کپوارہ اور کولگام میں گرفتاریوں کیخلاف احتجاج

پلوامہ+کولگام+کپوارہ +ترال// کولگام،شوپیان اور ترہگام کپوارہ میں 4 سگے بھائیوں سمیت 15 نوجوانوں کی گرفتاری اور فورسز زیادتیوں کے خلاف شٹر ڈائون جاری رہا،جس دوران لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔کنی پورہ شوپیان میںرات کے دوران فوجی اہلکار گھروں میںگھس گئے اور انہوں نے مکینوں کی شدید مارپیٹ کرنے کے علاوہ مکانوں کی توڑ پھوڑ کی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ سڑکوں پر کھڑا کی گئی گاڑیوں کا حلیہ بھی بگاڑ دیا۔ان زیادتیوں کے خلاف یہاں سوموار کو  شدید مظاہرے ہوئے۔قصبہ میں اس واقعہ پر مکمل ہڑتال کی گئی۔ بائیک پورہ کولگام کے رہائشی سوموار کی صبح سڑکوں پر نکل آئے اور فورسز کے خلاف نعرہ بازی کی ۔احتجاجی مظاہرین نے بتایا کہ دوران شب فورسز نے گائوں میں چھاپہ مار کارروائی انجام دی اور6نوجوانوں کو حراست میں لیا ۔ فورسز اہلکاروں نے مکینوں کو ہراساں کرنے کے علاوہ املاک اور گھریلو ساز وسامان کو تہس نہس کردیا۔میر پورہ اور ٹنگواری ترہگام میں 6افراد کو حراست میں لیا گیا  جبکہ اس قبل گزشتہ دنوں 3نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ کارروائیاں اتوار اور سوموار کی درمیانی شب انجام دی گئیں ۔گرفتار شدگان میں4 سگے بھائی بھی شامل ہیں اور اُنکے اہلخانہ کو ہراساں بھی کیا گیا ۔گرفتار شدگان میں سے دو سگے بھائی ہلال احمد ملک ،اعجاز احمد ملک ساکن مقبول آباد ،بشیر احمد شیخ ولد مرحوم خلیل شیخ ساکن شیخ پورہ اوربلال احمدشیخ اور اس کا بھائی پسران عبدالغنی شامل ہیں ۔معلوم ہوا ہے کہ دوران شب گرفتاریوں کے خلاف یہاں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ۔ادھرترال میں سوموار کو تین روز کے بعد حالات معمول پر آ گئے ہیںتاہم انٹرنیٹ سروس کو بدستوربند رکھا گیا ۔سوموار کوبازار کھلنے کے ساتھ ساتھ تمام سرکاری و غیر سرکاری دفاتر کھل گئے  اور ٹریفک کی آوا جاہی بھی جاری رہی۔اس دوران علاقے میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے تمام نوجوانوں کو مقامی پولیس تھانوں کے حوالے کیا گیا ۔پولیس کے ایک اعلیٰ آفسر نے بتایا گرفتار شدہ نوجوانوں کو والدین کے حوالے کیا گیا ۔ترال میں برہان وانی کی پہلی برسی کے سلسلے میں دو روز تک سخت کرفیو نافذ رہنے کے علاوہ گزشتہ روز علاقے میں مکمل ہڑتال رہی ہے جبکہ ترال کے طرف رخ کرنے اور برہان کی برسی میں شامل ہونے کے لئے 30کے قریب نوجوانوں کو مختلف مقامات سے گرفتار کیا گیا تھا ۔