کپوارہ، کوکرناگ ،پٹن، پیر پنچال، کرگل اور بٹالک میں 3لقمہ اجل،3فوجیوں سمیت 7لاپتہ

سرینگر//وادی میں لگاتار موسلا دھار بارشوں کے بعد جہلم اور دیگر ندی نالوں میں سطح آب خطرے کے نشان کو عبور کر گیا ہے جس کے بعد انتظامیہ نے وادی میں سیلاب کا  اعلان کردیا ہے۔انتظامیہ نے وادی میں سیلاب کے حوالے سے الرٹ جاری کرتے ہوئے دریائے جہلم اور ندی نالوں کے کناروں پر رہائش پذیر لوگوں کو خبردار رہنے کیلئے کہا ہے۔ چیف انجینئرمحکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کے مطابق جمعرات شام8بجے سطح آب کی جو پیمائش کی گئی اس کے مطابق سنگم پر دریائے جہلم میں20.7فٹ جبکہ رام منشی باغ میں18.55فٹ اورعشم میں10.41فٹ ریکارڑ کی گئی۔نالہ ویشو میں 7.61میٹر،رنبی آرہ میں وچی کے مقام پر2.13میٹراور نالہ لدر میں1.10میٹر ریکارڈ کیا گیا۔سنگم میں23فٹ،رام منشی باغ میں19اور عشم میں15فٹ کی سطح آب خطرے کی نشانی قرار دی گئی ہے۔اس دوران بارشوں کے قہر نے جنوب و شمال میں تباہی مچائی ہے۔ پانی میں غرقآب ہونے، مکانات ڈھہ جانے اور دیگر حادثات میں3افراد ہلاک جبکہ 5فوجیوں سمیت9افراد لاپتہ ہوگئے ہیں۔اس دوران بمنہ سمیت درجنوں علاقوں میں پانی بستیوں میں داخل ہوگیا اور تیز ہوائوں اور بارشوں کی وجہ سے سینکڑوں رہائشی مکانات اور دیگرڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچا،کئی سڑکیں اور پل بھی پانی کے تیز بہائو کے نذر ہوگئے ہیں۔جنوبی کشمیر کے کو ڈانڈپورہ کر ناگ علاقے میں ایک گاڑی نالہ برنگ میں گر گئی جس میں سوار6مسافروں کو اگر چہ بچایا گیا تاہم 2 پانی کے تیز بہائو میں گم ہوگئے۔کرگل میں شدید برفباری اور بارشوں نے قہر مچادیا اور ایک رہائشی مکان ڈھہ جانے سے دوشہری ملبے کے نیچے آگئے ہیں۔ادھر بٹالک سیکٹر میں برفانی تودہ گرنے سے 5فوجی اس کی زد میں آگئے جن میں سے 2کو بچا لیا گیا۔پٹن علاقے میں ترسیلی لائن گرنے سے ایک نوجوان کی موت واقع ہوئی ہے۔ادھرخطہ پیر پنچال اور چناب میں سیلابی بارش کی وجہ سے ایک کی جان گئی جبکہ مزید2لاپتہ ہوئے ہیں۔
سرینگر
میدانی علاقوں میں48گھنٹوں سے جاری بارشوں کی وجہ سے سیلاب جیسی صورتحال کا امکان پیدا ہوا ہے۔سرینگر کے پائین شہر اور سیول لائنز علاقوں کے مضافاتی علاقوں میں صورتحال مخدوش نظر آرہی ہیں جبکہ کئی علاقوں میں بارشوں کا پانی داخل ہوا ہے۔جمعرات کی صبح کو سرینگر کے بمنہ علاقے میں ہمدانیہ کالونی میں پانی داخل ہوا ۔ علاقے میں قائم امام حسین اسپتال میں زیر علاج مریضوں کو بالائی منزلوں میں منتقل کیا گیا جبکہ ہمدانیہ کالونی میں رہائش پذیر بیشتر لوگ دوسری منزلوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔مہجور نگر،اندرانگر،شیوپورہ،ابوبکر کالونی،نائک باغ،قمرواری، برتھنہ، پادشاہی باغ، آلوچی باغ،ایچ ایم ٹی،پی سی ڈیپو، فردوس کالونی عیدگاہ، علی جان روڑ،خانیار سمیت دیگر علاقوں میں بارشوںکا پانی داخل ہوگیا ہے۔ ادھر غوثیہ کالونی کنی پورہ ، بڈشاہ نگر نٹی پورہ ، نوگام بونہ پورہ ،خان محلہ اور مدینہ باغ چھانہ پورہ کی بستیوں میں بھی بارشوں کا پانی داخل ہوا ہے۔ تجارتی مرکز لالچوک ،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ ،مگر مل باغ ،ناز کراسنگ ،لل دید روڑ ،بڈشاہ چوک ،ریذیڈنسی روڑ ،مولا نا آزاد روڑ ،سرینگر ائر پورٹ روڑ،صنعت نگر،کرن نگر سمیت کم وبیش تمام سڑکیں اور بازار زیر آب آگئے ہیںجسکی وجہ سے کئی بازار بھی بند رہے ۔سڑکوں اور شاہراہوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی آوا جاہی بھی بری طرح متاثر رہی۔
گاندربل
نامہ نگار غلام نبی رینہ کے مطابق جاری موسلادھار بارشوں کے بعد بدھ کی رات سے ہی سونہ مرگ، زوجیلا، گمری، منی مرگ، گگن گیر،کلن، گنڈ، گنہ ون، کنگن اور دیگر علاقوں میں شدید برفباری کا سلسلہ شروع ہوگیا۔کلن ،ریزن کے مقامات پر سڑک پر شدید برفباری کے نتیجے میں درخت اکھڑ گئے اور شاہراہ پر ٹریفک کی آواجاہی میں رکاوٹ پیدا ہوگئی۔ایس ڈی ایم کنگن پیر زادہ منظور نے بتایا کہ مچھکن وانگت میں عبدالقیوم گوجر موٹا ولد عبدالرشید گوجر موٹا کے دو منزلہ رہائشی مکان کے اوپر درخت گر گیا جس کے نتیجے میں رہائشی مکان کو نقصان پہنچا ہے جبکہ شوکت احمد پختون ولد عمر کھٹانہ پختون ساکنہ وانی آرا وانگت کنگن کے رہائشی مکان کو بھی نقصان پہنچا ۔ اس دوران سرینگر سونہ مرگ شاہراہ کو دوبارہ گاڑیوںکی آمد رفت کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ سونہ مرگ میں تین فٹ ، گگن گیرمیں ڈیڈفٹ،کلن اور گنڈ میں 6 اینچ ،گنہ ون، 4 اینچ تازہ ،وانگت میں ایک فٹ برفباری ریکارڑ کی گئی ۔ ضلع انتظامیہ گاندربل نے ان علاقوں میں برفانی تودے گر آنے کی وارنگ جاری کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیات کریں اور پہاڑوںکی طرف جانے سے گریز کرے ۔ شدید برفباری کی وجہ سے 6.5کلو میٹر طویل زیڈ موڈٹنل پر احتیاتی طور کام بند کردیا گیا ہے۔
بڈگام
 بڈگام کے بٹہ پورہ کھاگ علاقے میں میں ایک اخروٹ کا درخت رہائشی مکان پر گر گیا جس کی وجہ سے مکان مکمل طور پر تباہ ہوا۔ متعلقہ نائب تحصیلدار نے بتایا کہ اخروٹ کے درخت گرنے کی وجہ سے نذیر احمد پرہ کے مکان کو شدید نقصان پہنچا۔ دریہ گام کے بٹ محلہ میں  بھی ایک مکان کو نقصان پہنچا جبکہ لولی پورہ چاڈورہ میں ایک گائو خانہ کو نقصان پہنچا۔ کائووسہ ماگام  میں اس وقت صورتحال کشیدہ ہوئی جب نالہ سکھناگ میں طغیانی آگئی اور اس کا پانی رہائشی کالونیوں کے اندر گھس گیا ۔ جس کے بعد انتظامیہ اور پولیس کی ٹیمیں حرکت میں آگئی ۔بڈگام کے ہاکر محلہ ،سیو بگ ، آڑنہ ماگام اور واتھورہ چاڈورہ میں پانی کی سطح بڑھ جانے سے پانی مکانوں کے اند داخل ہو گیا ہے۔
بارہمولہ
