کڑاکے کی سردی ،منفی درجہ حرارت اور آبی ذخائر منجمد ہونے کے تباہ کن اثرات

گاندربل // عام طور پر وادی کشمیر میں سردی کا موسم شروع ہوتے ہی مچھلیوں کی خرید و فرخت میںاضافہ ہوتا ہے کیونکہ وادی میں موسم سرما کے دوران مچھلیاں کھانے کا چلن زیادہ ہوتا ہے۔وادی میں سردی کے ایام میں مچھلیاں سب سے زیادہ فروخت ہوتی ہیں اور اس شعبے سے جڑے لوگ اسی موسم میںمچھلیوں کو فروخت کر کے زیادہ کاروبار کیا کرتے رہے ہیں۔فی الوقت وادی میں مختلف قسم کی مچھلیاں بازار میں فروخت ہوتی ہیں لیکن کشمیری مچھلی سب سے زیادہ لذیز ہوتی ہے اسی لئے اسکی قیمت بھی اچھی خاصی ہوتی ہے۔کشمیری مچھلی کے علاوہ ٹروٹ مچھلی بھی کشمیر کی پہچان ہے جسے خریدنے کی چاہت ہر کسی کو ہوتی ہے کیونکہ ان میں کانٹے نہیں ہوتے۔ٹروٹ مچھلیوں کے کاروبار کیساتھ سینکڑوں ماہی گیر وابستہ ہیں جن کا گذارا مچھلیوں کی خرید و فروخت پر ہی ہوتی ہے۔لیکن امسال ریکارڈ توڑ شدید سردی اور آبی ذخائر منجمند ہونے سے مچھلیوں کے کاروبار پر بھی اثر پڑا اور ماہی گیروں کو بھی روزی روٹی کمانے میں کافی مشکلات پیش آئے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ضلع گاندربل اور بانڈی پورہ میں سردی کے موسم میں عمومی طور پرمختلف اقسام کی 650 ٹن مچھلیوں کی خریدو فروخت ہوتی ہے۔لیکن رواں برس ایسا نہیں ہوا۔شدید برفباری اور بعد میں منفی درجہ حرارت ریکارڈ حد تک گرنے سے جھیل مانسبل ، آنچار،ولر جھیل  کے علاوہ دریائے سندھ اور جہلم کے کنارے منجمد ہونے سے ماہی گیروں کو کئی ہفتوں تک ایک کلو مچھلی  کا کوروبار نہیں ہوسکا۔محمد رفیق ڈار نامی ایک ماہی گیرنے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کشمیر میں سرد موسم شروع ہونے کے ساتھ ہی مچھلی پکانے کا سیزن شروع ہوتا ہے اور اس کاروبار سے وابستہ افراد اکتوبر سے مارچ تک لاکھوں روپے مالیت کی مچھلیوں کا کاروبار کرتے ہیں۔روزانہ ایک ماہی گیر کم سے کم دس کلو اور زیادہ سے زیادہ 25 کلو مچھلیاں پکڑنے میں کامیاب ہوتے تھے اور بازاروں میں فروخت کرتے تھے لیکن رواں جاری سرد موسم میںنالہ سندھ، مانسبل اور ولر جھیل کے کنارے منجمد ہونے سے وہ ہفتوں گھروں میں ہی محصور ہو کر رہ گئے،جس کی وجہ سے کاروبار زیادہ اچھا نہیں گزرا۔واضح رہے ضلع گاندربل میں ماہی گیری کاروبار سے وابستہ 550 افراد ہیں جن کے پاس باضابطہ محکمہ فشریز کی لائسنس موجود ہیں جو نالہ سندھ پر مختلف مقامات پر دن رات پانی میں جال ڈال کر مچھلیاں پکڑتے ہیں۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز غلام جیلانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بانڈی پورہ میں لائسنس یافتہ ماہی گیروں کی کل تعداد 2553 ہیں، جن کا گذارا مچھلیوں کی خریدوفروخت پر ہوتا ہے۔انکا کہنا ہے کہ ایک ماہ کے دوران ماہی گیر ولر، مانسبل، دریائے سندھ اور جہلم سے 12750ٹن مچھلیاں پکڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سوپور میں1250  ماہی گیر رجسٹر ہیں جو فی ماہ 9سے 10 ٹن مچھلیاں پکڑتے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ شدید سردی اور ریکارڈ توڑ منفی درجہ حرارت سے قدرتی آبی ذخائر منجمند ہونے سے کاروبار پر اثر پڑا اور ماہی گیرمچھلیاں پکڑنے میں پیچھے رہ گئے اور جس تعداد میں مچھلیاں پکڑی جارہی تھی وہ ایسا نہیں کرسکے۔تاہم دوسری جانب محکمہ فشریز اس بات کا بھی دعویٰ کررہا ہے کہ مچھلیوں کئے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔جوائنٹ ڈائریکٹر بشیر احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کشمیر وادی میں گرمیوں میںلوگ مچھلی کا استعمال بہت کم کرتے ہیں تاہم سردیوں میں اس کے استعمال میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں ماہی گیروں کی کل تعداد17200ہے جو محکمہ کے پاس تسلیم شدہ ہیں۔انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ منفی درجہ حرارت اور سردیوں میں اضافہ سے ماہی گیروں کا روزگار اثر انداز ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ندی نالے منجمند ہوگئے، پانی کی سطح کافی حد تک کم ہوگئی اور قدرتی آبی ذخائر میں مچھلیاں پکڑنا نا ممکن بن گیا۔تاہم انہوں نے کہا کہ ٹروٹ مچھلیوں کے سیل سینٹروں میں مچھلی کی فروخت میںاضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ٹراوٹ مچھلیوں کی پیدوار سالانہ 600میٹرک ٹن ہو گئی ہے اور اُمید ہے کہ اس میں اضافہ ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ اس کی خرید وفروخت میں کوئی بھی کمی نہیں ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کا فوکس اس وقت نجی سیکٹر پر ہے اور ماہی گیروں کو سیڈ فراہم کیا جارہا ہے تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو سکے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر وادی میں پچھلے سال تک ٹراوٹ مچھلیوں کے 581 فارم بنائے گئے جبکہ دوسری مچھلیوں کے 1079یونٹ قائم کئے گئے اور رواں سال ٹراوٹ کے 200اوردیگر مچھلیوں میں 50یونٹوں کا اضافہ کیا جائے گا ۔