کپوارہ ،کیرن اور لولاب کی بیشتر سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل | عوام بیکن ،آر اینڈ بی اور پی ایم جی ایس وائی محکموں سے برہم

کپوارہ//شمالی ضلع کپوارہ میں متعدد سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ مقامی لوگوں نے سڑکوں کی اس ابتر حالت کیلئے بیکن ،آر اینڈ بی اور پی ایم جی ایس وائی محکموں کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔کرناہ کے با غ بیلا سے لیکر چھمکو ٹ تک سڑک انتہائی خستہ حالت میں ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ اگرچہ کرناہ کی کئی سڑکو ں پرمیکڈم بچھایا گیا لیکن با غ بیلا سے لیکر چھمکو ٹ کی سڑک کو نظرانداز کیا گیا جس کی وجہ سے لوگو ں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اس دوران کرالہ پورہ علاقہ میں سومو ایسوسی ایشن اور میٹاڈار ایسوسی ایشن نے ملکر رضاکارانہ طور بس اڈے تک جانے والی سڑک پر رو ڈی بچھا دی کیونکہ اس سڑک کی حالت نا گفتہ بہہ تھی ۔اس سے قبل بھی سومو ایسوسی ایشن نے علاقہ کی کئی سڑکو ں کو اپنی مدد آپ کے جذبے کے تحت آمد و رفت کے قابل بنا یاتھا ۔کرالہ پورہ سے گزریال سڑک اس قدر تباہ ہے کہ جگہ جگہ گہرے کھڈ بن  چکے ہیں اور منٹو ں کا سفر گھنٹو ں میں طے ہوتا ہے ۔درد سن ،ریشی گنڈ ،وارسن اور گزریال کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ محکمہ آر اینڈ بھی حکام کو سڑک کی مرمت کے لئے مطالبہ کیا گیالیکن انہو ں نے کوئی توجہ نہیں دی ۔ان علاقوں کے باشندوں کا کہنا ہے کہ بارشو ں کے دوران اس سڑک پر  عبور و مرور مشکل بن جاتا ہے ۔ادھر ترہگام کنن پوشہ پورہ سڑک کی حالت بھی خراب ہے ۔مقامی مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ 3سال کے دوران اس سڑک کی مرمت کبھی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے گا ڑیو ں کی نقل و حمل اکثر و بیشتر متا ثر رہتی ہے اور اس سڑک پر ٹرانسپورٹرو ں نے بھی اب چلنے سے انکار کیا ہے ۔لولاب وادی کے گنڈ مانچھر لال پورہ اور کپوارہ لولاب سڑکوں کی حالت بھی نا گفتہ بہہ ہے ۔ان علاقوں کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ سڑکیں جگہ جگہ تباہ ہوچکی ہیں لیکن متعلقہ محکمہ سڑک کی مرمت کے لئے کوئی اقدام نہیں کررہا ہے اور آئے روز ان سڑکوں کی حالت مزید خراب ہوتی ہے ۔کیرن کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ ڈٹہ برنج سے کیرن تک کی سڑک اس قدر خستہ حالت میں ہے کہ لوگ اس پر سفر کرنے کے دوران خوف کے مارے سہم کر رہ جاتے ہیں ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ محکمہ بیکن اگرچہ ہر سال سڑک کو ٹھیک کرنے اور اس کو کشادہ کرنے کا یقین دلاتا ہے لیکن ڈٹہ برنج سے کیرن تک اس سڑک پر بیکن کی سر گرمی کہیں پر بھی دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ضلع کے ان علاقوں کے لوگو ں نے مطالبہ کیا کہ موسم میں بہتری آنے کے بعد ان سڑکو ں کو آمدو رفت کے قابل بنایا جائے تاکہ برف باری کے دوران عوام کو دقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
 
 
 
 

کرناہ میں انتظامیہ نے موسم سرماکے پیش نظر انتظامات کا جائزہ لیا 

اشرف چراغ 
کپوارہ//شمالی ضلع کپوارہ کے سرحدی علاقہ کرناہ میں موسم سرما کے پیش نظر سب ڈویژنل مجسٹریٹ گلزار احمد راتھر کی صدرات میں ایک میٹنگ میںانتظامات کا جائزہ لیا گیا ۔میٹنگ کے دوران سب ڈو یژنل مجسٹریٹ نے موسم سرما کے دوران لوگو ں کیلئے دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا گیا جس میں چاول ،مٹی کا تیل اور رسوئی گیس خاص طور سے شامل ہے ۔ ایس ڈی ایم کو موسم سرما میں غذائی اجناس اور دیگر ضروریات زندگی سے متعلق مکمل طور جانکاری فراہم کی گئی ۔ سرحدی علاقہ میں جون2022تک غذائی اجناس کے ساتھ ساتھ دیگر ضروریات زندگی جس میں رسوئی گیس اور مٹی کا تیل شامل ہے ،کو ذخیرہ کیا گیا ہے جبکہ ایڈیشنل کو ٹا کو بھی آنے والے دنو ں میں جمع کیا جارہا ہے ۔جانکاری کے دوران کہا گیا کہ اس وقت کرناہ میں 13030کوئنٹل چاول ،1173کوینٹل آٹا ،122کوینٹل کھانڈ، 64000لیٹر مٹی کا تیل اور 6570گیس سیلنڈر موجود ہیں جبکہ آنے والے وقت میں ایڈیشنل کو ٹا بھی جمع کیا جارہا ہے جس میں 20000کوینٹل چاول ،24000گیس سیلنڈر شامل ہیں تاکہ کرناہ کے عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔سب ڈویژنل مجسٹریٹ نے انتظامیہ اور گیس ڈیلروں کو ہدایت دی کہ موسم سرما کے دوران لوگو ں کو کسی بھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔انہو ں نے کہا کہ نومبر کے وسط تک ایڈیشنل کو ٹا بھی جمع کیا جائے گا اور انتظامیہ چاہتی ہے کہ لوگو ں کو موسم سرما کے دوران بہتر ضروریات زندگی میسر ہوں ۔