بارہمولہ کے کئی علاقوں میں تیز ترین بارش اور برفباری کی وجہ سے کئی رہائشی علاقے زیر آب ، سڑکیں جھیلوںمیں تبدیل ،جبکہ کئی علاقے ضلع صدر مقا مات سے منقطع ہوگئے ہیں۔نامہ نگار فیاض بخاری کے مطابق بارہمولہ کے شیری ،فتح گڈھ ،ملپورہ آڈورہ ، گانٹہ مولہ ،نوشہرہ ،زہن پورہ، خادنیارد ، درنگ بل ،کنڈی اورحاجی بل کے علاوہ کئی علاقوںمیں صورتحال انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہیں۔ نامہ نگار غلام محمد کے مطابق  سوپور قصبہ کی سڑکیں اور گلی کوچے زیر آب آگئے ہیں۔ بارہمولہ میں متعدد رہائشی مکانوں اور ایک مسجد شریف کو بھی شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں نقصان پہنچا ہے ۔جامع مسجد دلنہ بارہمولہ کا ایک حصہ شدید بارشوں کے نتیجے میں منہدم ہوا ۔پٹن کے کریپال پورہ ، ہامرے ، اقبال کالونی اور ہانجی ویرہ ریہائشی علاقہ جات زیر آب آگئے ۔مقامی لوگوں کے مطابق کئی مکانوں کو جزوی طور نقصان بھی پہنچا جبکہ ایک مسجد کا حصہ بھی منہدم ہوا ۔ اقبال کالونی پٹن میں مسجد شریف کو شدید نقصان پہنچا ۔ادھر غلام محمد کے مطابق ہامرے پٹن میں ایک نوجوان جاںبحق ہوا اور 2 دیگر زخمی ہوئے ۔ عاقب منظور راتھر ولد منظور احمد راتھر ساکنہ اجس بانڈی پورہ 8 دوستوں کے ہمراہ پٹن میں فوجی بھرتی ریلی میں شرکت کرنے کے لئے جارہا تھا جس دوران اندر گام کے قریب سومو گاڑی سڑک پر پانی جمع ہونے کے نتیجے میں بند ہوئی ۔ عاقب نے سومو گاڑی کی کھڑکی کھول دی اور گاڑی کو آگے بڑھانے کیلئے اسے دھکا لگانے کی کوشش کی اور جوں ہی اس نے پانی میں چھلانگ لگائی تو ترسیلی لائن کے ساتھ ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں کرنٹ لگنے سے اس کی موقعے پر ہی موت واقعہ ہوئی ۔ اس دوران سنگرامہ میں ایک گاڑی پر سفیدے کا درخت گرآنے کے نتیجے میں اس میں سوار 3 افراد زخمی ہوئے ۔ گاڑی زیر نمبر JK05C/1198  میں سوارتجمل اور عبدالحمید نامی زخمیوں کو سرینگر منتقل کیا گیا جبکہ گاڑی کا ڈرائیور بلال احمد کو معمولی چوٹیں آئی ۔نامہ نگار فیاج بخاری کے مطابق نارواو کے کئی علاقوںکے لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ میں زمین، میوہ باغات اورسبزی کے کھیتوں کو پانی اور برفباری نے شدید نقصان پہنچا ہے ۔ حاجی بل علاقے میں8 انیچبرف ریکاڑ کی گئی۔  دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ علاقے نارواو کے کئی چھوٹے بڑے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے۔ادھرنامہ نگار مشتاق الحسن کے مطابق ایس ڈی ایم ٹنگمرگ عبدالعزیز راتھر نے بتایا کہ گلمرگ روڈ پر کم وبیش 60 کے قریب درخت گر گئے جنھیں روڈ سے  ہتانے کیلئے محکمہ آر اینڈ بی مصروف عمل ہے۔ ایس ڈی ایم ٹنگمرگ نے مزید بتایا کہ گلمرگ کے ہوٹلوں میں ٹھہرے ہوئے سیاحوں کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوے انھیں ہوٹلوں میں قیام کرنے کی صلاح دی گئی ہے ۔ گلمرگ میں2فٹ بابا ریشی ڈیڑھ فٹ اور ٹنگمرگ میں 7 انچ تازہ برف ریکارڈ کی گئی ۔
کپوارہ
