کپوارہ میں 1ضلع ،7سب ضلع ہسپتال اور 31پرائمری ہیلتھ سنٹر موجود

کپوارہ/ /لل دید ہسپتال میںکلاروس کی دردزہ میں مبتلا خاتون ثریا کا علاج نہ کرنے اور سڑک پر جنم لیتے ہی بچے کی موت ہونے والے انسانیت کو شرمسار کرنے والے واقعہ پر جہاں وادی میں سخت تشویش پائی جارہی وہی موری کلاروس کپوارہ میں عوام میں اس بات کولیکر زبردست غم و غصہ ہے کہ اگرضلع میں بہتر طبی سہولیات فراہم ہوتیں تو حاملہ خواتین کو سرینگر کے ہسپتالوں میں منتقل نہ کرنا پڑتا جس کے نتیجہ میں آج تک کئی خواتین مرگئیں جبکہ  بطن میں پل رہے بچے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی موت کی آغوش میں نہ چلے جاتے۔موری کلاروس کی رہنے والی ثریا کے واقعہ نے کپوارہ میں لوگوں میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے کہ آج بھی ضلع میں حاملہ خواتین کیلئے مناسب طبی سہولیات کا فقدان ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر کپوارہ میں اس وقت 1ضلع اسپتال ،7سب ضلع اسپتال اور 31پرائمری ہیلتھ سنٹر موجود ہیں لیکن کسی بھی ہسپتال میں حاملہ خواتین کی ڈیلیوری ہونے کیلئے کوئی معقول طبی سہولیات مسیر کیوںنہیں ہیں ۔ لوگوں کاکہنا ہے کہ بہتر طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے سبب ڈاکٹر حاملہ خواتین کو مجبوراً سرینگر کے لل دید یا دیگراسپتال منتقل کرتے ہیں جودونوں زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے۔ لوگوں کاکہنا ہے کہ دوردراز علاقوں اور خاص کر بھاری برفباری کے دوران چار پائیوں پر حاملہ خواتین کو لاد کر کئی کلومیٹر پیدل چل کر کپوارہ سب ضلع ہسپتال پہنچانے کے واقعات کے دوران آج تک کئی خواتین لقمہ اجل بن چکی ہیں جبکہ دنیا میں آنے والے پھول ادھ کھلے ہی رہ کر بطن میں مر جاتے ہیں۔ کپوارہ کے لوگوں بالخصوص دور دراز علاقوں میں رہائش پذر لوگو ں کا ماننا ہے کہ کپوارہ سے سرینگر تک100سے150کلو میٹر تک کا سفر ہے تو ضروری  ہے کہ کپوارہ میں کم سے کم کوئی ایسا اسپتال قائم کیاجائے جہا ں دردزذہ میں مبتلا خواتین کا علاج و معالجہ کیا جاتا تاکہ وہ بچے کو بغیر مشکلات کے جنم دے سکتی ۔