کھریو اورکھنموہ انتہائی آلودہ ہواکی آلودگی 133مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی

Indian labourers carry bags of cement towards a waiting truck at a warehouse on the outskirts of Hyderabad on March 16, 2010. Rising cement sales of some 13.71 million tonnes in the month of February in India have raised the price to between 190 to 205 Indian Rupees (USD 4.28 to 4.50) per bag as construction goes through an unprecedented boom in one of the world's fastest rising economies. AFP PHOTO/Noah SEELAM (Photo credit should read NOAH SEELAM/AFP/Getty Images)

درخت لگا کر فضائی آلودگی کم کی جاسکتی ہے: ماہرین

پرویز احمد

سرینگر //وادی میں ہرگزرتے دن کے ساتھ ہوا کی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے۔وادی کے آلودہ علاقے کھنموہ اور کھریو میں آلودگی کی سطح 133.86مائیکرو گرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی ہے۔ پولیوشن کنٹرول بورڈ کشمیر کے قوائد و ضوابط کے تحت کسی بھی علاقے میں 24گھنٹوں کے دوران آلودگی کی سطح 100مائیکرو گرام سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔

 

شیر کشمیر ایگریکلچر یونیورسٹی میں شعبہ ماحولیات کے پروفیسر فاروق احمد لون نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کھنمو ہ علاقے میں سیمنٹ فیکٹروں کی موجودگی کی وجہ سے اکتوبر 2019میں آلودگی کی سطح 99.87مائیکرو گرام تک پہنچ گئی تھی جبکہ نومبر 2019میں وہاں آلودگی کی سطح 120.13مائیکرو گرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر 2019میں کھنمو میں آلودگی کی سطح 181.1مائیکرو گرام فی مکعب میٹر پہنچ گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جنوری 2020میں159،فروری 118.2مائیکرو گرام فی سیکورمیٹرمارچ 2020میں آلودگی کی شرح 133.86مائیکرو گرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گیا تھا ۔ پروفیسر لون نے بتایا ،’’ کھنمو کے مقابلے میں کھریو میں آلودگی کی شرح کم ہے لیکن یہ پھر بھی عام اوسط سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھریو میں اکتوبر سے دسمبر 2019میں آلودگی کی سطح 216.6مائیکرو گرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گیا تھی ۔ انہوں نے کہا کہ جنوری 2020میں آلودگی کی سطح 153مائکرو گرام فی سیکیور میٹر تھی جو مارچ 2020تک 104.68مائکرو میٹر تک پہنچ گئی ہے۔ لسجن میں اکتوبر 2019سے لیکر مارچ 2020تک آلودگی کی سطح 141.68مائیکرو گرام فی سیکور میٹر سے بڑھ تک 249.4تک پہنچ گیا ہے۔ پروفیسر لون نے بتایا کہ ان علاقوں میں آلودگی کو کم کرنے کیلئے درختوں کو لگانا ضروری بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں سبزیوں، پھلوں اور دیگر میوہ جات کو بھی زبردست نقصان ہوتا ہے۔