 نامہ نگار اشرف چراغ کے مطابق پائر پورہ ہایہامہ میں اس وقت کہرام مچ گیا جب ایک کمسن بچی مقامی نالے میں غرقآب ہو گئی ۔ محمد سلیم میر کی 10 سالہ کمسن بچی شبانہ سلیم جمعرات کی شام 6 بجے اپنے مکان کے نزدیک گزرنے والے نالہ کے قریب گئی جہاں اس کا پیر پھسل گیا اور وہ نالہ میں ڈوب گئی ۔آخری اطلاعات ملنے تک لاش کو بر آمد نہیں کیا گیا ۔ ضلع کے اوپری علاقوں میں 6سے8انچ برف ریکارڈ کی گئی جبکہ کپوارہ ،ترہگام ،ہندوارہ اور لنگیٹ قصبو ں میں 4انچ برف جمع ہوئی۔ سرحدی علاقوں جن میں کرناہ اور کیرن کی سڑکیں دو بارہ بند ہوگئی ہیں۔ کرناہ کے نستہ ژھن (سادھنا گلی)پر1فٹ ،فرکیاں اور مژھل کی زیڈٖ گلی پر 10انچ برف ریکارڈ کی گئی ۔ کرناہ ،کپوارہ شاہرہ ایک مرتبہ پھر گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند پڑی ہے ۔ ٹیٹوال سے ٹنگڈار جانے والی رابط سڑک بھی کلٹھا کے مقام پر بھاری پسیاں گر آنے کے سبب گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بند ہو گئی ہے۔  ضلع کے اہم نالو ں  ماوری ،لولاب ،پہرو ،ہد ،ہایہامہ اور کہمیل میں پانی کی سطح بڑھ جانے کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ج۔ادھر نالہ ماور ی کے نزدیک کئی بستیا ں زیر آب آ چکی ہیں ۔نالہ پہرو کے کنارے کاواری اور ہتمولہ میں سیلابی صورتحال بنی ہوئی ہے اور ضلع انتظامیہ نے ان مقامات پر نصف درجن کنبوں کو محفوظ مقا مات کی طرف منتقل کیا ہے ۔ضلع کے لولاب علاقے سے اطلاعات ہیں کہ حیات پورہ خان چک اور گنڈ مانچھر میں سیلابی صورتحال سے یہ علاقہ کٹ کر رہ گئے ہیں جبکہ دیور میں مشتاق احمد لون ے مکان پر درخت گر آنے سے نقصان پہنچ گیا تاہم مقامی لوگو ں نے مکینو ں سے صحیح سلامت باہر نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا ۔ہلمت پورہ اور ہرل مونہ بل میں پسیا ں گر آئیں۔گلگام کپوارہ میں زمین کھسکنے سے ایک بھاری پتھر محمد گلزار میر کے مکان پر گر آیا جس کے نتیجے میں مکان کو کافی نقصان پہنچ چکا ۔ گنڈ کمال لنگیٹ میں راج محمد کا مکان سفیدے کے گر آنے کے زد میں آگیا اور اس میں اہل خانہ معجزانی طور بچ گئے ۔ 
بانڈی پورہ
 نامہ نگار عازم جان کے مطابق حاجن نائدکھے ،صدر کوٹ بالا ،اجس، کلوسہ ،پتوشی، اونگام، ملنگام، آلوسہ، کٹسن، بنہ کوٹ ،سمبل کی رابطہ سڑکیں  دشوار گذار بن گئی ہیں۔بانڈی پورہ بازار سے دارلرحیمہ فیض عام ہائی سکول سے گزرنے والی انتہائی نا گفتہ بہ رابطہ سڑک طلاب عام راہگیروں کے لیے عذاب دہ بن گئی ہے ضلع کی اہم شاہراہ صدرکوٹ بالا کے مقام پر مٹی کا بھاری تودہ گرجانے سے سڑک بند ہوگئی ہے ۔ سوناواری اور بانڈی پورہ تحصیل کے نشیبی بستیاں زیر آب آگئی ہیں ۔گریز وتلیل میں برف باری مسلسل ہوری ہے داور گریز میں ایک فٹ برف تلیل میں سوافٹ اور رازدھان ٹاپ پر پونے دو فٹ برف جمع ہوئی ہے۔
پلوامہ
