کپوارہ میں معمولات بحال،ٹکی پورہ میں ہڑتال

 کپوارہ//سرحدی ضلع کپوارہ میں منان وانی کی ہلاکت کے 4روز بعد پیر کو معمولات زندگی بحال ہوئے تاہم ٹکی پورہ میں 5ویں روز بھی ہڑتال رہی اور اس دوران ضلع کے کالجوں اور دیگر سکولوں میں درس و تدریس کا کام کاج متاثر رہا۔ 4روز تک مسلسل ہڑتال کے بعد پیر کو کپوارہ قصبہ میں معمولات زندگی بحال ہو ئے البتہ ٹکی پورہ میں 5 ویںروز بھی ہڑتال رہی ۔ضلع کے تما م چھو ٹے بڑے سکولو ں میں درس و تدریس کا کام کاج متاثر رہا ۔پیر کو ضلع میں کاروباری و تجارتی مراکز کھل گئے اورسڑکو ں پرگا ڑیاں بھی معمول کی طرح چلنے لگیں۔ دریں اثناء ٹریڈرس فیڈریشن کپوارہ کی غیر معینہ عرصہ تک ہڑتال کرنیکی دھمکی کے بعد کپوارہ پولیس نے منان وانی کی نمازجناز ہ میں شرکت کرنے والے پلوامہ ضلع سے تعلق رکھنے والے33نوجوانوں ، جو پولیس کی حراست میں تھے،کو چھوڑ دیا ہے۔منان وانی، جس نے ہتھیار اٹھانے کے بعد خاصا عرصہ پلوامہ میں گذارا،جونہی وہ جاں بحق ہوا تو پلوامہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں نوجوان  ٹکی پورہ پہنچ گئے جہاں انہوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔واپسی پر 33نوجوانوں کو مختلف مقامات پرگاڑیوںکی چیکنگ کر نے کے دوران گرفتار کیا گیا۔جب اس بات کی اطلاع کپوارہ ٹریڈرس فیڈریشن کو ہوئی ،تو فیڈریشن کے صدر حفیظ اللہ بخشی کی صدارت میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر سوموار تک مذکورہ نوجوانوں کو رہا نہیں کیا گیا تو وہ غیر معینہ عرصہ تک ہڑتال کریں گے۔تاجروںکی دھمکی کے بعد ضلع انتظامیہ اورفیڈریشن کے عہدیداراں کے درمیان اتوار کی شب کئی گھنٹوں تک میٹنگ ہوئی جس میں بالآخر پولیس اور ضلع انتظامیہ نے تاجروں کے مطالبے کو مان لیا اور رات کے دو بجے کے بعد ہی 33نوجوانوں کو چھوڑ دیا گیا۔پولیس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ان نوجوانوں کیخؒاف کوئی کیس درج نہیں کیا گیا تھا۔