کپوارہ، لنگیٹ، سوگام اورلالپورہ میں آبادیوں پر کاقہر

کپوارہ// برفباری اور موسلا دار بارشو ں کی وجہ سے کپوارہ کے ندی نالو ں میں پانی کی سطح کم ہوگئی ہے اور سیلابی خطرہ ٹل گیا تاہم لولاب وادی اور قاضی آ باد لنگیٹ میں بھاری پیمانے پر تباہی مچ گئی ۔مسلسل بارشو ں اور برفباری کے بعد کپوارہ ضلع کے ندی نالو ں میں طغیانی صوتحال پیدا ہو گئی تھی اور بدھ کی شام کو پائر پورہ ہایہامہ میں ایک 10سالہ کمسن بچی نالہ سیلابی پانی میں ڈوب کے لقمہ اجل بن گئی جس کی لاش رات دیر گئے پائر پورہ سے تین کلو میٹر دور با با پورہ کے مقام سے نالہ سے بر آمد کی اور دوران شب ہی اسے دفن کیا گیا ۔چوپان محلہ سہی پورہ میں سیلابی پانی مکانوں میں گھسنے سے کافی نقصان پہنچا اور مکینوںنے دیگر مقامات پر رات گذاری۔ ہلمت پورہ ہایہامہ میں زمیں کھسکنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب لوگو ں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ کئی کنبے مکانو ں کو چھو ڑ کر رشتہ داروں کے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں ۔لنگیٹ اور اس کے مضافاتی علاقوں کے علاوہ سوگام ،کپوارہ اور لالپورہ تحاصیل میں 90رہائشی مکانات جزوی یا مکمل طور تباہ ہوئے ہیں ان میں لنگیٹ کے وہی پورہ میں 5جزوی ،یارو 2مکمل ،5جزوی ،لنگیٹ 6جزوی ،نو گام 1مکمل ،2جزوی ،2گائو شیڈ ،ہرل 2جزوی ،گلورہ 11جزوی 7گائو خانہ ،قلم آ باد 3جزوی 2گائوخانہ ،سنزی پورہ 2جزوی ،ولر ہامہ 4جزوی2گائو خانہ ،ہانگا6جزوی ،وڈی پورہ 1مکمل 7جزوی5گائو خانہ ،یارو 2مکمل 5جزوی تباہ ہوگئے ہیں کپوارہ تحصیل میں 20مکانو ں کو جزوی طور نقصان پہنچ چکا ہے ۔ اس دوران سوگام اورلال پورہ میں 8مکانو ں کو جزوی طور نقصان سے دو چار ہوئے ہیں۔ ضلع کے باقی علاقوں میں اب تک نقصان کا جائزہ لینے کے لئے ضلع انتظامیہ کی ٹیمیں تفصیلات جمع کرنے میں مصروف ہیں ۔نالہ لولاب میں زبردست طغیانی کے نتیجے میں کا نٹھ پورہ کے دو حصوں کو ملانے والا پل سیلاب میں بہہ گیا ہے جس کی وجہ سے کانٹھ پورہ کا ایک حصہ دیگر علاقوں سے کٹ کر رہ گیا ۔مقامی لوگو ں نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ کئی سال قبل سرکار نے کانٹھ پورہ کے دو حصوں کو ملانے کے لئے ایک نئے پل بنانے کا کام جے کے پی سی سی کو دیا اور محکمہ نے دس سالو ں کے دوران محض پل کے تین ستون تعمیر کئے تاہم لوگ جان ہتھیلی پر رکھ لکڑی کے عارضی پل سے گزر رہے تھے اور آج کا نٹھ پورہ کے دو حصوں کو ملانے والے اس عارضی پل کو بھی سیلاب نے اپنے ساتھ بہا لیا اور کا نٹھ پورہ کے ایک حصہ کے لوگ دو روز سے اپنے گھرو ں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں جبکہ یہ حصہ باقی علاقوں سے مکمل طور کٹ کر رہ گیا ۔لولاب کے سوگام ٹکی پورہ سڑک گزشتہ دو روز سے زیر آب ہے جس کے نتیجے میں گنڈ مانچھر ،خان چک سمیت کئی علاقے کٹ کر رہ گئے ۔ادھر رامحال ،راجواڑ ،ماگام ،لنگیٹ ،قاضی آباد ،کرالہ گنڈ علاقوں میں موسلا دار بارشوں اور برفباری سے میوہ باغات کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے کسانو ں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے ۔کپوارہ میں سیلاب سے ہوئے نقصانات کے حوالے سے جب ضلع ترقیاتی کمشنر کپوارہ غلام محمد ڈار سے رابطہ کیا گیا تو انہو ں نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ ابھی تک ان کو تمام علاقوں کی تفاصیل نہیں ملی ہیں اورآئندہ ایک روز میں پورے ضلع میں نقصانات مکمل پتہ چلے گا اورضلع میں کافی نقصان ہو گیا ہے۔آخری اطلاعات ملنے تک ضلع میں نقصان کے بارے میں مزید اطلاعات کے مطابق ضلع میں 8 پل، 55 سڑکوں اور 12 ٹرانسفارمروں کو بھی نقصان پہنچ چکا ہے۔