پلوامہ کوکو باقی اضلاع سے ملانے والے سڑکیں زیر آب آنے کے علاوہ کئی مقامات پر سڑکیں ڈھ گئی ہیںتیز بارشوں کے سبب نالہ لار کا پانی کناروں کے اوپر سے بہنے لگا ہے۔جس کے نتیجے میں رتنی پورہ، گلہ بگ، ہانجی پورہ، پاہو، سمیت درجنوں دیہات میں سیلاب کا خطر ہ لاحق ہو گیا ہے۔نائینہ سے لیتہ پورہ تک جہلم کے نزدیک درجنوںدیہات کے لوگ صبح سے ہی ضروری اشیاء سمیٹ کر یہاں سے کوچ کر نے لگے ہیں۔ اس دوران پاہو سے کاکہ پورہ، قوئل سے وندکھ پورہ ،پدگام پورہ اور چرسو وغیرہ علاقوں کے کھیت پوری طرح سے زیر آب ہیں۔ رہمو، آرہ بل اور چھتر پورہ ڈائوریژ نوں کے علاہ ترگہ زالاور حول پورہ راجپورہ پل بھی ڈہہ گئے ہیں۔ترال میں گزشتہ دو روز سے جاری تیز بارشوں کے بعد نالہ چندری پر موجودعارضی پل پھر ایک بار تیز بہاو والے پانی نے بہا لیا ہے جس کی وجہ سے ڈاڈسرہ،چندری گام ،ناو پورہ،امیر آبادی،ہرد میر ،املر ترال وغیرہ گاوں کو اونتی پورہ اور باقی علاقوںکے ساتھ براہ راست رابطہ منقطع ہو گیا ہے ۔ نامہ نگار سید اعجاز کے مطابق لال پورہ ہلیل ترال میں تیز ہواوں کی وجہ سے قاسم گوجر نامی ایک شہری کے رہائشی مکان کا چھت ہوا میں آرجانے کے بعد تیز بارشوں کی وجہ سے مکان کو زبردست نقصان پہنچ نے کے بعد کنبہ بے گھر ہوا ہے۔ علاقے میں بادام کے باغات کو تازہ بے وقت برف بھاری کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے ۔پانپور سے ملی اطلاعات کے مطابق علاقے میں نکاس آب کا بہتر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے پانی سڑکوں پر آنے کے بعد رہائشی مکانوں کے اندر داخل ہوا ہے ۔ ترال میں برف بھاری کی وجہ سے ایک رہائشی مکان ،کے علاوہ بادام کے باغات اور سرسوں کے کھیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔
کولگام و شوپیاں
 کولگام کے کئی زمینی رابطے منقطع ہوئے ہیں جبکہ ضلع بھر میں نالہ ویشنو میں طغیانی آنے سے کئی چھوٹے پل اور پگڈنڈیاں ڈھہ گئیں جس کے نتیجے میں کئی علاقوں کا ہیڈ کوارٹرسے زمینی رابطہ منقطع ہوا۔نامہ نگار خالد جاویدکے مطابق نالہ ویشنو میں طغیانی آنے کے نتیجے میں نور آباد کولگام روڑ پرسڑک کھسکنے کے نتیجے میں زمینی رابطہ منقطع ہوا ۔ استھل گائوں میں 2014 جیسی سیلابی صورتحال پیدا ہونے سے کئی علاقوں کا ضلع ہیڈکوارٹر سے زمینی رابطہ منقطع ہوا ۔  یہ گائوں نالہ ویشنو پر آباد ہے اور یہ مکمل طور پر زمینی رابطہ سے منقطع ہوگیا ۔ سیلابی ریلوں نے یہاں جانے والے راستے کو ہی اپنے ساتھ بہا لیا ۔ اسی طرح یارو گائوں کھوری بٹہ پورہ میں بھی نقصانات پہنچنے کے اطلاعات ہے۔ ۔نالوں کے کناروں پر رہائش پذیر لوگوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ اپنا سامان اٹھا کر نقل مقانی کر رہے ہیں۔ چک رنبیرر پورہ دمہال میں چار رہاشی مکانوں کو نقصان پہنچاہے جبکہ لائیسو اور ممی ڈولہ کے نزدیک نالہ سونہ من کا باندھ ٹوٹ گیا ہے جس کی وجہ سے نزدیکی بستیوں میں پانی داخل ہواہے تاہم ان کی فوری طور مرمت کی گئی۔
