کپوارہ ضلع میں صحت عامہ کا شعبہ زبوں حالی کاشکار

کپوارہ//کپوارہ کے سب ضلع اسپتال کوابھی تک ضلع اسپتال کادرجہ نہیں دیا گیا ہے،جبکہ ضلع کے دیگر طبی اداروں میں بھی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے اکثر مریضوں کو سرینگر ریفر کیاجاتا ہے۔ضلع میں اس وقت ایک ضلع اسپتال ہندوارہ میں واقع ہے ،جبکہ7سب ضلع اسپتال سوگام،زچلڈارہ،کرالہ گنڈ،لنگیٹ،کرالہ پورہ،کپوارہ اور ٹنگڈار میں ہیں،جبکہ  ان کے علاوہ ضلع میں 32پرائمری ہیلتھ سینٹر،23نیوٹائب پرائمری ہیلتھ سینٹر،134سب سینٹر،6ایلوپیتھک ڈسپنسریاں،2ایس سی ایچ،اورایک ڈسٹرکٹ ٹیوبر کلوزس اسپتال قائم ہیں،لیکن اس کے باوجود مریضوں کو سرینگر ریفر کیاجاتا ہے ،جواس بات کا غماز ہے کہ ضلع میں یا توڈاکٹروں کی کمی ہے یا پھر ضلع کے اسپتالوں میں سہولیات کا فقدان ہے۔کپوارہ کے اسپتال پر اگرچہ ضلع اسپتال کا بورڈ آویزان ہے اور اس اسپتال کے نسخوں پر بھی ضلع اسپتال لکھا ہوتا ہے لیکن محکمہ صحت اس بات سے انکار کرتا ہے کہ کپوارہ کااسپتال ضلع اسپتال ہے۔اس صورتحال نے کپوارہ کے لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے کہ کہیں کپوارہ کا سب ضلع اسپتال سیاست کا شکار نہ ہوا ہواور اس وجہ سے اس اسپتال میں ضلع اسپتال کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔ضلع کے مختلف اسپتالوں میں فی الوقت146ڈاکٹر تعینات ہیں جبکہ ڈاکٹروں کی152اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ضلع بھر میں امراض خواتین کی دوڈاکٹر تعینات ہیں اورماہرامراض خواتین کی آٹھ اسامیاں خالی ہیں۔اسی طرح بچوں کے دوڈاکٹر ضلع میں موجود ہیں جبکہ ان ڈاکٹروں کی چار اسامیاں خالی ہیں۔ذرائع کے مطابق ضلع میں سرجن ڈاکٹروں کی دس اسامیوں میںسے چھ خالی ہیں اور ضلع میں صرف چار سرجن کام کرتے ہیں۔27ڈاکٹروں نے ایم ایس تو کیا ہے لیکن ابھی تک بحیثیت میڈیکل افسر کام کرتے ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق اگرچہ کپوارہ کے اسپتال کوابھی تک ضلع اسپتال کادرجہ نہیں دیا گیا ہے لیکن اس اسپتال پر مریضوں کا کافی دبائو ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس اسپتال کو فوری طور ضلع اسپتال کادرجہ دے کر یہاں ضلع اسپتال کی تمام سہولیات کو بہم رکھا جائے تاکہ یہاں سے مریضوں کو سرینگر ریفر کرنے سلسلہ رک جائے۔ذرائع نے بتایا کہ کپوارہ اسپتال میں ایک ماہر امراض چشم ہوتا تھا لیکن اس کی پوسٹ سمیت گریز تبدیلی ہوگئی اور تب سے اس اسپتال میں کوئی بھی ماہر امراض چشم نہیں ہے۔ذرائع نے بتا یا کہ اب سب ضلع اسپتال کپوارہ کی انتظامیہ سب ضلع اسپتال کرالہ پورہ میں تعینات ڈاکٹر کی خدمات حاصل کر کے آنکھو ں کے مریضوں کا علاج کراتے ہیں تاکہ مریض در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور نہ ہو۔ذرائع سے معلوم ہو اہے کہ اس دوران ضلع کے دیگر اسپتالو ں میں بھی طبی سہولیات کا سخت فقدان پایا جاتا ہے ۔سب ضلع اسپتال کرالہ پورہ میں اگرچہ ڈاکٹرو ں کی تعداد اچھی خاصی ہے لیکن بنیادی ڈھانچہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ڈاکٹرو ں کو مریضوں کو علاج و معالجہ کر نے میں سخت مشکلات درپیش ہیں ۔اس اسپتال میں ماہر امراض خواتین کی ایک تجربہ کار لیڈی ڈاکٹر تعینات ہے لیکن درد زہ میں مبتلا خواتین کو زچگی کی حالت میں کپوارہ منتقل کیا جاتاہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ سب ضلع اسپتال کرالہ پور ہ میں دردزہ میں مبتلا خواتین کے لئے نہ کوئی لیبر روم ہے اور ناہی بنیادی سہولیات میسر ہیں۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ ایسے میں ڈاکٹر کا ہو نا یا نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا ہے ۔ضلع کے دور دراز علاقوں میں قائم پرائمری ہیلتھ سنٹر 24گھنٹہ کھلے نہیں رہتے جس کے نتیجے میں یہا ں مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔آ ورہ ،درگمولہ اور لون ہرے میں قائم پرائمری ہیلتھ سنٹرو ں کی حالت زار پر لوگ ناراض ہیں ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ نا ہی ان اسپتالو ں میں کوئی ڈاکٹر تعینات ہے اور نہ ان میں طبی سہولیات موجود ہیں، جس کی وجہ سے مریضوں کو مشکلات کا سا منا کرنا پڑتا ہے ۔لوگو ں کا کہنا ہے طبی سہو لیات کی عدم دستیابی کہ وجہ سے ان اسپتالو ں میں دن بھر 4سے5مریض اپنا علاج و معالجہ کرنے کے لئے آتے ہیں ۔مذکورہ علاقوں کے لوگو ں کا مطالبہ ہے کہ ان اسپتالو ں کو 24گھنٹہ کھلا رکھنے کے ساتھ ساتھ تجربہ کار عملہ کو تعینات کیا جائے، تاکہ ان دور دراز علاقوں کے لوگو ں کو علاج و معالجہ کے حوالہ سے در در کی ٹھوکریں کھانے سے نجات مل سکے ۔