں اگر ہم طلباء کی holistic ترقی کا خوب پورا ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں تو ہم سب کو ان اقدامات کا بھرپور ساتھ دینا ہوگا جو ہمارے مستقبل کو محفوظ بنانے کا مادہ چھپائے بیٹھے ہیں۔ اس کی ایک زندہ مثال کھلی کتاب کا امتحان ہے۔ اس مضمون میں شامل باتوں سے اختلاف کیا جاسکتا بھی ہے۔ امید کرتے ہیں کہ CBSE کی طرف سے یہ اٹھایا گیا یہ نیا قدم ملک کے تعلیمی نظام کے لیے اُمید کی نئی کرن ثابت ہو۔
(رابطہ۔9103916455)
[email protected]