اسلام آباد(اننت ناگ)
 جنوبی ضلع اسلام آباد(اننت ناگ) میں بھی  بارشوں کی وجہ سے صورتحال مخدوش ہوگئی ہے جبکہ چوراہوں اور سڑکوں پر پانی جمع ہوا۔نامہ نگار ملک عبدالسلام کے مطابق نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے عبور ومرور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔کوکرناگ میں ایک سومو گاڑی نالہ برنگی میں گر گئیں ،جس میں 8افراد سوار تھے ،جن میں سے 6 مسافروں کو بچایا گیا جبکہ آخری اطلاعات ملنے تک ڈرائیور سمیت2افراد لاپتہ ہے ۔نامہ نگار عارف بلوچ کے مطابق ایس ایچ او کوکر ناگ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 5مسافروں جن میں محمد عبداللہ وانی ساکنہ بدہاڑ،ارشاد احمد خان ساکنہ گڈول،نزہت بانو ساکنہ وتناڈ،فیصل احمد بٹ ساکنہ وتناڈ اور حسینہ ساکنہ وتناڈ شامل ہیں کو بچالیا گیا ہے ،جن کو علاج معالجہ کیلئے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔
پیر پنچال
 پیر پنچال اور وادی چناب میں بھی شدید بارشوں اور ژالہ باری کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آنے سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔  بدھل راجوری میں 37 سالہ خاتون بیگم آسمانی بجلی کی زد میں آئی اور اس کی موت واقعہ ہوئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ راجوری ، توی اورپونچھ ، توی نالوں میں شدید بارشوں کے بعد طغیانی آئی ہے اور اس کا پانی کئی رہائشی کالونیوں میں گھس گیا ہے ۔ پونچھ میں 20 سے لے کر 25 افراد درماندہ ہوکر رہ گئے ہیں کیونکہ سیلابی ریلوں نے علاقے کا زمینی رابطہ منقطع کر دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ راجوری ، پونچھ اور سرنکوٹ میں کئی جگہوں پر سیلابی پانی سے زمینی رابطے منقطع ہوگئے ہیں ۔ اس دوران ریاسی میں سیلابی پانی کے ریلوں کے نتیجے میں 40 مویشیوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہے۔  منڈہار پونچھ میں بھی کئی بازار آب آگئے اور یہاں تاجروں کو شدید نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے ۔  وادی چناب کشتواڑ ،ڈوڈہ ،رام بن میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کی اطلاعات ہیں۔
محکمہ موسمیات و انتظامیہ
 محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹرسونم لوٹس نے جمعہ سے مجموعی طورموسمی صورتحال میں بتدریج بہتری آنے کا  امکان ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ بارشیں ،برفباری اورتیزہوائیں چلناغیرمتوقع نہیں ہے کیونکہ اس حوالے سے پہلے ہی موسمی ایڈوائزری جاری کردی گئی تھی ۔صوبائی انتظامیہ نے اگلے 24گھنٹوں تک کولگام ، پلوامہ بارہمولہ ، کپوارہ ، بانڈی پورہ ، گاندربل کے علاوہ کرگل ضلع کے بالائی علاقوں میں پسیاں اور پتھر گرنے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے اور ان علاقوں کے لوگوں کو احتیاط برتنے کی تلقین کی ہے۔